کیا علماء دیوبند نے انگریزی سیکھنے کو حرام قرار دیا تھا؟

   
تاریخ اشاعت: 
اگست ۱۹۹۰ء

سوال: مشہور ہے کہ علماء دیوبند نے انگریزی زبان سیکھنے کو حرام قرار دیا تھا، اس کی حقیقت کیا ہے؟ (اللہ وسایا قاسم، جہانیاں)

جواب: یہ بات غلط ہے، علماء دیوبند نے انگریزی زبان اور تعلیم کے جلو میں آنے والی یورپی تہذیب و ثقافت اور انگریزی ذہنیت و کلچر کی مخالفت ضرور کی ہے اور حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے بارے میں ان کا موقف درست تھا، لیکن بحیثیت زبان کے انگریزی کی مخالفت نہیں کی۔ چنانچہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے اس سلسلہ میں ایک استفتاء کے جواب میں مندرجہ ذیل صراحت کی ہے:

’’سوال: انگریزی پڑھنا اور پڑھانا درست ہے یا نہیں؟

جواب: انگریزی زبان سیکھنا درست ہے بشرطیکہ کوئی معصیت کا مرتکب نہ ہو اور نقصان دین میں اس سے نہ آوے۔‘‘ (فتاوٰی رشیدیہ ص ۵۶۰)

ان کے علاوہ دیگر اکابر نے بھی مختلف مواقع پر اسی موقف کا اظہار کیا حتٰی کہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے تو مالٹا کی نظربندی سے واپسی پر خود علماء کو ترغیب دی کہ وہ انگریزی زبان سیکھیں تاکہ نئے دور کے تقاضوں سے عہدہ برا ہو سکیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter