مسلم معاشروں میں خواتین کے حقوق ۔ مسٹر ڈیوڈ کے سوالات

   
تاریخ اشاعت: 
۷ مارچ ۲۰۰۷ء

مسٹر ڈیوڈ نیویارک کے رہنے والے ہیں، امریکہ کے معروف جریدے ’’کرسچین مانیٹر‘‘ سے وابستہ ہیں اور پاکستان میں اس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ محترمہ ظل ہما عثمان کے افسوسناک قتل کے حوالے سے مختلف حلقوں کے تاثرات کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ دنوں گوجرانوالہ آئے ہوئے تھے۔ ہمارے محترم دوست راشد بخاری اور عبد الحفیظ طاہر اُن کے ہمراہ تھے، انہی کی رہنمائی میں میرے پاس بھی الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور ان کے ساتھ ایک نشست میں مختصر گفتگو ہوئی جس میں قارئین کو شریک کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

ان کا پہلا سوال یہ تھا کہ ظل ہما عثمان مرحومہ کے قاتل کا کہنا ہے کہ اس نے یہ قتل ثواب کی خاطر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا ہے، کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ عورت کو حکمران بننے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے دو پہلو ہیں:

  1. ایک یہ کہ عورت حکمران ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ حکمرانی کے کسی کلیدی منصب پر فائز ہونے کے بارے میں تو ہماری رائے بھی یہی ہے کہ شریعتِ اسلامیہ اس کی اجازت نہیں دیتی۔ لیکن کیا وہ حکومتی نظام میں کسی درجے میں بھی شریک نہیں ہو سکتی؟ یہ بات بہرحال بحث طلب ہے اور اس میں گفتگو کی گنجائش موجود ہے۔
  2. دوسرا پہلو قانون کو ہاتھ میں لینے یا کسی کو قتل کرنے کا ہے، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی بات کسی شخص کے نزدیک شریعت کے خلاف ہے تو اسے اپنی رائے دینے کا حق ہے، اور متعلقہ شخص تک اپنی رائے پہنچانے اور اسے مشورہ دینے کا بھی حق ہے، لیکن اس کے لیے ہتھیار اٹھانا، کسی کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنا، قتل کرنا اور جبر کی کوئی صورت اختیار کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہم ظل ہما عثمان مرحومہ کے قتل کو جائز نہیں سمجھتے اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔

ان کا دوسرا سوال مسلم معاشروں میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں تھا کہ آزادئ نسواں کی جدوجہد کے بارے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟ میں نے گزارش کی کہ جہاں تک کسی بھی معاشرے میں عورت کے جائز حقوق کا تعلق ہے، ہم اس کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد کو سپورٹ کرتے ہیں۔ لیکن حقوق کے نام پر مغرب نے آزادی کی ایسی فضا قائم کر دی ہے جس سے سوسائٹی میں عورت اور مرد کے تعلقات کا فطری توازن بگڑ گیا ہے اور خاندانی نظام اتھل پتھل کا شکار ہو گیا ہے۔ اس کی ہم اجازت نہیں دیتے اور اس منزل کی طرف لے جانے والی آزادئ نسواں کی کسی تحریک کی حمایت نہیں کرتے۔ جہاں تک عورتوں کے جائز حقوق کا تعلق ہے، ہمارے معاشرے میں اس کے لیے سب پہلی تحریک علماء کرام نے ہی اٹھائی تھی جب ۱۹۳۵ء میں صوبہ سرحد کی قانون ساز اسمبلی میں ’’شریعت بل‘‘ پیش کیا گیا جس کا مقصد عورتوں کو شریعتِ اسلامیہ کے مطابق وراثت میں حصہ دلانا تھا۔ اس کے بعد بھی اس سلسلہ میں علماء کی طرف سے مسلسل آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔

۱۹۳۵ء کے شریعت بل کے بارے میں مسٹر ڈیوڈ کو تو میں نے اتنا ہی بتایا، لیکن قارئین کی معلومات کے لیے کچھ تفصیل عرض کر رہا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو وراثت میں حصہ نہ دیے جانے کا نوٹس سب سے پہلے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے لیا اور ۱۹۲۳ء سے ۱۹۲۵ء تک اس مقصد کے لیے پنجاب میں ایک تبلیغی مہم چلائی۔ خانقاہ تھانہ بھون کے مفتی حضرت مولانا مفتی عبد الکریم المتھلویؒ اور حضرت مولانا عبد المجید بچھرانویؒ نے حضرت تھانویؒ کی ہدایت پر پنجاب کے مختلف اضلاع کے دورے کیے، عام اجتماعات سے خطاب کیا، اور علماء کرام و سماجی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، ہزاروں کی تعداد میں فتویٰ تقسیم کیا جس میں عورتوں کو وراثت سے محروم رکھنے کو ظلم اور غصب قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق عورتوں کو وراثت میں ان کا حصہ دیں ورنہ وہ شرعاً مجرم ہوں گے۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیلات ایک رسالہ ’’غصب المیراث‘‘ سے معلوم کی جا سکتی ہیں جو حال ہی میں جامعہ حقانیہ ساہیوال ضلع سرگودھا کے مہتمم مولانا سید عبد القدوس ترمذی نے شائع کیا ہے۔

جبکہ اس کے بعد ۱۹۳۵ء میں صوبہ سرحد کی قانون ساز اسمبلی میں اس مقصد کے لیے شریعت بل پیش کیا گیا، جس کی وہاں کے خانوں اور جاگیرداروں نے مخالفت کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ جزوی شریعت کا مطالبہ ہے اور انگریزوں سے شریعت کا مطالبہ کیا گیا ہے اس لیے یہ شریعتِ اسلامیہ کی توہین ہے اور ہمیں قبول نہیں ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سرحد اسمبلی نے اس شریعت بل کی نوک پلک سنوارنے کے لیے جو سلیکٹ کمیٹی قائم کی تھی اس کے سربراہ سرحد اسمبلی کے ایک انگریز ممبر سر جارج کنگھم تھے۔ اس پر جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ نے باقاعدہ فتویٰ جاری کیا جو ان کے فتاویٰ کے مجموعہ ’’کفایت المفتی‘‘ میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شریعت بل درست ہے اور اس کی حمایت اور منظوری ضروری ہے جبکہ اس کی مخالفت کرنے والے گنہگار ہیں۔

خیر یہ تو ۱۹۳۵ء کے شریعت بل کی کچھ تفصیل تھی، اب مسٹر ڈیوڈ کی گفتگو کی طرف آتے ہیں، جن کا تیسرا سوال ’’تحفظِ حقوقِ نسواں ایکٹ‘‘ اور اس سلسلہ میں پیش کیے جانے والے نئے بل کے بارے میں تھا۔ میں نے عرض کیا کہ جہاں تک چودھری شجاعت حسین کی طرف سے پیش کیے جانے والے نئے بل کا تعلق ہے، یہ علماء کرام ہی کی تجاویز پر مشتمل ہے۔ اور اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب تحفظِ حقوقِ نسواں ایکٹ پر، جو ابھی بل ہی کے مرحلے میں تھا، علماء کرام کی رائے لینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی، جس کا میں بھی ایک رکن تھا، تو علماء کرام نے اس موقع پر کہا کہ اس بل میں تو زنا کے سوا کسی اور بات کا ذکر نہیں ہے، اس لیے اسے حقوق کا نام دینا درست نہیں ہے۔ اس میں عورتوں کے ان حقوق کے تحفظ کو شامل کرنا ضروری ہے جو ہمارے معاشرے میں مسلسل پامال ہو رہے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے تجویز کیا تھا کہ

  • عورت کو وراثت میں شریعت کے مطابق حصہ دلوانے کی قانونی ضمانت فراہم کی جائے۔
  • عورتوں کی مرضی کے خلاف ان کی جبری شادی پر پابندی لگائی جائے۔
  • عورت کی خرید و فروخت کو قانوناً ممنوع قرار دیا جائے۔
  • قرآن کریم کے ساتھ شادی کی مذموم رسم ختم کی جائے۔
  • عورتوں کو مہر دلوانے کا قانونی اہتمام کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔

اس وقت چودھری شجاعت حسین نے ہم سے کہا تھا کہ ان تجاویز پر قانون سازی کے لیے الگ بل لایا جائے گا، چنانچہ یہ بل اس حوالے سے لایا گیا ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اس سے تحفظِ حقوقِ نسواں ایکٹ کے بارے میں ہمارے اعتراضات اور تحفظات ختم نہیں ہوئے، وہ بدستور باقی ہیں، اور اس حوالے سے ہماری جدوجہد جاری رہے گی کیونکہ ہم اسے قرآن و سنت سے متصادم سمجھتے ہیں۔

مسٹر ڈیوڈ نے پوچھا کہ مختلف مسلم ممالک میں مسلم خواتین قرآن و سنت کے حوالے سے اپنے حقوق کی جدوجہد کر رہی ہیں، اس پر آپ کا ردعمل کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہم اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے سپورٹر ہیں، اس لیے کہ مسلمان ممالک میں بھی عورتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو شریعتِ اسلامیہ انہیں دیتی ہے اور جو اُن کے فطری حقوق شمار ہوتے ہیں۔ عورتوں کی جائز حقوق سے محرومی کا تعلق اسلام سے نہیں بلکہ علاقائی کلچروں سے ہے، اور اس مظلومیت کے خلاف آواز اٹھانا عورتوں کا حق ہے۔ لیکن اس معاملے میں ہم اس بات کا بہرحال لحاظ رکھتے ہیں کہ مغرب نے عورت کو جو مطلق آزادی دے رکھی ہے، اس سے بچا جائے، کیونکہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے ہم نہ اس جبر کی حمایت کرتے ہیں جو ہمارے معاشروں میں علاقائی روایات اور ثقافتوں کے حوالے سے عورتوں پر روا رکھا جاتا ہے، اور نہ اس آزادی کی اجازت دیتے ہیں جو مغرب نے دے رکھی ہے۔ ہم اعتدال اور توازن کی بات کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو معیار قرار دیتے ہیں۔

اس سلسلہ میں جب میں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں عورتوں کی مظلومیت کا تعلق اسلام سے نہیں بلکہ علاقائی ثقافتوں سے ہے، اور اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ فیوڈلزم پر عائد ہوتی ہے کیونکہ عورتوں کے بہت سے جائز حقوق کو جاگیردارانہ سسٹم اور روایات نے دبا رکھا ہے۔ تو مسٹر ڈیوڈ نے پوچھا کہ کیا پاکستان میں فیوڈلزم کے خاتمے کا کوئی امکان ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہماری سب سے بڑی خواہش ہے لیکن یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک اس کے سرپرست نہیں چاہیں گے۔ اس کے سرپرست ہماری لوکل اسٹیبلشمنٹ اور پھر ورلڈ اسٹیبلشمنٹ ہے جسے مسلم سوسائٹی پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے فیوڈلزم کی ضرورت ہے، اس لیے وہ اسے ختم نہیں ہونے دیتے۔

مسٹر ڈیوڈ کا ایک سوال یہ تھا کہ کیا آپ کے خیال میں پاکستانی معاشرہ بہتری کی طرف جا رہا ہے یا مزید انحطاط کا شکار ہو رہا ہے، اور اس میں اسلام کا کردار کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہم سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی ہر لحاظ سے انحطاط کی طرف جا رہے ہیں لیکن اس میں اسلام کا کوئی کردار نہیں ہے، اس لیے کہ اسلام کو تو کوئی کردار ادا کرنے کا اب تک موقع ہی نہیں دیا گیا، یہ نو آبادیاتی سسٹم ہے جو ہمارے معاشرے کو اپنی مرضی کے مطابق چلائے جا رہا ہے۔ اسلام کا کردار صرف دعوت و تبلیغ، اصلاح اور تعلیم تک محدود ہے، اس معاملہ میں بھی اس کے آزادانہ کردار کو برداشت نہیں کیا جاتا اور مختلف نوع کی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، نو آبادیاتی نظام کے تحفظ کے لیے اسلامی حلقوں کو سوسائٹی سے الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مسٹر ڈیوڈ کا ایک سوال دینی مدارس کے بارے میں تھا کہ موجودہ حکومت کے دور میں دینی مدارس کے خلاف مسلسل جو دباؤ بڑھ رہا ہے اس حوالے سے آپ اپنی جدوجہد میں کیا رکاوٹ محسوس کرتے ہیں؟ میں نے گزارش کی کہ یہ درست ہے کہ دینی مدارس پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور نت نئی رکاوٹیں سامنے آ رہی ہیں، لیکن دینی مدارس اپنے معاشرتی کردار اور آزادانہ وجود کے تحفظ کے لیے پوری طرح متحد ہیں، اور ان کی جڑیں نچلی سطح پر عوام میں ہیں جن کی ان مدارس کو بھرپور حمایت حاصل ہے، اس لیے دینی مدارس اس دباؤ کا اب تک کامیابی کے ساتھ سامنا کر رہے ہیں اور آئندہ بھی ان شاء اللہ تعالیٰ کرتے رہیں گے۔

مسٹر ڈیوڈ کے کسی سوال کے بغیر میں نے ایک اور بات عرض کی کہ ہمارے ہاں بھی مذہب کے ساتھ وہی معاملہ کیا جا رہا ہے جو مغرب میں کیا گیا ہے۔ مغرب میں مسیحیت کو سوسائٹی سے لاتعلق کر دیا گیا ہے، جبکہ ہمارے ہاں اسلام کو سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مغرب کی مذہبی قیادت نے اس صورتحال کو قبول کر لیا ہے لیکن ہم اسے قبول نہیں کر رہے اور مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں۔ بلکہ ہماری تو مغرب کی مسیحی قیادت سے بھی یہی گزارش ہے جو میں نے وہاں کے بعض پادری صاحبان سے روبرو ملاقات میں بھی کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کو ذہناً قبول کر لینے کی اس روش پر نظرثانی کریں اور ہماری طرح مزاحمت کا راستہ اپنائیں، جس کے لیے ہم ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter