’’ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کی عمر بوقتِ رخصتی‘‘

   
حوالہ: 
تاریخ : 
۱۱ اگست ۲۰۲۳ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نکاح کے وقت عمر کے حوالے سے مختلف حضرات کے مضامین نظر سے گزرتے رہتے ہیں، مگر میں اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں سمجھ سکا کہ مغرب کو صغیر اور صغیرہ کے نکاح پر جو اعتراض ہے، اس کو درست قرار دیتے ہوئے کچھ حضرات کو صفائی پیش کرنے کا فکر لاحق ہوا ہے اور وہ اپنے علمی ذخیرہ کی اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف ہو گئے ہیں۔ ورنہ جس دور کی یہ بات ہے اس میں صغیر اور صغیرہ کا نکاح کوئی اعتراض کی بات نہیں تھی، اور یہ نہ صرف اس دور کا مسلّمہ عرف تھا بلکہ نکاحِ صغیر اور نکاحِ صغیرہ کے احکام و قوانین اور ضوابط حدیث و فقہ کے ذخیرہ میں متعدد ابواب کی صورت میں صدیوں تک پڑھائے جاتے رہے ہیں اور عملی طور پر رائج چلے آ رہے ہیں۔

مغرب کی صورتحال یہ ہے کہ اسے صغیر اور صغیرہ کے باقاعدہ نکاح پر اعتراض ہے اور اس کے لیے باقاعدہ عمر کی حد طے کی گئی ہے۔ اس سے پہلے لڑکا اور لڑکی جو کچھ بھی کر گزریں وہ مغرب کے نزدیک قابلِ اعتراض نہیں ہے، البتہ باقاعدہ نکاح کی صورت اسے قبول نہیں ہے۔ ہمارے ہاں اپنے معاشرتی اور خاندانی نظام کے قوانین و احکام کے حوالے سے مغرب کے اشکالات و اعتراضات کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے مختلف مسائل میں اپنی صفائی پیش کرتے چلے جانے کا جو رجحان پیدا ہو گیا ہے، یہ بحث بھی مجھے اس کا شاخسانہ لگتی ہے، ورنہ اس دور کے مسلّم عرف و تعامل کے دائرہ میں سرے سے یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔

اس تناظر میں ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر محمد اکرم ندوی نے متعلقہ احادیث کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نکاح کے وقت عمر کے مسئلے کا تجزیہ کیا ہے اور علومِ حدیث کے پختہ کار ماہر کے طور پر روایات کے اصول کے مطابق اس اعتراض کا رد کیا ہے، جس پر وہ اہلِ علم کے شکریہ اور تحسین کے مستحق ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس سے بہت سے اشکالات دور ہوں گے اور اس مسئلہ پر بحث و مباحثہ میں یہ مقالہ ایک مفید اضافہ ثابت ہو گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور ان کی اس علمی کاوش کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter