قومی معیشت کی بحالی کے ناگزیر تقاضے

   
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۲۳ء

قومی حلقوں میں معیشت کی زبوں حالی کا موضوع ہر سطح پر زیربحث ہے اور اسے کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے، اس بات پر کم و بیش سبھی حلقے متفق ہیں کہ بیرونی قرضے، سودی نظام اور عالمی مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف کی مسلسل مداخلت اس صورت حال کے بنیادی اسباب ہیں جس کا سدباب کیے بغیر قومی معیشت کی بحالی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اس سلسلہ میں دینی حلقوں کا موقف مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے علمی و فکری فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے ۲۰ مئی ۲۰۲۳ء کو منصورہ لاہور میں راقم الحروف کی زیر صدارت منعقدہ اپنے اجلاس میں درج ذیل صورت میں واضح کیا ہے۔

”۱۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو پارلیمنٹ کے وضع کردہ قانون SBP Act, 1956(as amended up to 28-01,2022) کی رو سے خود مختار ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف حال ہی میں جو فیصلہ دیا ہے، اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کرے اور سود سے متعلق قوانین کا خاتمہ کرے۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے ایک عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اسٹیٹ بینک ایک خود مختار ادارہ ہے اور حکومت اسے کوئی حکم نہیں دے سکتی۔ نیز یہ کہ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا یہ فیصلہ درحقیقت IMF اور ورلڈ بینک کے دباؤ پر کیا گیا تھا۔ مقصد اس سے یہ تھا کہ پاکستان کا مرکزی بینک براہ راست ان کے کنٹرول میں چلا جائے اور اس پر حکومت ِپاکستان کا کنٹرول نہ رہے۔ اس لیے ملکی سلامتی اور خودمختاری کے لیے بھی ضروری ہے کہ مذکورہ قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا یہ غلط فیصلہ چونکہ تحریک انصاف کی حکومت نے کیا تھا لہٰذا موجودہ حکومت اس قانون کو ختم کرنے کا احسن اقدام کر کے اس کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے۔

۲۔ وفاقی شرعی عدالت اور اس کے طریقہ کار کے بارے میں آئین پاکستان کی دفعہ 203D(2)(B) کہتی ہے کہ اگر وفاقی شرعی عدالت کے کسی فیصلے کے خلاف اپیل کر دی جائے تو اس پر عمل نہیں ہوگا جب تک سپریم کورٹ اپیلینٹ بینچ اس اپیل کا فیصلہ نہ کر دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جونہی وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے تو اپیل کنندگان کو فوراً اسٹے (stay) مل جاتا ہے۔ مقصد اس بات کا یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف جو فیصلہ دیا تھا، چونکہ اس کے خلاف اپیلیں آگئی ہیں لہٰذا اب اس پر عملدرآمد رک گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ بے انصافی کی بات ہے اور اس بے انصافی کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ اچھنبے کی بات یہ ہے کہ یہ خصوصی معاملہ صرف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے بارے میں ہے جب کہ اس کا اطلاق ضلعی عدالتوں اور ہائی کورٹس کے فیصلوں پر نہیں ہوتا۔‘‘

جب کہ قانونی حلقوں کا نقطہ نظر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ بہاولنگر کے معزز وکیل جناب طالب حسین میکن ایڈووکیٹ کے اس مکتوب میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جو انہوں نے حال ہی میں آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کے ارسال کیا ہے، موصوف لکھتے ہیں کہ

’’ہم معزز اور شریف پاکستانی شہری ہیں آپ سے آج تک ہمارے خاندان کے کسی بھی فرد نے قرض حاصل نہ کیا ہے اور نہ ہی اس کی نسبت کوئی درخواست گزاری ہے۔ مورخہ 08-06-2023 کو بذریعہ ٹی وی پروگرام علم میں آیا کہ پاکستان کی عوام کے خلاف آپ کا بہت زیادہ قرضہ واجب الادا ہے جس کی وجہ سے مملکت کی معیشت خطرے میں ہے اور عوام غربت کی لکیر کے نیچے جا رہے ہیں اور مزید قرضہ مانگا جا رہا ہے۔ درحقیقت ہم نے آج تک کسی بھی قرض کے لیے کوئی تحریری درخواست یا زبانی التجا نہ کی ہے اور نہ آئندہ ایسا کرنے کی نیت ہے۔ اگر کسی شخص نے اپنی ذاتی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کوئی بھی غیر قانونی قدم اٹھایا ہے وہ خود ذمہ دار ہے اور جو بھی بینک کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ جتنی بار بھی ہوا ہے ہم اس کے ذمہ دار نہ ہیں۔ بلکہ جس نے معاہدہ کی درخواست دی یا تکمیل معاہدہ کیا اور رقم وصول کی تو اس نے ذاتیات کے لیے کیا ہے آج تک ہم نے اس سے استفادہ حاصل نہ کیا ہے اور نہ ہی ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد قیام پاکستان اور اس سے قبل سال 1876ء سے مملکت پاکستان میں اسی علاقہ میں رہائش پذیر ہیں اور ہمارے آباؤ اجداد محنت مزدوری کر کے گزربسر کرتے چلے آرہے ہیں اور آج تک کسی بینک سے قرضہ وغیرہ نہ لیا ہے بلکہ اپنے مال مویشی پال کر اور کھیتی باڑی کر کے گزربسر کرتے چلے آرہے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جان دینی ہے اور کسی قسم کا قرض ناقابل معافی جرم ہے۔ ہم اپنے اور اپنے ورثا کے خلاف یہ قرض کا جرم برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ جو کوئی مسلمان اپنے خلاف قرض کا لفظ لے کر مرتا ہے تو اس کی بخشیش نہ ہے۔

لہٰذا بذریعہ نوٹس ہذا آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہم آپ کے کسی قسم کے قرض کے جواب دہ نہ ہیں، جس نے قرض حاصل کیا ہے اسی سے وصول کیا جائے اور تفصیل قرضہ اندر 15 یوم فراہم کی جائے کہ کس کس پاکستانی شہری نے کتنا کتنا قرض حاصل کیا ہے اور اس کے اخراجات کی تفصیل فراہم کی جائے اور پاکستانی شہری کے خلاف قرض کا لفظ ختم کیا جائے۔‘‘

ہمارے نزدیک اصل ضرورت یہ ہے کہ قومی معیشت کی بحالی اور خود مختاری کے لیے عوامی شعور کو بیدار کرنے اور رائے عامہ کو اس دھاندلی کے خلاف منظم کرنے کے لیے منظم جدوجہد کا اہتمام کیا جائے تاکہ ہم ایک قوی تحریک کی صورت میں قومی خود مختاری اور معیشت کی بحالی کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا کر سکیں، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق سے نوازیں، آمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter