این جی اوز کا ایجنڈا اور کردار

   
تاریخ اشاعت: 
فروری ۱۹۹۹ء

پنجاب کی حکومت ان دنوں این جی اوز کے معاملات، سرگرمیوں اور حسابات کی چھان بین کر رہی ہے، اور سوشل ویلفیئر کے صوبائی وزیر پیر محمد بنیامین رضوی اس مہم میں پیش پیش ہیں۔

این جی اوز ’’نان گورنمنٹل آرگنائزیشنز‘‘ کا مخفف ہے اور اس سے مراد وہ غیر سرکاری تنظیمیں ہیں جو رفاہی اور سماجی شعبوں میں عوام کی خدمت کے عنوان سے مختلف ملکوں میں سرگرم عمل رہتی ہیں۔ انہیں بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خیراتی اداروں اور مخیر شخصیات کی طرف سے کروڑوں بلکہ اربوں روپے کی امداد ملتی ہے اور وہ عوام کو ہیلتھ، صفائی اور دیگر سماجی معاملات میں راہنمائی اور تعاون مہیا کرنے کے ٹائٹل کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ لیکن اس کی آڑ میں بہت سے ایسے عناصر بھی سرگرم رہتے ہیں جو اس نام سے رقوم حاصل کر کے ہڑپ کر جاتے ہیں۔ اور چونکہ سماجی خدمت کے لیے کام کرنے والوں کی رسائی ہر ملک میں معاشرہ کے ہر طبقہ تک بآسانی ہو جاتی ہے اس لیے ایسی تنظیموں اور ان کے اہلکاروں کو جاسوسی، اور کسی بھی سوسائٹی میں ذہنی انتشار اور فکری انارکی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ اور اسی وجہ سے عملاً صورتحال یہ ہے کہ اس قسم کی تنظیمیں اور ان کے عہدہ دار زیادہ تر اسی نوعیت کی منفی سرگرمیوں میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔

چنانچہ صوبائی وزیر پیر محمد بنیامین رضوی نے اپنے ایک تفصیلی مضمون میں، جو بہت سے قومی اخبارات میں شائع ہوا ہے، ان غیر سرکاری تنظیموں کے طریق واردات سے پردہ اٹھایا ہے اور ان کے مالی گھپلوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کی نقاب کشائی کی ہے، جس سے این جی اوز کے مقاصد اور کردار کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ اس میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ

’’چند روز قبل لاہور میں ایک این جی او، جو عورت کے حقوق کی محافظ ہونے کی دعویدار ہے، اس کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ پانچ سال پاک فوج کے خاتمے اور ایمان کی پختگی کو کمزور کرنے کے لیے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ اب مجھے بتایا جائے کہ یہ کام این جی او کا ہے یا ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل ہے؟ پاک فوج کے خاتمے کا ٹارگٹ این جی او کو کس نے سونپا ہے اور اس کے لیے کس نے مال فراہم کیا ہے؟ بس ہم اب یہ سب کچھ منظر عام پر لانا چاہتے ہیں اور اس طرح کی این جی اوز کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔‘‘

ہمارے ہاں این جی اوز میں سماجی اور رفاہی خدمات کے نام نہاد ادارے بھی ہیں، اور وہ عیسائی مشنریاں بھی ہیں جو کروڑوں روپے کی بیرونی امداد کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں سادہ لوح مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے اور عیسائیت کی آغوش میں لے جانے کے لیے شب و روز کام کر رہی ہیں۔ اور یہ مسئلہ صرف پنجاب کا نہیں بلکہ پورے ملک میں ان رفاہی اور مشنری اداروں کا جال بچھا ہوا ہے، اور باشعور پاکستانی ان کی سرگرمیوں پر بے حد مضطرب ہیں۔

حتیٰ کہ بھارت میں بھی اسی قسم کی صورتحال موجود ہے، روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ جنوری ۱۹۹۹ء کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی نے کہا ہے کہ بھارت میں غیر سرکاری سطح پر آنے والی بیرونی امداد کا ۷۰ فیصد حصہ عیسائی مشنریوں کے پاس چلا جاتا ہے، اس لیے غیر سرکاری تنظیموں کو بیرونی ملکوں سے امداد وصول کرنے کے لیے بھارتی حکومت سے رجسٹرڈ ہونا پڑے گا۔

ادھر افغانستان کے حوالے سے روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۷ جنوری ۱۹۹۹ء کو یہ خبر شائع کی ہے کہ ہرات میں فرانس کے ایک رفاہی ادارے کے پانچ افراد کو جاسوسی میں ملوث پایا گیا ہے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ان کا سرغنہ فرار ہو گیا ہے۔

اس پس منظر میں ہم این جی اوز کے معاملات اور سرگرمیوں کی چھان بین کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، اور اس کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ گزارش کرتے ہیں کہ منصفانہ چھان بین کے بعد جو غیر سرکاری تنظیمیں اپنے اصلی مقصد یعنی عوام کی رفاہی اور سماجی خدمات کے لیے صحیح کام کر رہی ہیں، ان کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ مگر اس مقدس عنوان کی آڑ میں جو ادارے کروڑوں روپے کی رقوم ہضم کر رہے ہیں، اسلام اور پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں، اور جاسوسی کے مکروہ کاروبار کے مورچے بنے ہوئے ہیں، ان پر نہ صرف پابندی لگائی جائے بلکہ ان کے عہدہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ سماجی خدمت کے نام پر اس مذموم دھندے کا سدباب ہو سکے۔

   
2016ء سے
Flag Counter