تحریکِ آزادئ ہند کا نامور سپوت ٹیپو سلطان شہید

   
۴ جون ۱۹۹۹ء

اخباری اطلاعات کے مطابق بھارتی شہر میسور میں سلطان ٹیپو شہید کی دو سو سالہ تقریبات منائی گئیں اور مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اس سلسلہ میں سرگرمِ عمل رہی ہیں، جبکہ انتہاپسند اور جنونی ہندو تنظیمیں ان تقریبات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں سرگرداں رہیں۔

سلطان فتح علی ٹیپو شہید برصغیر کی اسلامی تاریخ کا ایک روشن اور غیور کردار ہے جس نے آج سے دو سو برس قبل اس خطہ میں برطانوی استعمار کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش کی جب انگریزی فوجیں تجارتی کمپنیوں کی آڑ میں جنوبی ایشیا کے اس وسیع و عریض علاقہ میں اپنے اقتدار کا دائرہ وسیع تر کرتی چلی جا رہی تھیں۔ جنوبی ہند کا شہر میسور سلطان ٹیپو شہید کا پایہ تخت تھا اور انگریزوں کے خلاف جنگ انہیں اپنے والد سلطان حیدر علی سے ورثہ میں ملی تھی۔ سلطان حیدر علی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی مسلح فوجوں کے خلاف متعدد معرکوں کی قیادت کی جن میں سلطان ٹیپو بھی ان کے ساتھ شریک تھے اور اپنے عظیم باپ کی وفات کے بعد اس معرکہ آرائی کا بوجھ سلطان ٹیپو کے کندھوں پر آ پڑا۔

سلطان ٹیپو کو بیک وقت چار محاذوں کا سامنا تھا:

  1. ایک طرف انگریزوں کا روز بروز بڑھتا ہوا اثر و نفوذ اسے پریشان کر رہا تھا،
  2. دوسری طرف جنوبی ہند کے جنونی ہندوؤں کی طاقت یعنی مرہٹوں کی فوجیں اس سے نبرد آزما تھیں،
  3. تیسری طرف نظامِ حیدر آباد کی مسلمان حکومت بھی معاصرت کی وجہ سے اس سے خوش نہیں تھی اور سلطان ٹیپو کا ساتھ دینے کی بجائے مرہٹوں کا ساتھ دے رہی تھی،
  4. اور چوتھی طرف دہلی کی دن بدن کمزور پڑتی ہوئی مغل حکومت کی بے بسی اس کے لیے مسئلہ بنی ہوئی تھی۔

چنانچہ سلطان ٹیپو نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنا تعلق دہلی کی مغل حکومت سے استوار رکھنے کی بجائے ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ براہ راست تعلق قائم کیا اور باقاعدہ وفد بھیج کر خلیفہ عثمانی سے میسور کی حکمرانی کے لیے سندِ نمائندگی حاصل کی۔ اور پھر اس بات کی کوشش کی کہ اس کا محاذِ جنگ نظام حیدر آباد اور مرہٹوں کی فوجوں کے ساتھ گرم نہ ہو بلکہ تمام تر توجہ انگریزی فوجوں کے خلاف مرکوز رہے۔ چنانچہ کئی محاذوں پر اس نے انگریزی فوجوں کو شکست دی حتیٰ کہ ایک موقع پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں کے اجلاس میں اسے اپنا خطرناک ترین دشمن قرار دے کر اس سے نمٹنے کے لیے نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔

سلطان ٹیپو کی جنگ بنیادی طور پر انگریزوں کے خلاف تھی اور وہ انگریزی فوجوں کو ملک سے باہر دھکیل دینا چاہتا تھا، اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو جاتا اگر اسے مرہٹوں اور نظام حیدر آباد کی طرف سے محاذ آرائی اور خود اپنی فوجوں میں غداروں سے واسطہ نہ پڑتا۔ سلطان نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس کا ٹکراؤ اپنے ملک کی فوجوں سے نہ ہو، حتیٰ کہ ایک موقع پر جب مرہٹہ ہندوؤں کے سردار نانا فرنویس اور نظام حیدر آباد کی فوجیں متحد ہو کر سلطان کے مقابلہ پر آنے کی تیاری کر رہی تھیں تو اس نے نانا فرنویس کو پیغام بھیجا کہ اگر وہ اپنی لڑائی کا رخ انگریزوں کی طرف کر دے تو سلطان اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔ اور دوسری طرف نظام حیدر آباد کو پیغام بھجوایا کہ وہ ہندوؤں کا ساتھ دینے کی بجائے مسلمانوں کا ساتھ دے۔ مگر سلطان ٹیپو کی یہ اپیلیں صدا بصحرا ثابت ہوئیں اور نظام اور مرہٹوں کی فوجوں کے مقابلہ میں اسے مجبورً‌ا صف آرا ہونا پڑا۔

سلطان ٹیپو اپنے دور میں پورے متحدہ ہندوستان میں انگریز دشمنی کی سب سے بڑی علامت تھے اور انگریز بھی اسے اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتے تھے، اس لیے انگریزوں نے اسے راہ سے ہٹانے کے لیے اپنا پورا زور صَرف کر دیا۔ سلطان ٹیپو کا آخری معرکہ انگریزوں کے ساتھ ۱۸۰۱ء میں ہوا جس میں خود اس کی فوج کے اپنے غداروں کی وجہ سے سلطان کو شکست ہوئی، وہ میدانِ جنگ میں بہادروں کی طرح لڑتا ہوا جامِ شہادت نوش کر گیا۔ اور اس کی لاش پر کھڑے ہو کر انگریز فوج کے کمانڈر نے اعلان کیا کہ ’’آج ہندوستان ہمارا ہے‘‘۔

سلطان ٹیپو نے جامِ شہادت نوش کر کے آزادی اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے علمبرداروں کو جدوجہد کا راستہ دکھایا اور مجاہدینِ آزادی بالآخر ڈیڑھ سو برس کی طویل اور صبر آزما جنگِ آزادی کے بعد فرنگی استعمار کو برصغیر سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ سلطان ٹیپو آزادی کے علمبرداروں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا اور قیامت تک اسلام اور آزادی کے مجاہد اس کے نقشِ قدم سے راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم مجاہد اور شہید کے درجات بلند سے بلند تر فرمائیں اور اس کی روشن کی ہوئی شمع کو قیامت تک روشن رکھیں، آمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter