بیت المقدس اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی

   
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۱۹۹۶ء

روزنامہ جنگ لاہور ۶ دسمبر ۱۹۹۵ء کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضہ کو غاصبانہ قرار دیتے ہوئے اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، اور ان ممالک پر تنقید کی ہے جو اپنے سفارت خانے بیت المقدس میں منتقل کر رہے ہیں۔ یہ قرارداد ۱۶ اسلامی ملکوں نے پیش کی، اسرائیل نے اس کی مخالفت کی جبکہ امریکہ سمیت ۱۲ ممالک اجلاس سے غیر حاضر رہے۔

بیت المقدس جو مسلمانوں کے قبلۂ اول کی حیثیت سے عالمِ اسلام کی عقیدتوں کا مرکز ہے، ۱۹۶۷ء سے قبل اردن کے پاس تھا، اور ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے فوجی قوت کے بل پر اس پر قبضہ کر لیا اور اب اسے اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر اس پر مستقل قبضہ کو دنیا بھر سے تسلیم کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہت سے ممالک اپنے سفارتخانے بیت المقدس شہر میں منتقل کر کے اسرائیل کے اس دعوے کو تسلیم کر چکے ہیں جبکہ امریکہ بہادر بھی اپنا سفارتخانہ وہاں لے جانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

اس پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی یہ قرارداد بیت المقدس پر اسرائیل کے غاصبانہ تسلط اور مغربی ممالک کی طرف سے اس کی ناروا پشت پناہی کے خلاف عالمی رائے عامہ کے اجتماعی موقف کا اظہار ہے۔ لیکن خالی قرارداد کافی نہیں ہے، قراردادیں تو اس سے قبل بھی جنرل اسمبلی میں فلسطینی عوام کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف منظور ہو چکی ہیں، لیکن ان میں سے کسی پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ اور جب تک اقوام متحدہ پر امریکہ کی اجارہ داری قائم ہے، بیت المقدس، فلسطین، کشمیر، بوسنیا یا کسی بھی مسئلہ پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد ممکن نہیں ہے۔ اس لیے اگر مسلم ممالک ان معاملات میں مخلص اور سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے اقوامِ متحدہ کو امریکہ کے تسلط سے نجات دلانے کی کوئی راہ نکالنا ہو گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter