یومِ آزادی کیسا گزرا؟

   
تاریخ اشاعت: 
۱۷ اگست ۲۰۲۳ء

یومِ آزادی کے حوالہ سے اگست کے آغاز سے ہی مختلف پروگراموں کا آغاز ہو گیا تھا اور گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد کی متعدد نشستوں میں گفتگو کا اتفاق ہوا جبکہ ۱۴ اگست بحمد اللہ تعالیٰ بہت مصروف گزرا اور دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کی اس سلسلہ میں دلچسپی سے جی بہت خوش ہوا۔

  1. فجر کی نماز حسب معمول الشریعہ اکادمی ہاشمی کالونی گوجرانوالہ میں ادا کی اور بخاری شریف کی ایک حدیث کا درس دیا۔
  2. ساڑھے سات بجے جمعیۃ العلماء اسلام (س) کے راہنما مولانا قاری احسان اللہ قاسمی کے مدرسہ میں حاضری ہوئی اور طلبہ سے ’’یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے‘‘ کا ترانہ سن کر یومِ آزادی کی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ مختصر گفتگو کے بعد علاقہ کے معزز حضرات کے ہمراہ پاکستان کا پرچم فضا میں بلند کرنے کی سعادت حاصل کی۔
  3. ساڑھے نو بجے پیپلز کالونی کے ادارۃ النعمان میں پاکستان شریعت کونسل کے راہنما مولانا مفتی نعمان احمد نے علماء و طلبہ کی نشست کا اہتمام کر رکھا تھا، ان کے سامنے تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے مقاصد اور پس منظر پر گفتگو کی اور اس کے بعد پرچم کشائی کی تقریب میں شریک ہوا۔
  4. ساڑھے دس بجے جامعہ مدینۃ العلم جناح کالونی میں مولانا محمد ریاض جھنگوی نے بارونق محفل سجا رکھی تھی، اس میں مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کے ہمراہ حاضری دی اور اساتذہ و طلبہ کو قیامِ پاکستان کے مقاصد اور ان کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی۔
  5. ساڑھے گیارہ بجے جامعہ قاسمیہ ملہی چوک میں وفاق المدارس العربیہ کے ضلعی مسئول مولانا جواد محمود قاسمی نے اہتمام کے ساتھ علماء کرام اور طلبہ کے علاوہ شہر کے تاجروں اور دیگر طبقات کے نمائندوں کا بھرپور اجتماع رکھا ہوا تھا، اس میں شرکت اور پرچم کشائی کی تقریب میں حاضری کی سعادت حاصل کی۔
  6. ظہر کے بعد جمعیۃ طلباء اسلام گوجرانوالہ کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں ’’مقصدِ پاکستان سیمینار‘‘ انعقاد پذیر ہوا جس میں شہر کے علماء کرام، دینی جماعتوں اور طالب علم تنظیموں کے سرکردہ حضرات شریک تھے، اس میں تحریک آزادی اور تحریک پاکستان میں علماء حق کے کردار کا تذکرہ کیا۔
  7. اور اس کے بعد الشریعہ اکادمی کوروٹانہ کی تقریب میں حاضر ہوا جہاں علاقہ بھر سے علماء کرام، اساتذہ اور معززین جمع تھے۔ طلبہ کے پرجوش خطابات سنے اور کچھ گزارشات پیش کیں اور ان چند پروگرام کے بعد غروب آفتاب سے قبل گھر واپس پہنچ گیا۔

ان نشستوں میں پیش کی جانے والی گزارشات کے چند اہم نکات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں:

  • تحریکِ آزادی کی بنیاد حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ کے اس فتویٰ پر تھی جسے ’’دارالحرب‘‘ کا فتویٰ کہا جاتا ہے، اس میں حضرت شاہ صاحبؒ نے دہلی پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے کنٹرول کے بعد کہا تھا کہ حکمرانی مسلمانوں کی بجائے انگریزوں کے ہاتھ میں چلی گئی ہے اور نظام و قوانین بھی ان کا رائج ہو گیا ہے اس لیے اب یہ مسلم ریاست نہیں رہی، اور انگریزی حکومت و قوانین سے آزادی کے لیے جہاد فرض ہو گیا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں ہمیں انگریز حکمرانوں سے تو آزادی مل گئی جب قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کو انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس خطہ کا اقتدار منتقل کر دیا، مگر نظام و قوانین سے آزادی کا مرحلہ ابھی تک نہیں آیا اور ہم بدستور نوآبادیاتی نظام و قوانین کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس لیے حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ کے فتویٰ پر عمل اس وقت مکمل ہو گا جب نوآبادیاتی انگریزی نظام و قوانین کا خاتمہ ہو گا اور قرآن و سنت کی حکمرانی قائم ہو گی۔
  • اس خطے پر انگریزوں کی حکمرانی سے پہلے بھی شرعی قوانین کی عملداری تھی جنہیں منسوخ کر کے انگریزوں نے اپنا نظام قائم کیا تھا، اس لیے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان کے نظام و قوانین کا خاتمہ اور اسلامی نظام کا نفاذ بھی آزادی کی جدوجہد کا ناگزیر تقاضہ اور ہماری ذمہ داری ہے۔
  • تحریکِ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ کے عنوان سے اس تصور پر تھی کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ مذاہب کے ساتھ دو متضاد تہذیبوں کے حامل ہیں جو اکٹھے نہیں رہ سکتے، اس لیے مسلمانوں کے لیے الگ ملک ضروری ہے تاکہ وہ ہندو اکثریت کے غلبہ سے آزاد رہ کر اپنے دین اور تہذیب کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ دو قومی نظریہ سر سید احمد خان مرحوم نے پیش کیا، علامہ محمد اقبال مرحوم نے اسے فکری و علمی رنگ دیا اور قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اس کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے پاکستان کے نام سے الگ ملک کا مطالبہ کیا جو ۱۹۴۷ء میں وجود میں آیا اور آج ہم اس کا یومِ آزادی منا رہے ہیں۔
  • قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے دوٹوک اعلان کیا تھا کہ ہم پاکستان میں قرآن و سنت کے قوانین کا نفاذ عمل میں لائیں گے اور دنیا کو ایک بار پھر عملی تجربہ کر کے بتائیں گے کہ قرآن و سنت کے قوانین تیرہ صدیاں قبل کی طرح آج بھی قابل عمل اور انسانوں کے مسائل کا صحیح حل ہیں۔ انہوں نے پاکستان قائم ہو جانے کے بعد بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان میں معیشت مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر استوار کریں گے۔ مگر قائد اعظم مرحوم کی وفات کے بعد ہم نے سب کچھ بھلا دیا اور بتدریج مغربی ملکوں کی غلامی میں دھنستے چلے گئے، جو پہلے ’’ریموٹ کنٹرول غلامی‘‘ تھی اور اب وہ ’’روبوٹ کنٹرول غلامی‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔
  • آج یومِ آزادی کا ہم سے سب سے بڑا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی سے باخبر ہوں، اپنے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں سے آگاہی حاصل کریں، تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے مقاصد کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان مقاصد کے حصول میں ابھی تک کامیاب نہ ہونے کے اسباب کا جائزہ لیں، اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کے ساتھ ہر سطح پر اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔
  • آزادی اور پاکستان دونوں اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتیں ہیں، ہم نے ان کی قدر نہیں کی۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں نعمتوں میں اضافہ کروں گا، مگر نعمتوں کی ناشکری پر میرا عذاب بھی سخت ہوتا ہے۔ آج ہم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا شکار ہیں جس کی وجہ ہم خود ہیں۔ ہمیں توبہ و استغفار کے ساتھ قرآن و سنت کی طرف رجوع اور قومی خودمختاری کی بحالی کا فکر کرنا چاہیے جس کے لیے بیرونی مداخلت کے خلاف کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم بیرونی دخل اندازی سے نجات حاصل نہیں کریں گے تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے مقاصد کا حصول ممکن نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ وطنِ عزیز کی حفاظت فرمائیں اور ہم سب کو مل جل کر اسے صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter