مغرب اور اسلام: شہزادہ چارلس اور محمد یحیٰی کی تجاویز

   
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۱۹۹۵ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۶ اکتوبر ۱۹۹۵ء کے مطابق:

’’برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے کہا ہے کہ مغرب روحانی اور مادی اقدار میں فرق دور کرنے کے لیے اسلام سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ برطانیہ میں ’’مسلمان‘‘ نامی نمائش کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے شہزادہ چارلس نے کہا کہ مغربی دنیا بظاہر سیکولر لگتی ہے لیکن اصل میں وہ ’’ٹیکنالوجی کے بت‘‘ کی عبادت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کو اسلامی دنیا سے بہتر انڈراسٹینڈنگ کی ضرورت ہے۔‘‘

شہزادہ چارلس نے دو سال قبل بھی ’’آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز‘‘ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا تھا اور مغربی دانشوروں پر زور دیا تھا کہ وہ اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور مسلمانوں کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

یہ امر واقعہ ہے کہ مغرب اور اسلام کے درمیان نظر آنے والی موجودہ کشمکش کے حوالے سے جہاں سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی، میڈیا اور فوجی قوت کے شعبوں میں مخاصمت دن بدن بڑھ رہی ہے، اور مغرب ان شعبوں میں بالادستی قائم رکھنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر رہا ہے، وہاں فکر و نظر اور علم و دانش کے محاذ پر مغرب کو اپنا ’’ذہنی خلا‘‘ پُر کرنے کے لیے اسلام کا کوئی متبادل دکھائی نہیں دے رہا، اور اسلام مغربی دانشوروں کی مجبوری بنتا جا رہا ہے۔

شہزادہ چارلس ہی کی بات نہیں، ابھی چند ماہ قبل لندن میں ایک نو مسلم انگریز نوجوان محمد یحیٰی سے راقم الحروف کی ملاقات ہوئی اور مغرب میں اسلام کی اشاعت و دعوت کے مسئلہ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ محمد یحیٰی کا تعلق برطانیہ کے ایک مقتدر خاندان سے ہے، وہ اسلام قبول کرنے کے بعد گزشتہ چھ برس سے اسلام اور اس کے ساتھ ساتھ برصغیر کی دینی تحریکات کے مطالعہ میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ مخاصمت اور عناد صرف مقتدر طبقوں کے چند افراد میں ہے جو وسائل پر قابض ہیں اور انہیں اسلام کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ مغرب کی باقی آبادی کو اسلام کے ساتھ عناد ہے نہ محبت، وہ خالی الذہن ہیں اور فکری خلا اور دلی بے سکونی کا شکار ہیں جو صرف اسلام کے ذریعے دور ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مغرب کی عام آبادی تک اسلام کا پیغام وہاں کے لوگوں کی زبانوں میں ان کی ذہنی نفسیات کے مطابق پہنچانے کا اہتمام کیا جائے۔ اور فقہی و نظری اختلاف سے بالاتر رہتے ہوئے انہیں قرآن و سنت کی سادہ تعلیمات سے روشناس کرایا جائے۔ محمد یحیٰی کا کہنا ہے کہ ان کے مطالعہ کا حاصل یہ ہے کہ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات اور طرز کو بنیاد بنا کر مغرب میں اسلام کی دعوت کو آگے بڑھایا جائے تو مغربی ممالک کی عام آبادی کا ایک بڑا حصہ اسلام کے دامن سے وابستہ ہو سکتا ہے۔

ہمارے خیال میں شہزادہ چارلس اور محمد یحیٰی ایک ہی بات کہہ رہے ہیں:

  • شہزادہ چارلس مغربی دانشوروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات کے اصل سرچشمہ تک رسائی حاصل کریں،
  • اور محمد یحیٰی مسلم دانشوروں سے یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ وہ مغرب تک اسلامی تعلیمات کو فطری اور مؤثر انداز میں پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس میں سب سے زیادہ ذمہ داری ہمارے دینی اداروں کی ہے کہ وہ اپنے ہاں اس سلسلہ میں تحقیقاتی شعبے قائم کریں، ماہرینِ فن کو جمع کریں، مغرب کی فکری و روحانی ضروریات کا جائزہ لیں، اور پورے ادراک، بصیرت اور تیاری کے ساتھ مغربی معاشرہ کے فکری اور روحانی خلا کو اسلام کی فطری تعلیمات کے ذریعے پُر کرنے کی کوشش کریں۔
   
2016ء سے
Flag Counter