قادیانیت کے بارے میں جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

   
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۱۹۹۶ء

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ دنیا بھر کے علمی و دینی ادارے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے چکے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ اس فیصلہ کی توثیق کر چکی ہے اور دنیا کی بیشتر مسلم حکومتیں اس فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے قادیانیوں کے ساتھ غیر مسلموں والا معاملہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ لیکن قادیانی گروہ تکفیر کی تمام وجوہ کو تسلیم کرنے کے باوجود اپنے بارے میں ملتِ اسلامیہ کے اس اجماعی فیصلہ کو قبول کرنے سے انکاری ہے اور جہاں اسے موقع ملتا ہے اس ضد اور ہٹ دھری کے اظہار سے گریز نہیں کرتا۔

کچھ عرصہ قبل جنوبی افریقہ کے مسلمانوں نے قادیانیوں کو مسلم تنظیموں اور سوسائٹیوں میں شامل ہونے سے روکا اور مسلمانوں کے قبرستانوں میں قادیانی لاشوں کی تدفین میں رکاوٹ ڈالی تو وہاں کے قادیانی اس معاملہ کو عدالت میں لے گئے جہاں کئی سال تک مقدمہ چلتا رہا۔ اس مقدمہ میں مسلمانوں کی امداد کے لیے علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، جسٹس محمد افضل چیمہ، پروفیسر خورشید احمد اور ڈاکٹر محمود احمد غازی جیسے سرکردہ حضرات جنوبی افریقہ تشریف لے گئے، لیکن عدالتِ عالیہ (ہائی کورٹ) نے فیصلہ قادیانیوں کے حق میں کیا جسے مسلمانوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی اور کافی عرصہ تک اس کی سماعت ہوتی رہی۔

روزنامہ جنگ لاہور ۲۸ فروری ۱۹۹۶ء کی خبر کے مطابق جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ کے فل بینچ نے اس مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا ہے اور یہ قرار دیا ہے کہ کسی بھی مذہب میں کسی شخص یا گروہ کے شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا اس مذہب کے علماء کا کام ہے، اور دنیا کی کسی بھی عدالت کو کسی مذہب کے علماء کے اس حق میں مداخلت کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اس لیے جب مسلمانوں کے علماء متفقہ طور پر قادیانی گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں تو انہیں غیر مسلم ہی شمار کیا جائے گا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جنوبی افریقہ کی عدالتِ عظمٰی کا یہ تاریخی فیصلہ اصولوں پر مبنی ہے جس سے قادیانیوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے، اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تاریخی مسلّمات اور طے شدہ اصولوں کے خلاف مصنوعی سہاروں کے ساتھ کوئی گروہ دنیا کو زیادہ دیر تک دھوکے میں نہیں رکھ سکتا۔

   
2016ء سے
Flag Counter