شیخ الہندؒ کے تین شاگرد

   
۲۹ ستمبر ۲۰۱۵ء

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کے تلامذہ میں میری معلومات کے مطابق تین بزرگ ضلع گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں ایک کی میں نے زیارت کی ہے جبکہ دوسرے دو بزرگوں کا تذکرہ کتابوں میں پڑھا اور بزرگوں سے سنا ہے۔

حضرت مولانا ابوالقاسم محمد رفیق دلاوریؒ

تحصیل وزیر آباد کے گاؤں دلاور چیمہ کے ایک بزرگ حضرت مولانا ابوالقاسم محمد رفیق دلاوریؒ کا شمار حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ میں ہوتا ہے اور وہ اپنی تصنیفی خدمات کے حوالہ سے علمی دنیا میں معروف ہیں۔ حنفی فقہ کے مطابق اردو زبان میں نماز کے احکام و مسائل پر ان کی کتاب ’’الصلوٰۃ عماد الدین‘‘ نے خاصی شہرت و قبولیت حاصل کی ہے۔ جبکہ امت مسلمہ کے مختلف ادوار میں نبوت کے جھوٹے دعویٰ کے ساتھ گروہ بندی کرنے والے حضرات کے تعارف میں دو جلدوں میں ’’ائمہ تلبیس‘‘ لکھ کر منکرین ختم نبوت کے تاریخی پس منظر کو انہوں نے واضح کیا جو تحریک ختم نبوت کے محاذ پر ان کا عظیم علمی کارنامہ ہے۔ انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ لاہور میں گزارا، میں ایک دفعہ ان کے گاؤں دلاور چیمہ میں اس ارادے سے گیا تھا کہ ان کے خاندانی حالات و پسماندگان کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کروں مگر چند پرانے بزرگوں سے سرسری سی ایک دو باتوں کے علاوہ کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ صرف یہ بات سننے میں آئی کہ اس نام کے کوئی بزرگ اس گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا خاندان رفتہ رفتہ یہاں سے منتقل ہوگیا تھا۔

حضرت مولانا عبد العزیز سہالویؒ

محدث گوجرانوالہ حضرت مولانا عبد العزیز سہالویؒ بھی حضرت شیخ الہندؒ کے معروف شاگرد تھے۔ ان کا تعلق ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں ’’سہال‘‘ سے تھا۔ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہو کر گوجرانوالہ میں آبسے تھے اور ایک سکول میں ٹیچر کے طور پر خدمات سر انجام دیتے تھے۔ اس وقت گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا نذیر حسینؒ تھے جو علاقہ کی بڑی شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور حکومت کی طرف سے انہیں ’’آنریری مجسٹریٹ‘‘ کا مقام و خطاب حاصل تھا۔ ۱۹۱۹ء میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ کے سانحے کے بعد جب گوجرانوالہ میں برطانوی حکومت کے خلاف عوام سڑکوں پر آئے تو حکومت کے لیے انہیں کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا۔ عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے مارشل لاء لگایا گیا اور برطانوی شاہی فضائیہ کے طیاروں نے مظاہرین کے جلوسوں اور ٹھکانوں پر بمباری کر کے ان کا راستہ روکا۔ اس المیہ کے بعد مولانا نذیر حسینؒ سے مسجد کے نمازیوں اور شہریوں کا اختلاف ہوگیا، شہریوں کا تقاضہ تھا کہ وہ سرکاری اعزازات ترک کر دینے کی قومی تحریک میں شریک ہوں اور ’’آنریری مجسٹریٹ‘‘ کے خطاب سے دست برداری اختیار کریں جس کے لیے وہ تیار نہ ہوئے۔ البتہ وہ مرکزی جامع مسجد کی خطابت سے الگ ہوگئے۔ ان کے بعد حضرت مولانا عبد العزیز سہالویؒ کو خطابت کی یہ ذمہ داری سونپی گئی اور وہ دو عشروں سے زائد عرصہ تک یہ خدمت سر انجام دیتے رہے۔ انہوں نے ۱۹۲۶ء کے دوران مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ کے ساتھ مدرسہ انوار العلوم قائم کیا جو آج بھی تعلیمی جدوجہد میں مصروف ہے۔ ان کے دور میں حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ متعدد بار یہاں تشریف لائے۔ بخاری شریف اور طحاوی شریف پر ان کے وقیع علمی کام اور اعلیٰ محدثانہ ذوق کے باعث انہیں محدث پنجاب اور محدث گوجرانوالہ کے لقب سے علمی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ وہ ’’العدل‘‘ کے نام سے ایک ماہوار علمی جریدہ بھی شائع کرتے تھے۔ انہیں حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے بعد حنفیت کے علمی ترجمان کی حیثیت حاصل تھی اور اس وقت کے بڑے اہل حدیث عالم دین حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے ساتھ ان کی مناظرانہ بحثوں اور نوک جھونک کی علمی حلقوں میں بڑی شہرت ہے۔ جبکہ لطف کی بات یہ ہے کہ دونوں بزرگ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الہند حضرت مولانا محمد حسن دیوبندیؒ کے شاگرد تھے۔

حضرت مولانا عبد العزیز سہالویؒ کی وفات کے بعد ان کے بھتیجے مولانا مفتی عبد الواحدؒ مرکزی جامع مسجد کے خطیب بنے اور مجھے ۱۹۶۹ء سے ۱۹۸۲ء تک ان کی نیابت و خدمت کا شرف حاصل رہا۔ جبکہ اس کے بعد سے اب تک بحمد اللہ تعالیٰ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی خطابت کی خدمت تسلسل کے ساتھ سر انجام دے رہا ہوں۔

حضرت مولانا ابو احمد محمد عبد اللہ لدھیانویؒ

تیسرے بزرگ حضرت مولانا ابو احمد محمد عبد اللہ لدھیانویؒ تھے جو قیام پاکستان کے بعد لدھیانہ سے خاندان سمیت ہجرت کر کے گوجرانوالہ آبسے تھے۔ یہ علماء کا خاندان تھا اور رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کے رفقاء اور رشتہ داروں میں سے تھے۔

ان کے بڑے فرزند مولانا عبد الواسع لدھیانویؒ تقسیم ہند سے قبل مجلس احرار اسلام کے سرکردہ حضرات میں شمار ہوتے تھے۔ تحریک آزادی اور قیام پاکستان کے بعد تحریک ختم نبوت میں ان کا نمایاں کردار رہا ہے۔ جبکہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانویؒ کے سب سے چھوٹے فرزند علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کے ساتھ جمعیۃ علماء اسلام میں ربع صدی تک میری سرگرم رفاقت رہی ہے۔ وہ گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے ناظم اعلیٰ اور پھر امیر کے طور پر متحرک رہے جبکہ طویل عرصہ تک جماعتی حلقوں میں علامہ محمد احمد لدھیانویؒ ، ڈاکٹر غلام محمد مرحوم، اور راقم الحروف کی رفاقت مثالی سمجھی جاتی رہی ہے۔

حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانویؒ بھی شیخ الہندؒ کے شاگرد تھے۔ مجھے ان سے نیاز مندی حاصل رہی ہے۔ جب تک صحت نے انہیں اجازت دی وہ جمعہ مرکزی جامع مسجد میں باقاعدگی سے پڑھتے تھے، اچھی باتوں پر حوصلہ افزائی کرتے تھے، غلطیوں پر ٹوکتے اور سمجھاتے تھے اور بھرپور شفقت اور دعاؤں سے نوازتے تھے۔ میں دوستوں کے سامنے ’’تحدیث نعمت‘‘ کے طور پر ذکر کیا کرتا ہوں کہ بحمد اللہ تعالیٰ چار بڑے بزرگوں نے سالہا سال تک جمعہ کی نماز میری اقتدا میں ادا کی ہے۔ (۱) حضرت شیخ الہندؒ کے شاگرد مولانا محمد عبد اللہ لدھیانویؒ ، (۲) حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے مجاز صحبت حضرت حافظ عنایت علیؒ ، (۳) استاذ الاساتذہ حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور (۴) استاذ الحفاظ حضرت حافظ نظام الدینؒ۔ آخر الذکر بزرگ وہ ہیں جن کے بارے میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے وفات سے ایک روز قبل مجھے وصیت کی تھی کہ کوشش کرنا کہ مجھے قبر کی جگہ حافظ نظام الدینؒ کی قبر کے قریب مل جائے۔ چنانچہ یہ دونوں بزرگ گوجرانوالہ کے بڑے قبرستان میں ایک ساتھ آرام فرما ہیں۔

حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانویؒ وسعت مطالعہ کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کا بھی عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ پاکستان میں نفاذ اسلام اور دعوت دین کے حوالہ سے ان کی متعدد کتابیں اور رسالے ان کے دور میں شائع ہوئے اور بہت سے لوگوں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بنے۔ انہوں نے لدھیانہ سے گوجرانوالہ ہجرت کرنے کے بعد دارالعلوم نعمانیہ کے نام سے ایک دینی ادارہ قائم کیا اور متروکہ اوقاف میں سے اردو بازار اور بازار بھابڑہ میں دو جگہوں کا اس کے لیے انتخاب کیا۔ مگر دوسرے قابضین کے ساتھ ’’مقدمہ بازی‘‘ میں یہ خاندان ایسا الجھا کہ ایک اچھا دارالعلوم قائم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ البتہ بازار بھابڑہ میں محدود جگہ پر قرآن کریم حفظ و ناظرہ کی کلاس اب بھی موجود ہے جو ان کے پوتے مولانا محمد اسامہ (فاضل نصرۃ العلوم) جاری رکھے ہوئے ہیں۔

میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ حضرت مولانا عبد اللہ لدھیانویؒ کی علمی شخصیت اور شیخ الہندؒ و علماء لدھیانہ کے ساتھ ان کی اعلیٰ نسبت کو مقدمہ بازی اور لدھیانوی مزاج سے ہٹ کر کوئی مناسب ماحول مل جاتا تو گوجرانوالہ کو ایک اچھا تعلیمی اور تحریکی مرکز میسر آجاتا، مگر ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔

ان کی وفات پر حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے لکھا تھا کہ:

’’مولانا محمد عبد اللہؒ موضع بلیہ والی ضلع لدھیانہ (مشرقی پنجاب) کے ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ مولانا مرحوم کو مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت شیخ الہندؒ سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ حضرت حکیم الامت تھانویؒ سے بیعت اور حضرت مفتی محمد حسنؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔ مولانا مرحوم نے زندگی کا طویل سفر اپنے اکابر و اسلاف کے نقش قدم پر طے کیا، مدت العمر تعلیم و تدریس اور ارشاد و تلقین کے پاکیزہ مشاغل میں منہمک رہے۔ تقسیم سے قبل لدھیانہ وغیرہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دیے اور تقسیم کے بعد گوجرانوالہ میں آرہے اور وہیں دارالعلوم نعمانیہ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا جس کے آخر دم تک مہتمم رہے۔ مولانا نے ایک ادارہ تصنیف و تالیف بھی قائم کیا جس کے زیر اہتمام متعدد کتابیں خود مرتب کر کے ہزاروں کی تعداد میں شائع کیں۔ مولانا نے ۲۹ جمادی الاخریٰ ۱۳۹۵ھ / ۱۰ جولائی ۱۹۷۵ء کو بروز پنجشنبہ قبل مغرب گوجرانوالہ میں رحلت فرمائی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حق تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت و رضوان سے نوازے، آمین۔‘‘ (ماہنامہ بینات کراچی ستمبر ۱۹۷۵ء)

اللہ تعالیٰ ہمارے ان تینوں بزرگوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter