مغربی فکر و فلسفہ کی ترویج اور نتائج قرآن و حدیث کی روشنی میں

   
شیخ الہندؒ اکادمی، واہ کینٹ
۲۴ جنوری ۲۰۲۴ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ شیخ الہندؒ اکادمی واہ کینٹ میں وقتاً‌ فوقتاً‌ حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور میں شکرگزار ہوں اکادمی کے منتظمین کا کہ ایک بار پھر موقع ملا اور ہم آپس میں کچھ دینی، علمی، فکری مسائل پر گفتگو کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، اور جو بات بھی علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ پاک عمل کی توفیق سے نوازیں۔ مجھے کہا گیا ہے کہ مغربی فلسفہ کا تعارف، اس پہ میں نے بات کرنی ہے۔ میں بالکل روایتی انداز سے ہٹ کر، مغربی فکر و فلسفہ کیا ہے، اس نے کیا رول ادا کیا ہے، اور کیا نتیجہ دیا ہے انسانی سوسائٹی کو، اِن تین پہلوؤں سے میں گزارش کرنا چاہوں گا۔

مغربی فکر و فلسفہ، جس پر مغرب کے سارے سسٹم کی، سارے نظام کی، سارے قوانین کی؛ فلسفہ تو وہی ہوتا ہے جس پر سب کا مدار ہوتا ہے؛ اگر میں قرآن پاک کے حوالے سے بات کروں تو قرآن پاک نے ایک آیت کریمہ میں ساری کہانی بیان کر دی ہے۔ مغرب کے فکر و فلسفہ کی بیس کیا ہے؟ قرآن پاک کہتا ہے ’’ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس‘‘ (النجم ۲۳)۔ دو بنیادیں ہیں: ایک ظن، اور ایک خواہش۔ ’’ان یتبعون الا الظن‘‘ یہ نہیں پیروی کرتے مگر ظن کی۔ [وما تھوی الانفس] اور جو انسانوں کا جی چاہتا ہے اس کی۔ عقل اور انسانی خواہش، اجتماعی۔ ایک فرد کی خواہش، ایک سوسائٹی کی خواہش، وہ بھی خواہش ہے، وہ بھی خواہش ہے۔ اور ظن؟ ایک بات میں اس سے پہلے عرض کرنا چاہوں گا۔

عقل اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ پاک نے نعمت دی بھی ہے، استعمال کرنے کا حکم بھی دیا ہے، غور و فکر کی دعوت بھی دی ہے، اور انسان کا اپنے معاملات طے کرنے میں، چلانے میں بہت بڑا معاون بھی بنا ہے۔ عقل استعمال ہوتی آ رہی ہے لیکن عقل کبھی بھی یقین کا فائدہ نہیں دیتی، نہ شخصی عقل، نہ اجتماعی عقل۔ عقل نے جتنے فیصلے کیے ہیں آج تک سب میں پیشرفت ہوئی ہے، نظرثانی کرنا پڑی ہے، اور سوچ پہ کہیں بریک نہیں ہے۔

عقل کیا ہے؟ کمپیوٹر ہے۔ عقل بہت اچھا کمپیوٹر ہے، اللہ پاک نے ہر انسان کو دیا ہے۔ جو سوسائٹی فیڈ کرتی ہے اس کے مطابق نتیجہ دیتا ہے یہ۔ اپنی طرف سے کچھ نہیں دیتی عقل۔ عقل ایک صلاحیت کا نام ہے۔ ایک بہت اچھا کمپیوٹر ہے۔ سوسائٹی فیڈ کرتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے، کمپیوٹر خالی ہے، فیڈنگ شروع ہو گئی، گھر سے شروع ہوئی، سوسائٹی سے، سکول سے، کالج سے، فیڈنگ ہوتی جاتی ہے، اس کے مطابق پھر وہ نتائج دیتا جاتا ہے۔ کسی کمپیوٹر میں آپ جو پروگرام فیڈ کریں گے اس کے مطابق نتیجہ آئے گا۔ یہ نہیں کہ فیڈ آپ نے کچھ اور کیا ہوا ہے، نتیجہ کوئی اور دے وہ۔ کوئی بھی کمپیوٹر ہے، خود کچھ نہیں دیتا، جو اس میں فیڈنگ ہوتی ہے، جو پیکج یا پروگرام، جس لیول کا، اس کے مطابق اس نے نتیجہ دینا ہے۔

آج تک عقل نتیجہ دیتی چلی آ رہی ہے اور قیامت تک دیتی رہے گی۔ لیکن یہ بات کہ عقل کا کوئی فیصلہ حتمی ہو، ممکن نہیں ہے۔ آپ بیسیوں دائرے دیکھ لیں۔ آج سے پچاس سال پہلے کا فیصلہ اور تھا، اُس سے پچاس سال پہلے کا فیصلہ اور تھا، آج کا اور ہے، آج سے پچاس سال بعد کا اور ہو گا۔ کیوں؟ معلومات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا، نتائج بدلتے جائیں گے۔ جوں جوں معلومات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا، نتائج قائم رہیں گے یا بدلتے رہیں گے؟ اور معلومات میں اضافے کا دروازہ بند ہو گیا ہے؟ اور بند ہو سکتا ہے؟ عقل زیادہ سے زیادہ ظنِ غالب کا فائدہ دیتی ہے۔ اور بہت اچھی نعمت ہے، ہمیں فیصلوں تک پہنچنے میں بہت بڑی معاون ہوتی ہے، لیکن قرآن پاک کیا کہتا ہے؟ ایک فیکٹر یہ ہے کہ عقل کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ یقین تو ممکن ہی نہیں۔ ظنِ غالب، جو یقین سے ایک درجہ نیچے ہوتا ہے۔

آپ کے ہاں منطقی کیا بات کرتے ہیں؟ وہم، خیال، ظن، یقین۔ یہ پہلے تین درجے عقل کے ہیں، آخری درجہ وحی کا ہے۔ وہم بھی عقل میں آتا ہے، وہ خیال کی شکل میں ذرا قرار پکڑ لے تو کیا ہو جاتا ہے؟ خیال ہو جاتا ہے۔ اور برابر ہو جائے تو شک ہو جاتا ہے۔ اور غالب ہو جائے تو ظنِ غالب۔ پھر آگے یقین۔ پہلے تینوں چاروں درجے عقل کے ہیں، اور عقل ہی دیتی ہے۔ لیکن اللہ رب العزت نے یہ فرمایا کہ عقل زیادہ سے زیادہ کیا کرتی ہے؟ ظنِ غالب ہے۔ زنِ غالب نہیں، ظنِ غالب۔ ویسے تو آج کل زنِ غالب ہی ہے۔ لیکن میں ظنِ غالب کی بات کر رہا ہوں کہ [عقل] ظنِ غالب کا فائدہ دیتی ہے۔

دوسری بات فرمائی ’’وما تھوی الانفس‘‘۔ جو انسانوں کے جی چاہتے ہیں وہ۔ آج پورے فلسفے کی بنیاد کیا ہے؟ سوسائٹی جو سوچتی ہے، سوسائٹی جو چاہتی ہے۔ آج کے تمام تر فلسفے کی بنیاد دو پہیوں پر ہے: سوسائٹی کیا سوچتی ہے، سوسائٹی کیا چاہتی ہے۔ سوسائٹی کی خواہش اور سوسائٹی کی سوچ کو معلوم کرنے کا ذریعہ ووٹ ہے۔ ووٹ خود کوئی سسٹم نہیں ہے، جمہوریت خود کچھ نظام نہیں ہے۔ سوسائٹی کی خواہش بتاتی ہے جمہوریت، سوسائٹی یہ چاہتی ہے۔ سوسائٹی کی سوچ بتاتی ہے، سوسائٹی یہ سوچتی ہے، سوسائٹی یہ چاہتی ہے۔

اللہ رب العزت نے یہ دونوں بنیادیں بیان کر کے فرمایا: ’’ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس‘‘ کہ لوگ جو کام کرتے ہیں نا، یا ظنِ غالب کی پیروی کرتے ہیں، یا خواہش۔ یہ اگلا مسئلہ ہے، فرد کی خواہش بھی خواہش ہے، طبقے کی خواہش بھی خواہش ہے، قوم کی خواہش بھی خواہش ہے، سماج کی خواہش بھی خواہش ہے۔ خواہش کے درجات ہیں۔ آگے فرمایا۔ ایک ہی آیت ہے۔ یہ ظنِ غالب کی پیروی کرتے ہیں اور سوسائٹی کی خواہش کی پیروی کرتے ہیں، یا سوسائٹی کیا چاہتی ہے۔ لیکن یقین اور ہدایت تو اللہ [کی طرف سے] ’’ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس ولقد جاءھم من ربھم الھدیٰ‘‘ (النجم ۲۳) ہدایت اور یقین وہاں سے آتا ہے۔

میں عرض کیا کرتا ہوں، قرآن پاک نے ساری یہ جو فکری جنگ ہے نا، سب کی بنیاد یہ بیان کر دی۔ یہ تو آپ کے بھی علم میں ہے، آج کے فیصلے کس پہ ہوتے ہیں؟ سوسائٹی کیا چاہتی ہے جی۔ ’’تھوی الانفس‘‘ کیا ہے؟ سوسائٹی کیا چاہتی ہے، سوسائٹی کیا سوچتی ہے۔ سوسائٹی کی سوچ کا نتیجہ کیا ہے؟ ظن۔ لیکن ہدایت اور یقین کہاں سے آتا ہے؟ ’’ولقد جاءھم من ربھم الھدیٰ‘‘۔ یہ تو میں نے بیس بیان کی ہے۔

پریکٹیکل کیا ہوا ہے؟ مغربی فلسفہ، یہ ہیومنٹی کا فلسفہ آج کل جو ہے، اس کو آپ کچھ بھی کہہ لیں، اس نے عملاً‌ کیا کیا ہے؟ اس پر ایک حدیثِ مبارکہ عرض کرنا چاہوں گا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، حجۃ الوداع کا جو خطبہ ہے، خطبات کا مجموعہ، میں نوجوانوں سے کہا کرتا ہوں یار ایک دفعہ سٹڈی کر لو اس کو۔ مطالعہ نہیں ’’سٹڈی‘‘۔ گہرائی سے پڑھ لو ذرا، بہت سی باتیں سمجھ میں آجائیں گی۔ اس خطبہ حجۃ الوداع میں ایک جملہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منیٰ میں کھڑے ہو کر۔ وہ بڑا خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں۔ ’’کل امر الجاہلیۃ موضوع تحت قدمی‘‘ آج جاہلیت کی ساری قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ یہ حضورؐ نے اپنی تئیس سالہ محنت کے نتیجے کا اعلان کیا ہے۔ اور یہ کہہ کے کیا ہے کہ ’’ھل بلغت؟‘‘ میں نے بات پوری کر دی ہے؟ جی، کر دی ہے۔ یا اللہ! تو بھی گواہ ہو، میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے۔ ’’فزت و رب الکعبۃ‘‘ ربِ کعبہ کی قسم میں اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ اور جملہ کیا فرمایا؟ ذرا غور فرمائیں: ’’کل امر الجاہلیۃ موضوع تحت قدمی‘‘۔ جاہلیت کی ساری قدریں آج کہاں ہیں؟ میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ یعنی میں جاہلیت کی قدروں کو روند کر آگے بڑھ رہا ہوں۔

اس پہ ذرا غور یوں فرمائیں کہ وہ جاہلیت، حضورؐ کے پاؤں کے نیچے کیا تھا؟ ذرا دیکھ لینا چاہیے۔ جب حضورؐ منیٰ میں ڈیڑھ لاکھ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ فرما رہے ہیں کہ جاہلیت کی ساری قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں، تو ذرا نظر ڈالنی چاہیے، کیا کیا تھا؟

صفا پہاڑی پہ پہلا اعلان کیا تھا ’’ایھا الناس‘‘۔ عربوں کو نہیں کہا تھا، قریشیوں کو نہیں کہا تھا۔ ’’ایھا الناس‘‘ کہا تھا۔ اس وقت سے لے کر۔ منیٰ کتنے فاصلے پر ہے؟ دس کلو میٹر ہے۔ صفا پہاڑی کی پہلی آواز سے لے کر اِس حجۃ الوادع کے آخری خطبے تک۔ عرب معاشرہ، چونکہ پہلا دائرہ وہ تھا، کون کون سی قدریں ختم ہوئی ہیں؟ ذرا ایک فہرست بنا لیں۔

(۱) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پہ کھڑے ہو کر ’’ایھا الناس‘‘ کر رہے تھے پہلی بار، چاروں طرف بت ہی بت تھے۔ صفا پہاڑی اور نائلہ اور اساف یوں کھڑے تھے۔ بیت اللہ کے اندر باہر بت تھے۔ اور جب حضور ’’کل امر الجاہلیۃ موضوع تحت قدمی‘‘ فرما رہے ہیں، پورے جزیرۃ العرب میں کوئی بت خانہ تھا؟ یہ پہلی جاہلی قدر ہے جو حضورؐ کے پاؤں کے نیچے آئی۔ بائیس سال ہیں، کھینچ تان کے تئیس سال ہو جاتے ہیں۔ پورے جزیرۃ العرب میں کوئی بت خانہ باقی رہ گیا تھا؟

(۲) اچھا، نسلی اور لسانی عصبیت۔ قریش، غیر قریش برابر نہیں ہیں۔ کالا، گورا برابر نہیں ہیں۔ ہاشمی، غیر ہاشمی برابر نہیں ہیں۔ بیسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نسل اور رنگ اور زبان کے امتیاز کو اس عرصہ میں ختم کر دیا تھا۔ اور اس سے ایک سال پہلے کی بات ہے، ایک منظر ذرا تھوڑا سا نظر ڈال لیں۔ مکہ فتح ہوا ہے۔ اوپننگ ہو رہی ہے۔ پہلی اذان جو ہے یہ کیا تھی؟ فتح مکہ کے بعد اسلامی ریاست کی اوپننگ ہو رہی ہے۔ پہلی اذان دینی ہے۔ خانہ کعبہ کی چھت پہ کھڑے ہو کر کس سے دلوائی؟ حضرت بلالؓ۔ جس کو خانہ کعبہ کے نیچے کھڑے ہونے کی بھی شاید اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اُس وقت، ایک قریشی سردار ہے، تاریخ میں ذکر ہے، آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیے اور آنکھوں پہ ہاتھ رکھے رکھے مسجد سے باہر نکل گیا۔ اپنے فوت شدہ باپ کو مخاطب ہو کے کہتا ہے، میرے باپ! تو کتنا خوش قسمت ہے کہ یہ منظر دیکھنے سے پہلے دنیا سے چلا گیا ہے کہ کالا غلام بیت اللہ کی چھت پہ کھڑا ہے اور اذان دے رہا ہے۔

میں نے صرف ایک جھلک عرض کی ہے۔ بعد میں وہ خیر مسلمان ہو گئے تھے۔ لیکن وہاں اس وقت آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے اسی طرح کہ میری نظر نہ پڑے کہ بلالؓ چھت پہ کھڑا ہے۔ اور کہتا جا رہا ہے کہ اے میرے باپ! تو بڑا خوش قسمت ہے کہ یہ منظر دیکھنے تک تو زندہ نہیں رہا۔ میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں۔ ختم کیا۔

(۳) اچھا، زنا عام تھا۔ اگر تفصیلات میں جاؤں گا بڑی لمبی بات ہو جائے گی۔ رضامندی کا زنا قانوناً‌ اور معاشرتاً‌ ہر لحاظ سے جائز تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ ’’کل امر الجاہلیۃ موضوع تحت قدمی‘‘ کہا تو زنا کی گنجائش کا کوئی پہلو باقی رہ گیا تھا؟

(۴) شراب تھی، پیتے تھے۔ غزوۂ اُحد تک تو سارے ہی پیتے رہے۔ جب ختم کی تو پورے جزیرۃ العرب میں کوئی مے خانہ باقی تھا؟

(۵) جوا تھا۔ بیت اللہ میں کھیلا جاتا تھا، مسجد حرام میں کھیلا جاتا تھا، مذہب کے نام پہ کھیلا جاتا تھا۔ [حجۃ الوادع تک] باقی رہ گیا تھا؟

(۶) سود تھا۔ چلتا تھا اور وہی دلیل پیش کی جاتی تھی جو آج ہم پیش کرتے ہیں: ’’انما البیع مثل الربوٰا‘‘ (البقرۃ ۲۷۵) سود اور بزنس میں کیا فرق ہے؟ جب سود کی حرمت کا اعلان کیا تو وہی دلیل جو آج کل ہم سپریم کورٹ میں بحثیں کرتے ہیں ’’انما البیع مثل الربوٰا‘‘ بیع میں اور سود میں کیا فرق ہے؟ بزنس ہے یار۔ یہ چیزوں کا بزنس ہے، وہ پیسوں کا بزنس ہے۔ لیکن حضورؐ نے قائم رہنے دیا؟

(۷) اچھا، عریانی تھی۔ کس حد تک تھی کہ بیت اللہ کا طواف ننگے کرتے تھے۔ بیت اللہ کا طواف ننگے ہوتا تھا، بالکل … ننگے ہوتے تھے، عورتوں نے کوئی گوجرانوالہ کی لنگوٹی پہنی ہوتی تھی، مرد بالکل ننگے ہوتے تھے، طواف کرتے تھے اور فخر سمجھتے تھے اور اس کو نیچر کہا جاتا تھا کہ اللہ کے ہاں سے اسی حالت میں آئے تھے، اللہ کے گھر میں اسی حالت میں واپس جائیں گے، یہ نیچر ہے۔ ختم کیا کہ رہنے دیا؟ بہت لمبی فہرست ہے، وہ دس بارہ چیزیں۔

(۸) ہم جنس پرستی جائز تھی، سب کچھ ہوتا تھا، سب کچھ ہوتا تھا۔

میں اگلے سوال کی طرف آ رہا ہوں، اس فہرست کو آپ پہ چھوڑتے ہوئے، ذرا تلاش کریں کون کون سی ختم ہوئی تھی؟ زنا ختم ہوا تھا، شراب ختم ہوئی تھی، سود ختم ہوا تھا، عریانی ختم ہوئی تھی، جوا ختم ہوا تھا، بت پرستی ختم ہوئی تھی، نسلی اور رنگی امتیاز ختم ہوا تھا۔ ختم ہوا تھا، ہو گیا تھا۔ اور بھی پانچ سات چیزیں گنی جا سکتی ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ مغرب نے جو کچھ بھی کیا ہے، وہ جاہلیت کی رسمیں واپس نہیں لے آیا؟ اَلٹیمیٹ کیا کیا ہے مغرب نے؟ وہ ساری جاہلیت کی رسمیں جس کو حضورؐ نے پاؤں تلے روند کر سمندر میں پھینکا تھا، وہ ساری میک اپ کر کے، بیوٹی پارلر سے گزار کر آج پھر تہذیب کی علامت بنی ہیں۔

آج معیشت کی علامت کیا ہے؟ سود۔ مرد اور عورت کے تعلقات کی علامت کیا ہے؟ زنا، عریانی، فحاشی۔ میں ایک بات کہا کرتا ہوں، مغرب بہت اچھا بیوٹی پارلر ہے، میں اِس کمال کی داد دیتا ہوں، بہت اچھا بیوٹی پارلر ہے، وہ قدریں جو ہم نے فرسودہ قرار دے کر کوڑے دان میں پھینک دی تھیں، مغرب نے ایک ایک کر کے اٹھائی ہے اور اس کو بیوٹی پارلر سے گزار کر سامنے سجا دیا ہے، یہ سولائزیشن ہے۔ ان ساری باتوں کو حضورؐ نے کیا کہا تھا؟ جاہلیت۔ اور آج ان کا نام کیا ہے؟ سولائزیشن۔ پریکٹیکل یہ ہوا ہے۔

میں پوچھا کرتا ہوں، مجھے جانے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ امریکہ بھی بہت دفعہ گیا ہوں اور برطانیہ بھی بہت دفعہ گیا ہوں۔ میں نے کہا یار، سولائزیشن، جدید تہذیب، کوئی ایک بات بتا دو جو ابوجہل کی تہذیب میں نہیں تھی اور تم نے نئی کھڑی کی ہے۔ ایک بتا دو جو اُس دورِ جاہلیت میں نہیں تھی، تم نے کوئی نئی قدر ایجاد کی ہے جس کو جدت کی علامت کہتے ہو۔ سب ہم نے کوڑے دان میں پھینکی تھیں، تم نے اٹھا اٹھا کے اس کو سولائزیشن کے نام سے کھڑا کر دیا ہے۔ خاندانی نظام تتربتر ہو گیا ہے۔

یہ میں نے دوسرا پہلو عرض کیا ہے۔ میں تفصیلات میں نہیں جا رہا، مجھے سفر بھی کرنا ہے۔ پہلا میں نے کیا کہا، بیس کیا تھی؟ عقل اور خواہش۔ یہاں میں ایک بات ذرا شامل کروں گا۔ عقل جو ہے، میں نے کہا اللہ کی نعمت ہے۔ لیکن عقل معاون ہے، اتھارٹی نہیں ہے۔ عقل اس لیے ہے کہ ہم عقل استعمال کریں، اس لیے نہیں کہ عقل ہمیں استعمال کرے۔ ہمیں عقل استعمال کرنے کے لیے دی گئی ہے، عقل کے ہاتھوں استعمال ہونے کے لیے نہیں دی گئی۔ خواہش کی بھی حدود ہیں، ہر خواہش کی نفی نہیں ہے۔ انسان میں جو خواہشات اللہ نے رکھی ہیں، وہ ہیں۔ تو میں نے یہ کہا کہ پریکٹیکل مغرب نے کیا کیا ہے؟ خلاصہ عرض کر رہا ہوں کہ جاہلیتِ اولیٰ جس کو حضورؐ نے حجۃ الوادع کے خطبے میں جاہلیت قرار دے کر جاہلیت کے ٹائٹل کے ساتھ اس کی ساری قدروں کو پاؤں تلے روندا تھا، آج وہ سولائزیشن کے نام سے سوسائٹی میں کھڑی ہیں اور راج کر رہی ہیں۔

اچھا، اب اگلے مرحلے پہ آتا ہوں۔ اَلٹیمیٹ کیا ہوا ہے؟ وہ بیس تھی، یہ پریکٹیکل ہے۔ اَلٹیمیٹ کیا ہوا ہے؟ یہ بھی مغرب کی زبان میں عرض کروں گا۔ اب مغرب سر پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھا ہے، مغرب کا دانشور سر پہ ہاتھ رکھے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھ رہا ہے کیا ہوا ہمارے ساتھ! گورباچوف کا نام سنا ہوا ہے۔ میخائیل گورباچوف۔ سوویت یونین جس کے ہاتھوں تتربتر ہوا ہے۔ مغرب کے بڑے دانشوروں میں ہے۔ اس کی کتاب پریسٹرائیکا پڑھیں۔ میں نے تو ترجمہ پڑھا ہے، میں تو اَن پڑھ آدمی ہوں انگریزی نہیں جانتا، لیکن آپ انگریزی پڑھ لیتے ہیں نا؟ پریسٹرائیکا منگوائیں، پڑھیں۔ اُس نے ویسٹ کے فیملی سسٹم کا رونا رویا ہے۔ دو تین جملے عرض کر دیتا ہوں۔ وہ پڑھنے کی چیز ہے۔ پریسٹرائیکا اس کی کتاب کا نام ہے، مغرب کے فیملی سسٹم کی تباہی کا رونا رویا ہے اس نے۔ اُس نے کہا، ہوا کیا تھا؟ خود گورباچوف کی زبانی عرض کر رہا ہوں۔ ہوا کیا تھا؟ کہتا ہے پہلی جنگِ عظیم میں قتلِ عام بہت ہوا، ہماری فیکٹریاں، ہمارے دفتر، رجال کار، افرادی قوت کی کمی پڑ گئی، دفتر ویران ہو گئے، رجال کار نہیں مل رہے، افرادی قوت نہیں مل رہی، اکثر قتل ہو گئے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں، ہم نے اپنے دفتر اور اپنی فیکٹریاں آباد رکھنے کے لیے عورت کو ورغلایا کہ یہ کام بھی تم نے کرنا ہے۔ دفتر میں بھی بیٹھنا ہے، گھر بچے بھی پالنے ہیں۔ تم نے ملازمت بھی کرنی ہے، بزنس بھی کرنا ہے، کاروبار بھی کرنا ہے۔ ورغلا کر اپنی افرادی قوت کے خلا کو پُر کرنے کے لیے ہم عورت کو بازار میں لائے، دفتر میں لائے، فیکٹری میں لائے۔ آج وہ فیکٹری میں بیٹھی ہے، گھر برباد ہو گیا ہے۔ کسی بھی مغربی دانشور سے ذرا علیحدگی میں بات کریں، فیملی سسٹم، سر پکڑے بیٹھے ہیں، کیا ہوا ہے؟ گورباچوف کا کہنا ہے، اب ہم اسے واپس لے جانا چاہتے ہیں، اب کون جاتا ہے؟ اب کوئی جاتا ہے؟ کہتا ہے، گھر، ہمارے رشتے ختم ہو گئے، ویران ہو گئے۔

میں ایک چھوٹی سی سادہ سی مثال عرض کروں؟ اب تو کسی کو یہ نہیں پتہ کہ چچا زاد کون ہے، پھوپھی زاد کون ہے، ماموں زاد کون ہے، کزن ہیں سارے۔ ہم نے سارے رشتے انکل میں اور کزن میں ضم کر دیے ہیں۔ یہ انکل ہے جی، اور یہ کزن ہے۔ اس کے سوا کوئی رشتہ ہے؟ کوئی مغرب میں رشتہ باقی رہ گیا ہے؟ انکل جی اور کزن۔ سارے رشتے گم ہو گئے ہیں دو لفظوں میں۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ تو میں نے کہا، کسی کو باپ کا پتہ ہو گا تو چاچے کا بھی ہو گا نا۔ اِس بحران میں مغرب پڑا ہوا ہے۔ میں نے ایک تو گورباچوف کی بات کی، آپ کہہ دیں گے کہ مشرقی کیمپ کا تھا، مغربی کیمپ کی بھی بات کرتا ہوں۔

برطانیہ میں ایک وزیر اعظم، ٹونی بلیئر سے پہلے گزرے ہیں، جان میجر، میں اس کے زمانے میں وہاں بہت گیا ہوں۔ جان میجر کی الیکشن کمپین کا عنوان یہ تھا ’’بیک ٹو بیسکس‘‘۔ بنیادوں کی طرف واپس چلو بھئی، ہم بہت آگے نکل آئے ہیں۔ اس نے اپنے دور میں اصلاحات نافذ کیں، جان میجر نے، کہ جناب جو عورت گھر میں رہنا پسند کرے، بچوں کو پالنے کے لیے، گھر کے نظام کو سنبھالنے کے لیے، ہم اس کو بینفٹس دیں گے، ٹیکس میں بھی، وظیفہ بھی دیں گے، یہ بھی کریں گے۔ پورے پانچ سال وہ کرتا رہا لیکن کون جاتا ہے واپس!

ایک بات اور شامل کر کے پھر میں۔ ایک جگہ مذاکرہ تھا برمنگھم میں۔ میں نے کہا یار بات سنو، یہ بتاؤ، کتنا بڑا فراڈ کیا ہے تم نے عورت کے ساتھ۔ عورت کے جو فرائض ہیں اُن میں سے کوئی فرض آپ نے اپنے ذمے لیا ہے؟ جو نیچرل ڈیوٹیز ہیں اس کی، بچہ اس نے پیدا کرنا ہے، نیپی اس نے دھونی ہے، پالنا اس نے ہے۔ یا تو اس کی ایک ڈیوٹی تم سنبھالو، اپنی دو ڈیوٹیاں اس کو دے دو۔ اُس کی ساری ڈیوٹیز اس کے ذمے، اپنی ڈیوٹی بھی اس کے کھاتے میں ڈال دی ہے۔ اس کو مساوات کا نام دے دیا ہے۔ یہ کیا کیا تم نے؟ عورت کی جو نیچرل ڈیوٹیز ہیں، ان میں سے ایک ڈیوٹی بھی مرد نے قبول کی ہے؟ اپنی ڈیوٹیاں اس کے کھاتے میں ڈال دی ہیں۔ عقل کی پوری ہے نا۔ آج پریشان بیٹھے ہیں، سر پکڑے بیٹھے ہیں۔ واپس کیسے جائیں، کیا ہو گا۔ تو میں نے ایک بات یہ عرض کی ہے یہ فیملی سسٹم کے حوالے سے۔

پاپائے روم اِس وقت تو پوپ فرانسس ہیں۔ ان سے پہلے پوپ بینی ڈکٹ تھے۔ اُن کے زمانے میں جب یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور عالمی ادارے collapse ہونے لگے تھے اور بڑا شور مچا تھا، تو پاپائے روم نے، پوپ بینی ڈکٹ نے کمیٹی بنائی، ریکارڈ پر ہے، کہ ویٹی کن سٹی کو، عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی مرکز کو کیا موقف اختیار کرنا چاہیے۔ وہ رپورٹ ریکارڈ پر ہے، میں مہیا کر دوں گا اگر کسی کو چاہیے ہو تو۔ رپورٹ دی، انہوں نے کہا جناب، بات ہے سیدھی سیدھی، اگر معیشت کو کسی تباہی سے بچانا ہے، ٹریک پہ لانا ہے تو ہمیں معیشت کے وہ اصول اختیار کرنے ہوں گے جو قرآن پاک نے بیان کیے ہیں۔ معیشت کے وہ اصول اختیار کرنے ہوں گے۔ اور یہ بات یہیں تک نہیں رکی۔ پاپائے روم کی اس کمیٹی کی اس رپورٹ سے پہلے ہمیں پاگل کہا جاتا تھا، مولوی صاحب! بغیر سود کے بینکاری ہو بھی سکتی ہے، کیا پاگلوں والی باتیں کرتے ہو؟ اس کے بعد مغرب نے اب تک دو سو سے زیادہ ادارے غیر سودی بینکاری پر بنائے ہیں، چل رہے ہیں۔ اس رپورٹ پر کہ قرآن پاک کے بیان کردہ اصول، غیر سودی بینکاری، غیر سودی سسٹم۔

اور ٹونی بلیئر صاحب جب تشریف لے گئے نا واپس، ٹونی بلیئر صاحب نے کانفرنس کی تھی۔ اِس وقت میں آپ کو معروضی صورتحال عرض کر رہا ہوں، غیر سودی بینکاری کا مرکز بننے کے لیے پیرس اور لندن میں کشمکش ہے۔ پیرس اور لندن کی کشمکش بڑی تاریخی ہے، بہت تاریخی کشمکش ہے۔ اس وقت دونوں میں مقابلہ جاری ہے کہ مرکز کون بنے گا۔ اور ٹونی بلیئر کی آخری تقریر پڑھیں جو اُس نے وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے سے پہلے کی تھی، کہ میں لندن سے وعدہ کرتا ہوں کہ غیر سودی بینکاری کا مرکز لندن کو بنا کر جاؤں گا۔ یہ کشمکش لندن اور پیرس میں چل رہی ہے۔ اور اس سے بڑی، رشین پارلیمنٹ کی یہ قرارداد آج بھی موجود ہے، ریکارڈ پر ہے، رشین پارلیمنٹ نے قرارداد کر کے حکومت سے کہا تھا جناب ملک کے معاشی قوانین میں لچک پیدا کرو تاکہ ہم اسلامی معیشت کے اصولوں کو یہاں لاگو کر سکیں۔ یہ میں اَلٹیمیٹ بتا رہا ہوں۔

ایک اور عرض کر دیتا ہوں۔ یہ نتیجہ ہے، آج یہ نتیجہ ہے۔ چارلس صاحب کو جانتے ہیں آپ؟ اب شاہ ہیں، پہلے شہزادہ تھے۔ زیادہ عمر شہزادگی کی ہی گزاری ہے، شاہ تو اب بنا ہے غریب۔ اس بیچارے کی قسمت نکل آئی، ورنہ اماں جی تو نہیں جا رہی تھیں۔ بڑا دانشور ہے، اس کی تقریریں میں اکثر ذکر کرتا رہتا ہوں۔ نیویارک میں ایک کانفرنس تھی پولوشن پر۔ آج کے مسائل کیا ہیں؟ پولوشن، معیشت کی ناہمواری، فیملی سسٹم کی تباہی۔ کرنٹ ایشوز یہی ہیں آج کے۔ پولوشن پر کانفرنس تھی۔ یہ جو موسمیاتی تغیر اور یہ سارا، بڑا لمبا ملبہ ہے یہ، جتنا بھی اٹھائیں گے نیچے اور گند نکلے گا۔ اس پہ کانفرنس تھی۔ اس وقت شہزادہ چارلس تھا یہ۔ اس کی تقریر میں نے رپورٹ کی، میں اس وقت نیویارک میں کانفرنس میں نہیں تھا، مجھے کون بلاتا ہے، لیکن بہرحال نیویارک میں تھا میں، جب یہ کانفرنس ہوئی ہے اور اس کی رپورٹیں آئی ہیں۔ ایک رپورٹ میں نے بھی اپنے کالم میں ذکر کی تھی۔ اس نے کہا جناب دیکھو، پولوشن اور ماحولیات کے مسئلے کو اگر کنٹرول کرنا ہے تو آپ کو معاشرت کے وہ اصول اختیار کرنے ہوں گے جو قرآن پاک نے بیان کیے ہیں۔ یہ نتیجہ بتا رہا ہوں۔

تو میں نے تین دائروں میں بات کی ہے۔ کچھ سمجھ میں آیا ہے مغربی فلسفہ؟ وحی کو سائیڈ پہ کر کے عقل اور خواہش کی بنیاد پر نظام ترتیب دیا اور جاہلیت کی ساری قدریں واپس لے آیا۔ اب جان چھڑانے کے لیے قرآن پاک کے حوالے دے رہے ہیں۔ لیکن اگلی بات، آخری بات عرض کروں گا۔ ہم قرآن پاک کو فلسفے کے حوالے سے، فلسفے سے مراد وہ ارسطو والا نہیں، یعنی معاشرتی سماجی فلسفے کے حوالے سے، اور مسائل کے حل کے حوالے سے، سماجی مشکلات اور چیلنجز کے حوالے سے، ایک نظام اور فلسفے کے طور پر ہم موڈ میں ہیں پیش کرنے کے؟ اللہ مجھے اور آپ کو توفیق عطا فرمائیں، اگر آپ کسی فکری کام پہ لگے ہیں تو اپنا رخ ٹھیک کریں، قرآن پاک اور سنتِ رسولؐ، میں عرض کیا کرتا ہوں، یہ ماضی کی باتیں تو تھیں ہی، یہ مستقبل کی ضروریات بھی ہیں، بشرطیکہ ہم پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ وہ تو مانگ رہے ہیں لاؤ یار کدھر ہیں۔ خدا کرے ہم پیش کرنے کی پوزیشن میں آجائیں۔ اور آج کی کامن سینس میں، آج کی زبان میں، آج کی فریکوئنسی میں قرآن پاک اور سنتِ رسول کو پیش کرنے کا ہمیں پہلے تو حوصلہ چاہیے نا، پھر صلاحیت اور پھر سلیقہ، اللہ پاک ہمیں عطا فرما دیں۔ بس یہ چند باتیں میں نے عرض کی ہیں، کوئی بات کسی نے پوچھنی ہو تو پوچھ لیں۔

https://www.facebook.com/share/v/1CC3Aw8Ub8

2016ء سے
Flag Counter