سعودی عرب کا اسلامی تشخص اور عزت و وقار

   
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۲۳ء

روزنامہ اسلام ۲۴ ستمبر ۲۰۲۳ء کی خبر کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنے اسلامی تشخص اور وقار کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے اور مسلم اقوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب دنیا میں شورش زدہ اور متاثرہ اقوام اور علاقوں کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ ہے اور کشمیر بھی متاثرہ علاقہ ہے، اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو خطہ میں عدمِ استحکام بڑھے گا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان کے ارشادات کی بھرپور تائید کرتے ہوئے ہم ان سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ سعودی عرب کا اسلامی تشخص اور وقار صرف سعودی عرب کا نہیں بلکہ حرمین شریفین کے حوالہ سے پورے عالمِ اسلام کا مسئلہ ہے، اور ملتِ اسلامیہ اس کے لیے ان کے ساتھ ہے۔ مگر دنیا میں مجموعی طور پر مسلمانوں کے اسلامی تشخص اور مسلم ممالک کی خودمختاری اور عزت و وقار کو جو سنگین صورتحال درپیش ہے اس کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ ذمہ داری اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی ہے کہ وہ پیش آمدہ مسائل پر مسلم حکومتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ملت اسلامیہ کے اسلامی تشخص اور مسلم ممالک کی خودمختاری اور آزادی کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرے اور ان کے سدباب کے لیے اجتماعی حکمت عملی طے کرے۔

اسلامی تعاون تنظیم میں سعودی عرب کا کردار کلیدی سمجھا جاتا ہے اور اس کا ہیڈکوارٹر بھی سعودی عرب میں ہے، اس لیے ہم سعودی وزیرخارجہ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ اسلامی تشخص اور عزت و وقار کے ساتھ ساتھ کشمیر، فلسطین، میانمار (برما ) اور دیگر خطوں کے مظلوم و مقہور مسلمانوں کی مدد، آزادی اور بحالی کے لیے بھی اسلامی تعاون تنظیم کو متحرک اور مؤثر بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter