اسلام میں خواتین کے حقوق اور مغربی پراپیگنڈا

   
تاریخ اشاعت: 
۱۸ مارچ ۲۰۰۱ء

عالمی سطح پر خواتین کا ہفتہ منایا جا چکا ہے اور ہمارے معروف کالم نگار جناب اسلم کھوکھر کی تصنیف ’’دنیا کی نامور خواتین‘‘ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں انہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے ڈیڑھ سو سے زائد نامور خواتین کے حالات اور کارناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ اور ساڑھے چھ سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت اور معلوماتی کتاب فکشن ہاؤس ۱۸، مزنگ روڈ لاہور نے شائع کی ہے۔ کتاب کا آغاز ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ سے ہوا ہے اور ان کے بعد ام المومنین حضرت عائشہؓ کا تذکرہ ہے۔ اور امتِ مسلمہ پر ان دو عظیم خواتین کے جو احسانات ہیں ان کے حوالے سے حق بھی انہی کا بنتا ہے کہ کوئی مسلمان دنیا کی نامور خواتین کے تعارف کے لیے قلم اٹھائے تو آغازِ امت کی ان دو عظیم ماؤں سے ہو۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کے ہر بڑے انسان کی کامیابی میں کوئی نہ کوئی عورت اس کی پشت پر کھڑی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو عالمِ اسباب میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بپا کیے ہوئے عظیم اور کامیاب انقلاب کے پیچھے یہ دو خواتین کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔

  • ایک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں مصائب و مشکلات میں ان کا سہارا بن کر اور الجھنوں اور پریشانیوں میں مونس و غمخوار بن کر اپنا سب کچھ جناب نبی اکرمؐ کی ذات اور مشن پر لٹا دیا۔ ذرا تصور میں لائیے اس منظر کو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی بار غارِ حرا میں وحی کے تجربہ سے دوچار ہوئے، اچانک واقعہ اور وحی جیسا عظیم بوجھ پہلی بار سامنے آیا، گھبراہٹ میں گھر آئے، چہرے سے پریشانی ہویدا تھی۔ سب سے پہلے ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ نے ہی اس کیفیت کو محسوس کیا۔ دریافت کیا تو نبی اکرمؐ نے واقعہ بیان فرما دیا اور ساتھ ہی کہا کہ مجھے اپنے بارے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ یہ حضرت خدیجہؓ تھیں جنہوں نے ایک حوصلہ مند خاتون اور وفا شعار بیوی کی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا، اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، محتاجوں کو کھلاتے ہیں، مشکلات میں لوگوں کا سہارا بنتے ہیں اور ضرورتمندوں کو کما کر دیتے ہیں۔ حضرت خدیجہؓ مالدار خاتون تھیں اور کاروبار میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت سے متاثر ہو کر ہی انہوں نے آپ سے شادی کا فیصلہ کیا تھا، لیکن جب وقت آیا تو اپنا سارا مال اور کاروبار جناب نبی اکرمؐ کے مشن پر نچھاور کر دیا اور مشکلات و مصائب کے اس دور میں آخر دم تک آپ کا ساتھ نبھایا۔
  • دوسری خاتون ام المومنین حضرت عائشہؓ ہیں، جو ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں داخل ہوئیں، اور رسول اکرمؐ کے علوم و معارف کو اس ذوق و شوق اور حکمت و دانش کے ساتھ سمیٹا کہ نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد نصف صدی تک ان علوم و معارف کو لٹاتی رہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے حجرہ کی مرجعیت کو قائم رکھا اور جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں لوگ راہنمائی کے لیے اس حجرہ کے دروازے پر آتے تھے، آپؐ کی وفات کے بعد بھی ۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ کی علمی عظمت اور بلندی کے اظہار کے لیے معروف صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا یہ قول کافی ہے کہ ’’ہم صحابہ کرامؓ پر کبھی ایسا وقت نہیں آیا کہ ہم کسی الجھن میں پھنسے ہوں اور ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے پاس اس کا حل نہ پایا ہو۔‘‘

    آج جب خواتین کی بات ہوتی ہے تو سب سے زیادہ اعتراض اسلام پر کیا جاتا ہے، اور دنیا کو یہ کہہ کر گمراہ کیا جاتا ہے کہ اسلام عورت کی تعلیم کے خلاف ہے اور اسے رائے کا حق نہیں دیتا۔ لیکن یہ کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ اور خلفاء راشدینؓ کے دور میں حضرت عائشہؓ کو یہ مقام حاصل تھا کہ وہ نہ صرف تعلیم و تدریس کے اعلیٰ منصب پر فائز تھیں، بلکہ عوامی راہنمائی اور دینی قیادت میں بھی نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ حتیٰ کہ اپنے معاصر فقہاء کے اقوال و آرا پر کھلم کھلا نقد سے بھی گریز نہیں کرتی تھیں، اور ان کے اس نقد کا صحابہ کرامؓ میں انتہائی درجہ پر احترام کیا جاتا تھا۔

آج ہماری الجھن یہ ہے کہ ہم نے اپنے اپنے علاقائی کلچروں پر اسلام کا لیبل لگا دیا ہے، اور ہماری مقامی تہذیبوں کی خرابیاں جمع ہو کر اسلام کے گلے کا ہار بن گئی ہیں، جس کی وجہ سے عورت کے بارے میں اسلام کا اصل موقف اور کردار کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گیا ہے، اور مغرب کا یہودی پریس اسی کنفیوژن کا سہارا لے کر بلکہ اسے زیادہ نمایاں کر کے اسلام کی تصویر کو دنیا کے سامنے مزید مسخ کرتا چلا جا رہا ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ دورِ نبویؐ اور صحابہ کرامؓ میں خواتین کو جو معاشرتی حقوق اور حیثیت حاصل تھی، اسے اپنے علاقائی کلچروں اور مقامی تہذیبوں کی آلودگیوں سے الگ کرتے ہوئے اصل رنگ میں پیش کیا جائے۔ کیونکہ اسلام کا اصل موقف وہی ہے جو اس دور میں تھا، اور اسلام میں عورت کے مقام کی اصل تصویر وہی ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے دور میں تھی، وہ تصویر ہماری نگاہوں سے ضرور اوجھل ہو گئی ہے، مگر احادیث و تاریخ کے ذخیرہ سے غائب نہیں ہوئی، اور اگر اسے جھاڑ پھونک کر تاریخ کے منظر پر ایک بار پھر سجا دیا جائے تو مغرب کی فریب کار تہذیب کے مصنوعی بیوٹی پارلر عالمی تہذیب کے منظر سے اس طرح غائب ہونا شروع ہو جائیں گے جیسے حضرت عمرؓ کو آتا دیکھ کر شیطان اپنا راستہ بدل لیا کرتا تھا۔

   
2016ء سے
Flag Counter