تبلیغی جماعت کا عالمی اجتماع اور دعوتِ اسلام کے تقاضے

   
۶ دسمبر ۲۰۰۳ء

اسلام یہودیت اور ہندومت کی طرح نسلی دین نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اعلانِ نبوت کے بعد سے قیامت تک کا ہر انسان اسلام کی دعوت اور پیغام کا مخاطب ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امتیازات اور خصوصیات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کسی خاص قوم، علاقہ یا محدود زمانے کے لیے مبعوث ہوتے تھے، مگر میں پوری انسانیت بلکہ ’’الی الخلق‘‘ تمام مخلوقات کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ میرے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے، قیامت تک میری ہی نبوت چلے گی اور نہ صرف ہر انسان بلکہ دونوں مکلف مخلوقوں یعنی انسانوں اور جنوں کا قیامت تک دنیا میں آنے والا ہر فرد اپنی نجات اور فلاح کے لیے میری دعوت اور تعلیمات کو قبول کرنے کا پابند ہے۔

اسلام کوئی نیا مذہب اور دین نہیں بلکہ ان آسمانی تعلیمات کا تسلسل ہے جن کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا، اور ان کے بعد ہزاروں پیغمبروں کے ذریعے وہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی انسانوں تک پہنچتی رہی، تاآنکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اس وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کا آخری مکمل اور فائنل ایڈیشن قرآن کریم کی صورت میں نسل انسانی تک پہنچ گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو قیامت تک اصلی حالت میں محفوظ رکھنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ اس کی تعبیر و تشریح کے طور پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و تعلیمات اور سیرت و سنن کو بھی تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ کرنے کا اہتمام فرما دیا۔ چنانچہ خود قرآن کریم نے سابقہ آسمانی کتابوں توراۃ، زبور، انجیل اور دیگر صحائف کے حوالہ سے اپنا تعارف اس طرح کرایا کہ وہ ان آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا اور ان کی تعلیمات کا محافظ ہے، اور اس کی دعوت بنیادی طور پر وہی ہے جو دعوت حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام انسانوں تک پہنچاتے آئے ہیں اور قرآن کریم انہی آسمانی تعلیمات کی صحیح، محفوظ اور مکمل شکل دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔

نسلِ انسانی کے لیے اسلام کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ یہ زمین و آسمان اور کائنات کا وسیع تر نظام کسی حادثہ یا اتفاقیہ واقعہ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے جو کائنات کا مالک، خالق اور مدبر و منتظم ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی سب سے بہتر مخلوق ہے جسے دنیا میں عارضی طور پر محدود وقت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہ امتحان گاہ ہے جہاں زندگی بسر کرنے کے لیے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کے ذریعے ہدایات دی گئی ہیں۔ اگر انسان ان ہدایات کے مطابق دنیا کی عارضی زندگی بسر کرے گا تو اسے اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی ہمیشہ ہمیشہ کی خوشگوار زندگی نصیب ہو گی۔ اور اگر اس نے دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبروں کی ہدایات و تعلیمات کی پروا نہ کی اور اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزار دی تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور اسے اپنے خالق و مالک کی ناراضگی اور عتاب کا نشانہ بننا پڑے گا۔

دنیا کی عارضی زندگی کے بعد انسان پر جو موت آتی ہے وہ فنا کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک جہان سے دوسرے جہان میں منتقل ہونے کا نام ہے۔ برزخ کا ایک درمیانی دور گزارنے کے بعد اس انسان کو دوبارہ قبر سے اٹھایا جائے گا، حشر کے میدان میں سب کو اکٹھا کیا جائے گا، قیامت قائم ہوگی، حساب کتاب ہوگا، سب لوگوں کے ایمان و اعمال کے حساب کے بعد ان کے جنتی اور دوزخی ہونے کا فیصلہ ہوگا اور اس کے بعد سب انسان بلکہ جن بھی اس فیصلے کے مطابق جنت یا دوزخ میں منتقل کر دیے جائیں گے۔

اسلام کی یہ دعوت دنیا کے ہر انسان کے لیے ہے اور اسے دنیا کے ہر شخص تک پہنچانا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ دنیا کے سب انسانوں کی فلاح اور کامیابی اس چیز میں ہے جو ہمارے پاس ہے تو منطقی طور پر یہ بات خودبخود ہماری ذمہ داری بن جاتی ہے کہ ہم نجات، فلاح اور کامیابی کے اس فارمولے کو دنیا کے ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ ورنہ وہ پیغام اور دعوت نہ پہنچنے کی صورت میں دنیا کا کوئی شخص، طبقہ یا قوم ہدایت اور فلاح سے محروم رہ جاتی ہے تو اس کی اس محرومی کی ذمہ داری میں ہم بھی شریک ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہر دور میں امتِ مسلمہ کے حساس اور فرض شناس لوگوں نے دعوتِ اسلام کے فریضہ کی ادائیگی کی کوئی نہ کوئی عملی صورت ضرور نکالی ہے اور نسلِ انسانی تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا عمل ہر زمانے میں جاری رہا ہے۔

ایک زمانے میں مسلمان تاجر اور صوفیائے کرامؒ اسلام کی دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے تھے۔ مسلمان تاجر کاروبار کے لیے دنیا کے مختلف علاقوں میں جاتے تھے اور ان کی ایمانداری، دیانت و امانت اور اخلاق و کردار سے متاثر ہو کر ہزاروں لوگ مسلمان ہو جایا کرتے تھے۔ اسی طرح صوفیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کافروں کے علاقوں میں ڈیرے لگاتے تھے۔ ان کی نیکی، تقویٰ، سادگی، قناعت اور روحانیت کے اثر و برکت سے پورے علاقے کی کایا پلٹ جایا کرتی تھی اور لاکھوں غیر مسلم انہیں دیکھ کر مسلمان ہو جایا کرتے تھے۔ دعوت کا فطری اور سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ یہی ہے، کیونکہ اخلاق و کردار سے متاثر ہو کر قبول کیا جانے والا دین لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے اور اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ اس کے نتائج و اثرات کے مظاہر سے بھری پڑی ہے۔

دعوت و تبلیغ کی موجودہ عالمگیر جدوجہد بھی اسی عمل کو زندہ کرنے کی محنت ہے، جس کا آغاز ایک مرد درویش حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ نے اب سے کم و بیش پون صدی قبل کیا۔ یہ ان کے خلوص اور جہد مسلسل کا ثمرہ ہے کہ ان کا لگایا ہوا پودا اب ایک تن آور درخت بن کر پوری دنیا میں برگ و بار دے رہا ہے اور دعوت و تبلیغ کا یہ سلسلہ پوری دنیا میں دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ کی قائم کردہ تبلیغی جماعت کی محنت اور جدوجہد دراصل مسلمان معاشرہ کی اصلاح کی تحریک ہے۔ جس کا مقصد عام مسلمان کو دین کی طرف واپس لانا، مساجد کو آباد کرنا، دین کی بنیادی تعلیمات کو عام کرنا، مسلمانوں میں دینی فرائض و واجبات کا ذوق بیدار کرنا، سنت نبویؐ کے مطابق زندگی بسر کرنے کا شوق ابھارنا، حلال و حرام کے فرق کا احساس دلانا اور باہمی حقوق و آداب کی ادائیگی کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے۔

یہ اصلاحِ نفس کی جدوجہد ہے اور فرد کی اصلاح کی محنت ہے۔ ظاہر بات ہے کہ مشینری کی اصلاح کے لیے پہلے پرزوں کی اصلاح اور صفائی ضروری ہوتی ہے، اور سوسائٹی کی اصلاح کے لیے افراد کی اصلاح ایک مقدم اور ناگزیر ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ابتدائی مرحلہ ہے اور تبلیغی جماعت کے لاکھوں افراد دنیا بھر میں اسی مرحلہ کی جدوجہد میں شب و روز مصروف ہیں۔ جس سے تبلیغی جماعت کی قیادت کا مقصد اور حکمت عملی یہ سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا کے ہر خطے کے مسلمانوں میں ایمان و اعمال اور اخلاق و کردار کے حوالے سے ایسے تربیت یافتہ افراد اور جماعتیں وجود میں آجائیں جو دین کی اجتماعی محنت اور دعوت و تبلیغ کے اگلے مراحل کے لیے بنیاد بن سکیں۔ کیونکہ کسی بھی جدوجہد کے لیے پہلے تربیت یافتہ افراد کار کی ضرورت ہوتی ہے، اور افراد کار کی تیاری کے بغیر کوئی بھی محنت اور تحریک کامیابی کی طرف نہیں بڑھ سکتی۔

اصلاحِ نفس اور افراد کی دینی و اخلاقی تربیت کی یہ محنت کسی دور میں ہماری خانقاہیں اور صوفیائے کرامؒ کیا کرتے تھے، اور یہی محنت اب زیادہ وسیع دائرے میں تبلیغی جماعت کر رہی ہے۔ اسی لیے میں تبلیغی جماعت کو ’’موبائیل خانقاہ‘‘ کہا کرتا ہوں۔ کام وہی ہے، طریق کار بھی وہی ہے اور اہداف بھی وہی ہیں، صرف دائرہ کار کے تنوع اور وسعت کا فرق ہے۔ اور چونکہ یہ دور عالمگیریت کا ہے، بین الاقوامیت کا ہے، اجتماعیت کا ہے، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے مطابق ’’تقارب زمان‘‘ کا ہے، اس لیے اس خانقاہی نظام کو اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمت نے بین الاقوامی وسعت اور تنوع کی شکل دے دی ہے۔

فرد اور نفس کی اصلاح کے بعد دوسرا مرحلہ دعوت و تبلیغ میں سوسائٹی کی اجتماعی اصلاح ہے۔ اس کے لیے سوسائٹی کی اجتماعی خرابیوں کے خلاف آواز اٹھانا اور مظالم کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا ضروری ہے۔ جسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے تعبیر کیا ہے۔ اور اسی کے حوالے سے فرمایا ہے کہ معاشرہ میں پھیلنے والی برائیوں اور خرابیوں کو حسبِ موقع ہاتھ یا زبان سے روکنا اور دل میں ان کے خلاف نفرت قائم رکھنا ایمان کے تقاضوں میں سے ہے۔ اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’بہترین جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے‘‘۔ ان امور کا تعلق سوسائٹی کی اجتماعی اصلاح سے ہے اور ایک مسلم سوسائٹی کو برائیوں، خرابیوں اور مظالم سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ محنت ضروری ہے، ورنہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق خرابیاں اور برائیاں پورے معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی اور اس کی سزا میں بھی سب لوگ شریک ہوں گے۔ فرد اور نفس کی اصلاح کے بعد یہ اصلاح و تبلیغ کا دوسرا مرحلہ ہے جو مسلمانوں کے فرائض میں سے ہے اور جس کی طرف قرآن و سنت میں بطور خاص توجہ دلائی گئی ہے۔

اس کے بعد تیسرا مرحلہ غیرمسلموں تک اسلام کی دعوت پہنچانے کا ہے جو اگرچہ پہلے دو مراحل پر موقوف نہیں ہے، لیکن اس کا دائرہ ان دونوں سے مختلف ہے۔ دنیا بھر کے غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا اور انہیں اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرانا ہماری ملی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت دنیا میں اس کا کوئی نظم موجود نہیں ہے۔ بلکہ اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں اور کافروں بالخصوص مغرب اور عالم اسلام کے درمیان کشمکش اور تصادم کا جو ماحول بن گیا ہے اور باہمی منافرت کی جو فضا دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، اس میں دعوت کے لیے مناسب ماحول کے امکانات دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ دعوت کا عمل مختلف ماحول اور نفسیات کا متقاضی ہوتا ہے، جبکہ کشمکش اور محاذ آرائی کا ماحول اور نفسیات و ضروریات اس سے بالکل مختلف بلکہ متضاد ہوتی ہیں، اور اس وقت یہی بات مسلمانوں کے بڑے حلقے میں کنفیوژن کا باعث بنی ہوئی ہے۔

ایک طرف مسلمانوں کے خلاف مغرب کی ثقافتی یلغار ہے، معاشی بالادستی کی جنگ ہے، مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لیے ہزاروں مسیحی مشنریوں اور این جی اوز کی شبانہ روز محنت ہے، اور مسلم اقوام و ممالک کی آزادی و خودمختاری سلب کرنے کی معرکہ آرائی ہے، جس میں دوسری غیر مسلم اقوام بھی مغرب کی شریک کار ہیں۔ اس یلغار کا سامنا کرنے کے تقاضے مختلف ہیں اور اس کی ضروریات جدا ہیں۔ جبکہ دوسری طرف دنیا کی مختلف اقوام تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ہے، دعوت و تبلیغ کا دینی فریضہ ہے۔ اس کے تقاضے بالکل دوسرے ہیں اور اس کی ضروریات و نفسیات کا دائرہ قطعی طور پر اس سے متضاد ہے۔ کنفیوژن کی بات یہ ہے کہ ان دونوں ذمہ داریوں اور ان کے متضاد تقاضوں کے درمیان نہ تو کوئی حدِ فاصل قائم ہو رہی ہے اور نہ ہی امتِ مسلمہ کے دینی مراکز اور حلقوں کے درمیان تقسیم کار کی کوئی صورت دکھائی دے رہی ہے۔ ہماری موجودہ بدقسمتی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر دینی مرکز اور حلقہ سارے کام خود کرنا چاہتا ہے اور دوسرے حلقوں سے بھی یہی توقع رکھتا ہے۔ تقسیم کار اور اپنے حصے کا کام کر کے دوسرا کام دوسروں کے حوالے کر دینے کا ذوق ہم میں پیدا نہیں ہو رہا، جو ہماری بہت سی اجتماعی خرابیوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ان حالات میں تبلیغی جماعت کا کام دیکھ کر ایک حد تک اطمینان ہوتا ہے کہ وہ اپنے حصہ کا کام کر رہی ہے، خوب کر رہی ہے، اور اس کے نتائج بھی لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں میں تبدیلی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ جبکہ اپنے دائرہ کار سے باہر کسی کام میں تبلیغی جماعت دلچسپی نہیں لیتی، حتیٰ کہ اس حد تک لاتعلق بن جاتی ہے کہ اسے اعتراضات کا نشانہ بھی بننا پڑ جاتا ہے۔ یہ بات بہت سے دوستوں کے ہاں عیب سمجھی جاتی ہے اور کمزوری شمار ہوتی ہے، مگر میرے نزدیک یہ خوبی کی بات ہے اور کمال کی بات ہے کہ تقسیم کار کے اصول کو سمجھا جائے، اپنے حصے کا کام دلجمعی سے کیا جائے، دوسروں کے حصے کے کام میں دخل نہ دیا جائے بلکہ ان پر اعتماد کیا جائے، کسی کے کام کی نفی نہ کی جائے اور اگر ممکن ہو تو ان سے تعاون کیا جائے۔ کیونکہ دین کسی ایک شعبے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی دین کی محنت کسی ایک شعبے میں منحصر ہے۔ جو شعبہ کسی کے ذوق سے مطابقت رکھتا ہو، اسے اسی میں کام کرنا چاہیے۔ اور دین کے دوسرے شعبوں کی نفی کرنے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے ان سے تعاون کرنا چاہیے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں دین کی اجتماعی محنت کا یہ ناگزیر تقاضہ ہے جس سے صرفِ نظر کر کے ہم بہت سی خرابیوں اور ناکامیوں سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

تبلیغی جماعت کا عالمی تبلیغی اجتماع رائے ونڈ میں شروع ہے جو ۷ دسمبر اتوار کو ظہر سے قبل اجتماعی دعا پر اختتام پذیر ہو گا۔ دنیا بھر سے لاکھوں افراد اس میں شریک ہیں، جن میں علماء کرام، صلحائے عظام اور دینی کارکنوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ بیانات ہوں گے، دنیا کے مختلف حصوں میں بھیجنے کے لیے ہزاروں جماعتوں کی تشکیل ہو گی، دعوت و تبلیغ کے حوالے سے ہدایات جاری ہوں گی اور امتِ مسلمہ اور نسلِ انسانی کی ہدایت و فلاح کے لیے دعائیں ہوں گی۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس اجتماع کو اپنے مقاصد میں کامیابی عطا فرمائیں، دنیا بھر کے انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں اور اجتماع میں کیے جانے والے بیانات، اعمال اور دعاؤں کو قبولیت و رضا سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter