برطانیہ میں ہفتۂ بیدارئ اسلام اور وزیراعظم ٹونی بلیئر کے خیالات

   
۔

برطانیہ میں گزشتہ دنوں ’’ہفتہ بیدارئ اسلام‘‘ منایا گیا۔ یہ ہفتہ ہر سال منایا جاتا ہے اور اس موقع پر مختلف تقریبات کے ذریعے اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے بارے میں مسلمانوں کے طرز عمل اور اسلامی احکام کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک تقریب چار نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی، جس کے لیے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی پیغام ارسال کیا۔ اس پیغام میں انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ یہ تقریب ہر سال منائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ

’’اسلامی آرٹ، سائنس اور فلسفہ نے کئی لحاظ سے ہماری زندگی کو بہتر بنایا ہے، جبکہ برطانیہ کے مسلمانوں نے بھی یہاں کی سیاست، معیشت، خوشحالی اور ثقافتی زندگی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، لیکن اسے اکثر تسلیم نہیں کیا جاتا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ کمیونٹی بار بار امتیاز اور تعصب کا نشانہ بنتی ہے۔ یہ تعصب برطانیہ کی محنتی، امن دوست اور فیاض مسلمان کمیونٹی کے بارے میں لاعلمی سے پیدا ہوتا ہے۔ اس مذہب کے لوگ ہر سال رمضان میں روزے رکھتے ہیں جو ان لوگوں کی یاد دلاتے ہیں جو زیادہ خوش قسمت نہیں ہیں۔ یہ وہ مذہب ہے جس میں زکوٰۃ دی جاتی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ

’’یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اسلام کے بارے میں لاعلمی سے نمٹا جائے اور اس عظیم مذہب کی صحیح روایات اور اس کی دانش اور رحم کے بارے میں انڈرسٹینڈنگ مسلمانوں اور غیر مسلم دونوں میں بڑھائی جائے۔‘‘

برطانوی وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں جن حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے، وہ بلاشبہ مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے لیے قابل توجہ ہیں اور صرف برطانیہ میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ان حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ان کی روشنی میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے باہمی تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی آرٹ، سائنس اور فلسفہ نے کئی لحاظ سے مغرب کی زندگی کو بہتر بنایا ہے، بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو مغرب کی سائنسی ترقی، علمی برتری، تہذیبی عروج، عسکری بالادستی اور سماجی شعور کا اصل سرچشمہ ہی اندلس کی وہ یونیورسٹیاں اور علمی مراکز ہیں، جنہوں نے اس دور میں مغرب کو علم اور تہذیب سے روشناس کرایا، جب مغرب کے بیشتر ممالک میں جہالت، بلکہ جاہلیت کا دور دورہ تھا اور ہر طرف ظلم و ناانصافی کی حکمرانی تھی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغرب نے بہت ترقی کی ہے اور بہت کمالات دکھائے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اس سلسلہ میں بھی ان کی تمام تر ۔۔۔۔ کا دارومدار مسلمان سائنس دانوں کی تحقیقات اور فارمولوں پر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جس وقت اندلس سے علوم اور تہذیب و ثقافت یورپ کے دوسرے حصوں میں منتقل ہو رہی تھی، عین اسی وقت سیاست کے میدان میں مسلم حکمرانوں کی باہمی آویزش کے باعث صلیبی جنگوں میں شکست سے اندلس ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور مسلمانوں کے علوم و فنون کو یورپین زبانوں میں منتقل کرنے والوں نے ان علوم و فنون کے اصل خدمت گزاروں کے ناموں کو باقی رکھنا بھی گوارا نہ کیا۔

اس سلسلہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مزاج اور روایات میں فرق کا اس بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں نے جب یونانی فلسفہ و علوم کو عربی میں منتقل کیا اور ان میں تحقیقات کا بیش بہا اضافہ بھی کیا تو ان علوم و فنون کے اصل خدمت گزاروں کا نام نہیں مٹایا، بلکہ آج تک ان علوم کو ارسطو اور افلاطون کے حوالوں سے ہی پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن جب یورپین اقوام نے مسلمانوں کے علوم و فنون اور سائنس و فلسفہ کا اپنی زبانوں میں ترجمہ کیا اور ان کی بنیاد پر علمی پیشرفت اور تحقیقات کا محاذ سنبھالا تو ترجمہ و تحقیق کے ساتھ ساتھ ان علوم و فنون کے نسب نامہ کو تبدیل کر دینا بھی انہوں نے ضروری خیال کیا۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے بعد مغرب کو جس بات پر سب سے زیادہ فخر ہے، وہ سماجی شعور، انسانی حقوق اور رفاہی ریاست کا تصور ہے، اور اس میں کوئی شبہ بھی نہیں کہ یہ بات مغرب کے لیے بجا طور پر قابل فخر ہے۔ مغرب اسی حوالے سے مسلمانوں پر سب سے زیادہ اعتراضات کرتا ہے اور مسلمانوں کے سماجی شعور کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور ویلفیئر سٹیٹ کے حوالے سے مسلمانوں کے طرز عمل کو ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے۔ لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ مغرب کے سماجی شعور، انسانی حقوق کے ادراک و احساس اور رفاہی ریاست کے تصور کا اصل سرچشمہ بھی نیک دل مسلم حکمران بالخصوص خلفائے راشدینؓ اور ان میں سے بھی خاص طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور حکومت ہے۔ اور اس سلسلہ میں یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ مغرب اس وقت جو کچھ دکھائی دے رہا ہے، سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی شعور کے محاذوں پر اسے جو عروج حاصل ہوا ہے، اس کا اصل علمی و فکری سرچشمہ اندلس اور اسلام ہے۔ جبکہ مسلم دنیا اس وقت جس اخلاقی، سماجی اور علمی انحطاط کا شکار ہے، اس کا باعث دو صدیوں کا وہ نوآبادیاتی دور ہے جو بیشتر مسلم ممالک نے مغربی ممالک کے زیر تسلط بسر کیا ہے، اور آج کی مسلم دنیا کی غالب اکثریت نے جو کچھ بھی سیکھا ہے، مغرب ہی سے سیکھا ہے۔

اسی وجہ سے تاریخ اس عجیب منظر کا نقشہ پیش کر رہی ہے کہ اندلس کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے والے اور اس کی لائبریریوں اور علمی مراکز سے استفادہ کرنے والے تو مغرب میں آزادی، سائنس، انسانی حقوق اور تہذیب و ثقافت کے علمبردار بن کر سامنے آئے اور انہوں نے نہ صرف مغرب کی کایا پلٹ کر رکھ دی، بلکہ اسے دنیا کی قیادت کے منصب تک پہنچا دیا۔ لیکن مغرب کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر کے جو نسل مسلم ممالک میں واپس گئی ہے، وہ مرعوبیت، ذہنی غلامی اور فکری پسماندگی کا پرچم سنبھالے ہوئے ہے، اور اپنے معاشروں کو ترقی کی طرف آگے لے جانے کی بجائے نوآبادیاتی دور کے کھونٹے سے باندھ رکھنے پر ہی اصرار کر رہی ہے۔

مغرب کی زندگی میں بہتری لانے میں جہاں اندلس کی یونیورسٹیوں اور علمی مراکز کا بنیادی کردار ہے، وہاں اس حقیقت سے انکار کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں کروڑوں انسانوں کے جاں بحق ہونے کے بعد مغرب کے کارخانوں میں پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلا کو پر کرنے میں بھی سب سے زیادہ کردار مسلمانوں کا ہے۔ اور آج مغرب کے چہرے پر جو رونق دکھائی دے رہی ہے اس کے پیچھے بھی ان محنت کشوں، مزدوروں اور کاریگروں کی محنت کی جھلک نظر آتی ہے جو اپنے گھر بار چھوڑ کر مغرب کی طرف سدھارے اور اپنی معاشی زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مغرب کی فیکٹریوں کو بھی آباد رکھا اور مغرب کی ترقی کی گاڑی کو رکنے نہیں دیا۔

ہمیں جناب ٹونی بلیئر کے اس ارشاد سے بھی اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے اس کردار کو اکثر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ بلکہ ہمارے خیال میں یہ صرف برطانیہ کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے مغرب کی یہی صورتحال ہے، اور ہمیں مغرب سے سب سے بڑی شکایت بھی یہی ہے کہ فائدہ اٹھانے میں مغرب نے کبھی حجاب محسوس نہیں کیا، اور جب اس فائدہ کا اعتراف کرنے اور اس کا جواب دینے کا موقع آتا ہے تو مغرب کی آنکھیں ماتھے پر چلی جاتی ہیں، اور وہ اس طرح اجنبی بن جاتا ہے جیسے کبھی کوئی شناسائی ہی نہیں تھی۔

مذکورہ بالا دو حوالوں سے ہٹ کر ایک اور حوالے سے بھی مغرب کے طرز عمل کا جائزہ لے لیا جائے۔ گزشتہ دو صدیوں سے صورتحال یہ چلی آ رہی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی مغرب کے پاس ہے، جبکہ و سائل کی فراوانی مسلم ممالک کے حصے میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ٹیکنالوجی اور وسائل دونوں نے مل کر ہی نسلِ انسانی کی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے، مگر مغرب کا طرز عمل یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو تو اپنی واحد ملکیت قرار دیتے ہوئے اس پر مکمل اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہے، خاص طور پر مسلم ممالک کو اس سے ہر قیمت پر دور رکھنے کے لیے ہر جتن کر رہا ہے، لیکن وسائل کا بیشتر حصہ چونکہ مسلم ممالک کے پاس ہے، اس لیے انہیں پوری نسل انسانی کی مشترک میراث قرار دے کر ان پر زبردستی قبضہ جمانے کی فکر میں ہے، بلکہ قبضہ جمائے ہوئے ہے۔

مغرب کی ستم خیزی، بلکہ ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ جس تیل پر اس کی معیشت اور ترقی کا دارومدار ہے، وہ تیل جن ممالک سے حاصل ہوتا ہے ان ممالک کو ٹیکنالوجی فراہم کرنا اور سائنسی ترقی میں اپنے ساتھ شریک کرنا تو کجا، مغرب ان ممالک کے عوام کے لیے سیاسی حقوق، سماجی تحفظ اور علمی ترقی کا دروازہ کھولنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ اور وہ اس بات پر خوش اور مگن ہے کہ ایک پورے خطہ زمین کی انسانی آبادی کے حقوق و مفادات کو دبا کر اسے اپنی معیشت اور ترقی کے لیے تیل کی دولت حاصل ہو رہی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کا یہ ارشاد بھی سو فیصد درست ہے کہ مسلمان کمیونٹی بار بار تعصب اور امتیاز کا نشانہ بنتی ہے۔ اور ہمارے نزدیک یہ بھی صرف برطانیہ میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی قیادت اس وقت عملاً مغرب کے ہاتھ میں ہے، اور ظاہر بات ہے کہ جو رویہ مغرب کا ہوگا، اس کی قیادت کو قبول کرنے والوں کا طرز عمل اس سے مختلف نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے آج دنیا کے ہر خطہ میں مسلمان ہی سب سے زیادہ طعن و تشنیع، جبر و تشدد اور نفرت و تحقیر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

البتہ جناب ٹونی بلیئر کے اس ارشاد سے ہم اختلاف کی جسارت کر رہے ہیں کہ ’’یہ سب کچھ لاعلمی کے باعث ہے‘‘۔ مغرب کی عام آبادی کے بارے میں یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ اسے اصل صورتحال کا علم نہیں اور مغربی ممالک میں رہنے والوں کی غالب اکثریت کے سامنے حالات کی ایک ہی تصویر رہتی ہے جو ورلڈ میڈیا ان کے سامنے رکھتا ہے، اور تصویر کا دوسرا رخ سامنے نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسے صحیح سمجھنے پر مجبور بھی ہے۔ اس وجہ سے مسلمانوں کے علمی مراکز اور دینی تحریکات سے ہم مسلسل یہ گزارش کرتے رہتے ہیں کہ وہ مغرب بلکہ پوری دنیا کی عام آبادی کو ورلڈ میڈیا کے سحر انگیز حصار سے باہر نکالنے کی کوئی صورت پیدا کریں، اور اسلام اور مسلمانوں کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے لانے کے لیے منظم اور سنجیدہ محنت کا اہتمام کریں۔ لیکن جہاں تک مغرب کے منصوبہ سازوں اور پالیسی میکر افراد اور اداروں کا تعلق ہے، ان کے بارے میں جناب ٹونی بلیئر کے اس ارشاد کو قبول کرنے میں ہمیں تامل ہے۔ انہیں ہم اتنا بھولا اور سادہ نہیں سمجھتے کہ وہ اس قدر ضروری اور بنیادی حقائق سے بھی بے خبر ہوں گے اور محض ’’لاعلمی‘‘ کی وجہ سے انہوں نے مسلمانوں کے کردار کو تسلیم نہ کرنے اور انہیں تعصب و امتیاز کا نشانہ بنانے کی پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں۔

بہرحال ان گلوں اور شکووں کے باوجود ہم برطانیہ میں ’’ہفتہ بیدارئ اسلام‘‘ منانے اور اس کی افتتاحی تقریب کے لیے برطانوی وزیر اعظم جناب ٹونی بلیئر کے مذکورہ بالا پیغام کا خیر مقدم کرتے ہیں، البتہ اس کے ساتھ ہم جناب ٹونی بلیئر سے یہ استدعا کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنا یہ پیغام دنیا بھر کے حکمرانوں، بالخصوص مغرب کے پالیسی ساز اداروں کو بھی ارسال کر دیں، نیز مسلمانوں اور مغرب کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی اور بے اعتمادی کو صرف ’’لاعلمی‘‘ کے حوالے کر دینے کی بجائے حقیقی اسباب و عوامل کی تلاش اور نشاندہی کی طرف بھی اصحابِ دانش کی توجہ دلائی،ں جو اس بے اعتمادی اور کشیدگی کا اصل باعث ہیں اور جنہیں دور کیے بغیر حالات کی اصلاح کی طرف پیشرفت ممکن نہیں ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter