’’روشن خیالی‘‘ پر ایک نظر

   
تاریخ : 
۱۶ فروری ۲۰۰۷ء

افضال ریحان صاحب ہمارے محترم اور دانشور کالم نویس ہیں جو وسیع تر مطالعہ کی روشنی میں اپنے تاثرات اور خیالات سے قارئین کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ میں بھی ان کے کالموں کا اکثر مطالعہ کرتا ہوں اور بہت سی باتوں سے استفادہ کرتا ہوں، جبکہ بعض امور سے اختلاف بھی ہوتا ہے جو فطری امر ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے اپنے کالم میں اس سال حج بیت اللہ کے موقع پر سعودی عرب کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ کو موضوعِ بحث بنایا، جس میں شیخ موصوف نے مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ مغربی فکر و فلسفہ اور ثقافت کی یلغار سے خبردار رہیں، اور اس پس منظر میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’روشن خیالی‘‘ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ افضال صاحب نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ روشن خیالی تو تاریک خیالی کے مقابلے میں ہوتی ہے، اور اس کا مطلب جدیدیت اور جدید فکر کو قبول کرنا ہے، اس لیے روشن خیالی کو اسلام سے متصادم کہنا درست نہیں ہے، کیونکہ ان کے خیال میں اسلام جدید افکار کو اپنانے میں مانع نہیں۔

مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ افضال ریحان صاحب جیسا پڑھا لکھا دانشور بھی اس قدر بھولپن کا مظاہرہ کر سکتا ہے کہ ایک معروف اصطلاح کا اس کے عالمی عرف سے ہٹ کر اپنی طرف سے معنیٰ متعین کر کے گفتگو کو خود بحث میں ڈال دے۔ اس لیے کہ افضال صاحب محترم کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ جب کوئی لفظ کسی خاص مفہوم کے لیے اصطلاح کے طور پر متعین ہو جائے اور اس کا اسی معنی میں عام استعمال ہونے لگے، تو پھر نہ تو اس لفظ کے لغوی معنیٰ کا اعتبار باقی رہتا ہے اور نہ ہی اس کے عرف سے ہٹ کر اسے کسی نئے معنیٰ میں استعمال کرنے کی گنجائش رہ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر:
’’صلوٰۃ‘‘ کا لفظ عربی زبان میں دعا کے لیے استعمال ہوتا تھا، لیکن جب اسے اسلامی شریعت میں دو مخصوص معنوں کے لیے محدود کر دیا گیا تو اس کا لغوی معنیٰ اس سے مراد لینے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ لفظ اگر اللہ تعالیٰ کے لیے صلوٰۃ کے عنوان سے بولا جائے تو اس سے مراد نماز ہوتی ہے جو ہم ایک مخصوص انداز سے عبادت کے طور پر روزانہ ادا کرتے ہیں۔ اور اگر صلوٰۃ کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی اور پیغمبر کے حوالے سے استعمال ہو تو اس سے درود شریف مراد لیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ لفظ پہلے جس معنیٰ میں بھی تھا، مگر مسلمانوں میں اب اس سے یہی دو مفہوم مراد لیے جائیں گے، اور یہ لفظ جب بھی استعمال ہو گا ان میں سے کسی ایک معنیٰ میں استعمال ہو گا۔

ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے کہ جب کوئی لفظ کسی خاص معنیٰ کے لیے اصطلاح کے طور پر متعین ہو جائے تو اس کے مفہومِ مخالف کا اعتبار باقی نہیں رہتا۔ مثلاً ’’پاکستان‘‘ کا معنیٰ ہے پاک ملک، اور یہ ۱۹۴۷ء میں اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی اس ریاست کے لیے مخصوص ہو گیا ہے، تو اب جہاں بھی یہ لفظ بولا جائے گا اس سے مراد یہی ملک ہو گا، اس لفظ سے اس کے لغوی معنیٰ مراد نہیں ہوں گے۔ اور اس کے لغوی معنیٰ کا اعتبار کر کے اس کے برعکس کسی بھی مفہومِ مخالف کا اطلاق بھی نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی صاحب افضال ریحان صاحب کی طرح یہ کہہ دیں کہ چونکہ پاکستان کے مفہوم کا مخالف مفہوم ’’ناپاک ملک‘‘ ہے، اس لیے جو پاکستان نہیں ہے وہ پاک ملک نہیں ہے، تو ان کی اس بات کو کوئی ہوشمند شخص قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔

اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ روشن خیالی کی اصطلاح جب استعمال ہو گی تو اسی مفہوم میں استعمال ہو گی جس کے لیے اسے مختص کر دیا گیا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ سعودی عرب کے مفتئ اعظم نے اسی مفہوم کو سامنے رکھ کر ’’روشن خیالی‘‘ کو اسلام سے متصادم قرار دیا ہے۔ اور ان کی اس بات سے یہ نتیجہ نکالنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ وہ خدانخواستہ تاریک خیالی کی حمایت کر رہے ہیں اور اس کا رشتہ اسلام سے جوڑ رہے ہیں۔

روشن خیالی (Enlightenment) کی اصطلاح خالصتاً مغربی اصطلاح ہے اور ہم نے بھی وہیں سے درآمد کی ہے۔ اس کا اطلاق اس فکری تبدیلی اور تہذیبی و ثقافتی انقلاب پر ہوتا ہے جو ایک طویل فکری جدوجہد کے بعد ’’انقلابِ فرانس‘‘ کے ذریعے رونما ہوا تھا۔ مغرب کے نزدیک تاریک دور اور روشن دور میں انقلابِ فرانس حدِ فاصل ہے کہ اس سے پہلے کے دور کو تاریکی کا دور کہا جاتا ہے، جہالت کا دور سمجھا جاتا ہے اور جبر کا دور تصور کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے بعد کے دور کو روشنی، علم اور عدل کے دور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مغرب نے بادشاہت، جاگیرداری اور پاپائیت کی تکون کے دور کو تاریکی کا دور قرار دیا اور اس سے نجات حاصل کر کے جو فکری اور ثقافتی انقلاب بپا کیا وہ مغرب کے ہاں روشنی کا دور کہلاتا ہے۔

مغرب نے اس فکری اور ثقافتی انقلاب میں سب سے بڑا کام یہ کیا کہ خدا، رسول، بائبل، چرچ اور وحئ آسمانی سے دستبرداری اختیار کی اور معاشرتی زندگی سے آسمانی تعلیمات کا رشتہ کاٹ دیا۔ مغرب اسے فکری آزادی کہتا ہے اور اسی فکری آزادی کو روشن خیالی قرار دے کر ہم سے تقاضہ کر رہا ہے کہ ہم بھی اس پراسیس سے گزریں جس سے مغرب گزرا ہے اور وہی کچھ کریں جو مغرب نے کیا ہے۔ مگر ہمارے لیے مغرب کے اس تقاضے کو قبول کرنا ممکن ہی نہیں ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مغرب کو یہ سب کچھ جن اسباب و عوامل کے باعث کرنا پڑا ہے، ہمیں ان سے کبھی سابقہ درپیش نہیں رہا، اور ہمیں اس قسم کی تبدیلی سے گزرنے کی قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مثلاً:

  1. مغرب کے پاس وحئ الٰہی اور پیغمبروں کی تعلیمات کا کوئی محفوظ اور مستند ذخیرہ موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے مذہب کی تعبیر و تشریح کا حتمی اختیار پوپ یا چرچ کو حاصل ہو گیا تھا، اور فائنل اتھارٹی دلیل کے بجائے شخصیت قرار پا گئی تھی، جس سے اجارہ داری کا ماحول قائم ہو گیا تھا اور اس سے پیچھا چھڑانا مغرب کی مجبوری بن گیا تھا۔ مگر ہمارے ہاں قرآن کریم، سنتِ نبویؐ اور سیرت ِطیبہ مستند اور محفوظ حالت میں اس اعتماد کے ساتھ موجود ہیں کہ کسی بھی مسئلہ پر پورے استناد کے ساتھ آسمانی تعلیمات کے اس سرچشمہ سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے، اور اس علمی ذخیرے کی موجودگی میں دلیل کے بجائے شخصیت کے حتمی اتھارٹی قرار پانے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ چنانچہ امت کے وہ امام جن کی اکثر امت تقلید کرتی ہے، ان کے قول کو بھی ان کے ماننے والے اس بنیاد پر ترجیح نہیں دیتے کہ وہ ان کے امام کا قول ہے، بلکہ ترجیح کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ان کے امام کی دلیل دوسروں کی بہ نسبت زیادہ قوی اور مضبوط ہے۔ اس لیے دینی تعلیمات سے پیچھا چھڑانے یا معاشرے میں دین کے کردار کو محدود کرنے کا یہ جواز ہمارے ہاں کسی درجہ میں بھی نہیں پایا جاتا۔
  2. مغرب کی دوسری مجبوری یہ تھی کہ جب سائنس کے ارتقا نے ایک خاص رخ اختیار کیا تو اندھی پیشوائیت نے سائنسی تحقیقات کو کفر کے مترادف قرار دے کر اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی، اور اس شعبہ میں کام کرنے والوں پر ارتداد کے فتوے عائد کر کے انہیں سزائیں دینا شروع کر دیں۔ جس کی وجہ سے سائنس اور مذہب کے اس باہمی معرکے میں یورپی معاشرے نے سائنس کے حق میں فیصلہ دے کر مذہب سے دستبرداری اختیار کر لی۔ جبکہ ہمارے ہاں یہ منظر بھی تلاش نہیں کیا جا سکتا کہ مذہبی پیشواؤں نے سائنس کی ترقی اور تحقیقات کو کفر قرار دیا ہو، یا اس کے خلاف محاذ آرائی کا ماحول قائم کیا ہو، اس لیے مغرب کے اس عمل کی تقلید کا یہ جواز بھی ہمارے ہاں موجود نہیں ہے۔
  3. مغرب کو اپنی مذہبی پیشوائیت سے یہ شکایت تھی کہ بادشاہ اور جاگیردارانہ نظام کے مظالم اور جبر میں مذہبی قیادت عوام کا ساتھ دینے کے بجائے ظلم اور جبر کی پشت پناہ بنی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے بادشاہت اور جاگیرداری کے ساتھ مذہب کے معاشرتی کردار کا خاتمہ بھی ضروری سمجھا گیا۔ مگر ہمارے ہاں یہ صورتحال بھی آپ کو ڈھونڈے سے نہیں ملے گی، بلکہ عوام پر اپنے بادشاہوں کا جبر و ظلم ہو، یا بیرونی آقاؤں اور نوآبادیاتی تسلط کاروں کا استبداد ہو، آپ کو پوری تاریخ میں اس جبر و استبداد کا مقابلہ کرنے والوں اور عوام کی آزادی کی جنگ لڑنے والوں میں دینی قیادت ہمیشہ ہراول دستہ کا کردار ادا کرتی نظر آئے گی۔ اس لیے مذہب یا مذہبی قیادت کو معاشرتی مسائل سے لاتعلق کرنے کا یہ بہانہ بھی ہمارے ہاں میسر نہیں۔
  4. پھر سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ مغرب نے آسمانی تعلیمات اور وحئ الٰہی کے معاشرتی کردار سے بغاوت کر کے جو نتائج حاصل کیے ہیں اور جو ماحول پیدا کیا ہے وہ ہمارے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔ مغرب نے سود کو دنیا پر مسلط کر کے پورے عالمی معاشی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی صنعت، معیشت اور تجارت پر چند ممالک کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے اور غریب ممالک و اقوام کی بے بسی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مغرب نے زنا اور ہم جنس پرستی کے راستوں سے رکاوٹیں دور کر کے اور انہیں فروغ دے کر فیملی سسٹم اور خاندانی رشتوں کو جس بری طرح سبوتاژ کر دیا ہے، اس کی دوبارہ شیرازہ بندی کا خود مغرب کو کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ جبکہ مغرب نے آسمانی تعلیمات کے بجائے مادہ پرستانہ مفاد پر مبنی اخلاقیات کا جو نظام گزشتہ دو تین صدیوں میں متعارف کرایا ہے اس نے افراد، طبقات اور ممالک و اقوام کی ہر سطح پر خود غرضی اور لوٹ کھسوٹ کا گلوبل کلچر کھڑا کر دیا ہے۔

اس لیے محترم افضال ریحان صاحب سے گزارش ہے کہ فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبۂ حج میں روشن خیالی کی مخالفت کی ہے تو اس کا مطلب تاریک خیالی کی حمایت نہیں ہے، اور نہ ہی وہ صحتمندانہ جدید افکار کو قبول کرنے میں کوئی رکاوٹ ڈال رہے ہیں، بلکہ ان کے پیش نظر روشن خیالی کا وہ مغربی تصور ہے جس کا ایجنڈا مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی اور اجتماعی زندگی میں آسمانی تعلیمات سے دستبرداری ہے، اور جس کا نتیجہ بے حیائی، زنا، سود، ہم جنس پرستی، اور مادر پدر آزادی کا فروغ ہے۔ جس سے نہ صرف دنیا کا معاشی توازن درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے بلکہ خاندانی نظام اور رشتوں کا تقدس بھی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

اور ہمارا خیال ہے کہ یہ بات بھی محترم افضال صاحب کے لیے نئی نہیں ہو گی کہ ہم نے تو دورِ جاہلیت کو اس وقت خیرباد کہہ دیا تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں یہ تاریخی اعلان فرمایا تھا کہ ’’جاہلیت کی تمام قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں‘‘۔ اس لیے ہماری روشن خیالی آسمانی تعلیمات سے دستبرداری میں نہیں بلکہ قرآن کی معجزانہ تعلیمات کے سامنے سر جھکانے میں ہے۔ اور ہماری روشن خیالی کا سرچشمہ مغربی دانشوروں کا فکر و فلسفہ نہیں بلکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نورانی تعلیمات اور پاکیزہ زندگی ہے۔ اس سرچشمۂ حیات سے مسلمانوں کو دور کرنے کی کوشش اگر روشن خیالی کے نام سے بھی کی جائے تو کیا وہ تاریکی اور جہالت کے سوا کسی اور عنوان کی مستحق قرار پائے گی؟

   
2016ء سے
Flag Counter