۱۶ جنوری کو صبح نماز فجر کے بعد درس سے فارغ ہوا تھا کہ ڈاکٹر حامد اشرف ہمدانی نے فون پر بتایا کہ ان کے والد محترم مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا فیصل آباد میں انتقال ہو گیا ہے۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ و انا الیہ راجعون جاری ہوا اور ڈاکٹر صاحب موصوف سے تعزیت و تسلی کے چند کلمات کہے، مگر جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔
اس روز ظہر کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ۲۷ اپریل کو گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والی ”ختم نبوت کانفرنس“ کے انتظامات کے سلسلے میں شہر کے سرکردہ علماء کرام کا اجلاس بلا رکھا تھا اور اجلاس کا وقت مجھ سے پوچھ کر طے کیا تھا، اس لیے اس اجلاس سے غیر حاضری میرے لیے مشکل تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وقتاً فوقتاً مختلف شہروں میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کرتی ہے، جس سے عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں دینی حلقوں میں بیداری کی فضا قائم رہتی ہے۔ گوجرانوالہ ڈویژن کی سطح پر یہ کانفرنس ۲۷ اپریل کو منی اسٹیڈیم شیخوپورہ روڈ پر منعقد ہونا طے پائی ہے، جس کے لیے پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی کی صدارت میں مجلس استقبالیہ قائم کر دی گئی ہے اور مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کو اس کا سیکرٹری چنا گیا ہے، جبکہ مولانا عبد الواحد رسول نگری، مولانا محمد عارف شامی اور سید احمد حسین زید پر مشتمل رابطہ کمیٹی بنائی گئی ہے، جو پورے ڈویژن کے مختلف شہروں کا دورہ کر کے علماء کرام اور کارکنوں کو ان کانفرنس کے لیے تیار کرے گی۔
مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کے ساتھ میرا پرانا تعلق تھا، وہ اس زمانے میں گوجرانوالہ کی پل لکڑ والا کی مسجد میں خطیب و امام تھے جب ہم نے گوجرانوالہ میں جمعیت علماء اسلام کی رکنیت سازی اور تنظیم کا کام شروع کیا تھا۔ میرا وہ طالب علمی کا آخری دور تھا اور ہمیں اس محنت میں مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا بھرپور تعاون حاصل تھا۔ وہ اپنے دور کے ممتاز خطباء میں شمار ہوتے تھے اور ان کے خطبات جمعہ اور دروس گوجرانوالہ میں اور پھر فیصل آباد میں عام لوگوں کے لیے کشش اور استفادے کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ میرا ان سے رابطہ شیرانوالہ لاہور کے حوالہ سے بھی تھا کہ وہ بھی میری طرح شیخ مکرم حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز سے ادارت و عقیدت کا تعلق رکھتے تھے اور شیرانوالہ لاہور کی حاضری میں ہمارا اکثر ساتھ رہتا تھا۔
گوجرانوالہ میں چند سال خطابت کے جوہر دکھا کر وہ فیصل آباد چلے گئے اور جناح کالونی کی مرکزی جامع مسجد میں بطور خطیب خدمات سر انجام دینا شروع کیں۔ ان کی خطابت نے فیصل آباد میں اپنا رنگ جمایا اور دیوبندی مسلک کی ترجمانی اور ترویج کی جدوجہد میں حضرت مولانا مفتی زین العابدین، حضرت مولانا تاج محمودؒ اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے ساتھ ان کا نام بھی نمایاں ہوتا چلا گیا۔ تحریک ختم نبوت ان کا خصوصی میدان تھا، چنانچہ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فورم پر نہ صرف اس محاذ پر مسلسل خدمات سر انجام دیں بلکہ ۱۹۷۳ء میں قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد چناب نگر (ربوہ) میں قادیانیوں کی آبادی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو آباد کرانے، مسلم کالونی کی ترقی اور وہاں ختم نبوت کی مسجد و مرکز کی تعمیر میں متحرک کردار ادا کیا اور فیصل آباد کے علماء کرام اور تاجران کو اس اہم کام کی طرف متوجہ کرنے کے لیے حضرت مولانا تاج محمودؒ اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے ساتھ ان کے دست و بازو کے طور پر محنت کی۔ جناح کالونی کی مرکزی جامع مسجد سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے ملت ٹاؤن میں جامع مسجد آمنہ اور اس کے ساتھ روحانی خانقاہ کا نظام قائم کرنے میں اپنی صلاحیتیں صرف کیں اور بہت سے لوگوں کے عقائد کی اصلاح اور دینی و روحانی تربیت کا ذریعہ بنے۔
شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کے ساتھ خصوصی عقیدت رکھتے تھے اور ان کی گفتگو و خطابت میں ان بزرگوں کے فیوض کا اکثر تذکرہ رہتا تھا، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ بھی ان کا مسلسل ربط و تعلق رہا اور وہ ان کے خوشہ چینوں میں شمار ہوتے تھے۔
کافی عرصہ سے بیمار تھے۔ میرا جب بھی فیصل آباد جانا ہوتا اور وقت میں گنجائش ہوتی تو محترم حافظ ریاض احمد قادری کے ہمراہ مولانا ہمدانیؒ کی بیمار پرسی کا موقع ضرور نکالتا اور وہ بھی بہت خوش ہوتے۔ ابھی چند ہفتے قبل حافظ ریاض احمد قادری کے ہمراہ حاضر ہوا، بستر علالت پر تھے، ضعف کا غلبہ تھا مگر بذلہ سنجی اسی طرح تھی جیسے جوانی کے زمانے میں ہوا کرتی تھی، کھلے مزاج اور بے تکلفانہ گفتگو کے عادی تھے۔ اس روز بھی کھلے مزاج کے ساتھ اور کھلے ماحول میں بہت سی باتیں کیں، لطیفے بھی ہوئے اور چٹکلے بھی سنائے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ بیماری اور ضعف نے ان کے مزاج کو متاثر نہیں کیا۔ وہ کم و بیش پچھتر برس کی زندگی گزار کر اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہو گئے ہیں۔
میں جنازے میں تو شریک نہ ہو سکا، مگر اگلے روز اپنے دو نواسوں حافظ حذیفہ خان سواتی اور حافظ خزیمہ خان سواتی کے ہمراہ مولانا مفتی محمد سعید مدنی کی معیت میں تعزیت کے لیے حاضر ہوا۔ مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کے چھوٹے بھائی مولانا محمد اکرم ہمدانی سے، جو خود بھی صاحبِ فراش ہیں، اور مولانا ہمدانی مرحوم کے بیٹوں ڈاکٹر حامد ہمدانی، مولانا طلحہ ہمدانی اور دیگر اہل خانہ سے تعزیت کی۔ نماز مغرب مسجد آمنہ میں پڑھا کر مسجد کے نمازیوں سے بھی تعزیت کی۔
اللہ تعالیٰ مولانا ہمدانی رحمہ اللہ تعالیٰ کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور پسماندگان کو ان کی حسنات جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔