دینی مدارس میں انقلابی تبدیلیوں کیلئے سرکاری فنڈ

   
تاریخ : 
مارچ ۲۰۰۳ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ فروری ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال نے کہا ہے کہ حکومت جن مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے رقوم فراہم کرے گی ان پر وفاقی وزارت تعلیم کا مکمل کنٹرول ہوگا۔ یہ بات انہوں نے منگل کے روز برطانوی ادارہ ’’ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ‘‘ کے نمائندہ سوماچکربائی کو کہی جنہوں نے ایک وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی۔ وفد میں اسلام آباد میں متعین برطانوی سفیر بھی شامل تھے، انہوں نے بتایا کہ مدارس میں انقلابی تبدیلیوں کے لیے بہت بڑی رقم مختص کی گئی ہے، ان تبدیلیوں سے مذہبی راہنماؤں نے بھی اتفاق کیا ہے، وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کے ساتھ انفرادی ملاقاتوں کے دوران سرحد اور بلوچستان کے وزرائے تعلیم نے اصولی طور پر اس بات سے اتفاق کر لیا ہے کہ یہ مدارس وفاقی وزارت تعلیم کے حوالے کر دیے جائیں گے تاکہ ان میں جدید تعلیم متعارف کرائی جائے اور انہیں زیادہ سے زیادہ مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

خبر کے مندرجات پر کسی تفصیلی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے اور اس خبر سے دینی مدارس کے حوالہ سے مغربی ممالک کی دلچسپی اور حکومت پاکستان کے عزائم ایک بار پھر واضح ہوگئے ہیں اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے، ان میں انقلابی تبدیلیاں لانے اور انہیں زیادہ سے زیادہ مالی معاونت فراہم کرنے کے اعلانات کا اصل مقصد دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینا اور ان پر وزارت تعلیم کا کنٹرول قائم کرنا ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ دینی مدارس کے وفاق اس بات کا نوٹس لیں گے اور اس سلسلہ میں حسب سابق دینی مدارس کو مشترکہ طور پر واضح راہنمائی اور پالیسی سے نوازیں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter