بعد الحمد والصلوٰۃ۔ پاکستان شریعت کونسل پنجاب بالخصوص ہمارے نائب امیر حضرت مولانا قاری عبید اللہ عامر صاحب کا اور ان کی ٹیم کا شکرگزار ہوں کہ اس محفل کا انعقاد کیا، آپ حضرات سے ملاقات اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کا موقع عنایت کیا۔ اللہ رب العزت ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں اور دنیا اور آخرت کے مقاصد کے لیے بارآور فرمائیں۔
عنوان جیسا کہ آپ کو بتایا گیا ہے، مولانا امجد محمود معاویہ صاحب نے بتایا ’’انسانی حقوق، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے حوالے سے‘‘، آج کل کا یہ سب سے اہم موضوع ہے، پوری دنیا کا موضوع ہے، تہذیبی، فکری، روایتی مسائل میں آج کا سب سے کرنٹ ایشو یہ ہے کہ انسانی حقوق کیا ہیں۔ اور یہ آج کا رائج الوقت سکہ ہے۔ فکری دنیا میں آج کا رائج الوقت سکہ ہے۔ ہر زمانے کی اپنی کرنسی ہوتی ہے، ہر دائرے کی اپنی کرنسی ہوتی ہے، علمی دنیا کی اپنی کرنسی ہوتی ہے، تجارتی دنیا کی اپنی کرنسی ہوتی ہے۔ ہر زمانے میں علمی دنیا کی کچھ اصطلاحات، فکری اور تہذیبی ماحول کے کچھ محاورے چلتے ہیں، جن پر سارا نظام چلتا ہے۔ آج پوری دنیا کا سسٹم ’’انسانی حقوق‘‘ کے حوالے سے طے پاتا ہے۔
اس کی ایک مثال سمجھ لیں آپ، دنیا میں جہاں کہیں بھی دنیا کے معاملات آپس میں قوموں کے اور ملکوں کے ہوتے ہیں، تو اس کو پرکھنے کا معیار کیا ہوتا ہے: ہیومن رائٹس کے بارے میں ان کا طرزِ عمل کیا ہے؟ انسانی حقوق کے بارے میں ان کی پالیسی کیا ہے؟ ملکوں کے درمیان بھی، قوموں کے درمیان بھی یہ بنیاد ہوتی ہے، ہیومن رائٹس، انسانی حقوق۔
بیسیوں پہلو ہیں اس پہ بات کرنے کے، ایک آدھ مجلس کی بات نہیں ہے۔ دو تین اصولی باتیں عرض کرنا چاہوں گا کہ اسلام کیا کہتا ہے۔
پہلی بات یہ کہ قرآن پاک نے بھی حقوق کی بات کی ہے۔ بیسیوں آیات ہیں جن میں قرآن پاک نے حقوق کی بات کی ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینکڑوں احادیث میں حقوق کی بات کی ہے، اور حق کا عنوان دے کر بات کی ہے۔ مگر آج کے انسانی حقوق کے فلسفے میں اور اسلام کے انسانی حقوق کے دائرے میں ایک بڑا بنیادی فرق ہے۔ آج کا فلسفہ، آج کی سولائزیشن، آج کا فکر انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، صرف انسانوں کے باہمی حقوق کی، آپس کے حقوق کیا ہیں۔ اسلام بھی بات کرتا ہے لیکن پہلے حقوق اللہ کی۔ ہماری اصطلاح حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ہے۔ اسلام کی اصطلاح کیا ہے؟ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ ہم اکیلے حقوق اللہ کی بات بھی نہیں کرتے، اکیلے حقوق العباد کی بات بھی نہیں کرتے۔ حقوق اللہ کو حقوق العباد سے الگ کر دیں تو ادھورے رہ جاتے ہیں، اور حقوق العباد کو حقوق اللہ سے الگ کریں تو ادھورا کام رہ جاتا ہے۔ اس لیے پہلا اصولی اور بنیادی مسئلہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اسلام بات کرتا ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی۔
دوسری بات، آپس کے جو معاملات ہیں، قرآن پاک نے بہت ڈسکس کیے ہیں۔ انسان ایک دوسرے کے کام آتا ہے، ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے، ایک دوسرے کی پاسداری کرتا ہے، سب سے زیادہ ضرورت پڑتی ہے کہ ایک دوسرے پر خرچ کرے، ضرورتمندوں پر، مستحقین پر، جہاں اللہ رب العزت نے انسانوں کو انسانوں کے تحفظ کی بات تلقین فرمائی ہے، ایک دوسرے پر خرچ کرنے کی، ایک دوسرے کے تحفظ کی بات کی ہے، حق کہہ کے بات کی ہے۔ ’’اٰت ذا القربیٰ حقہ والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیرا‘‘ (بنی اسرائیل ۲۶)۔ مسکین ہے، یتیم ہے، غریب ہے، اللہ کہتا ہے ان پر جو خرچ کرتے ہو نا، وہ تمہارا احسان نہیں ہے، ان کا حق ہے۔ مسافر پر خرچ کرنا، مسکین پر خرچ کرنا، رشتہ داروں پر خرچ کرنا، تمہارا احسان نہیں، ان کا حق ہے۔ اور ایک بڑی اصولی بات قرآن پاک نے کہی ہے،’’وفی اموالھم حق للسائل والمحروم‘‘ (الذاریات ۱۹) اللہ کہتے ہیں، میں نے مال دیے ہیں، جس کو بھی دیا ہے، تنہا اس کو نہیں دیا، اس کے مال میں سوسائٹی کے لوگوں کا حق ہے۔ اسے بھی قرآن پاک حق کہہ رہا ہے۔
’’فی اموالھم حق للسائل والمحروم‘‘ تمہارے مالوں میں سائل کا حق بھی ہے، محروم کا حق بھی ہے۔ بڑے مزے کی بحث ہے۔ سائل کسے کہتے ہیں؟ جو ضرورتمند ہے، ضرورت کا اظہار بھی کرتا ہے، اس کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی، ظاہر ہے کسی سے کہے گا۔ وہ ضرورتمند جو اپنی ضرورت کا اظہار کرتا ہے وہ سائل ہے۔ وہ ضرورتمند جو ضرورتمند تو ہے لیکن اظہار نہیں کرتا، وہ محروم ہے۔ سائل سے مراد کیا ہے؟ اپنی ضرورت کا اظہار کرتا ہے کہ تعاون کرو یار، میں پھنسا ہوا ہوں۔ اور [محروم وہ ہے جو] پھنسا ہوا ہے، یوں نہیں کرتا [ہاتھ نہیں پھیلاتا]، جس کو ہم کہتے ہیں سفید پوش، جس کو انگریزی والے کہتے ہیں وائٹ کالر، ضرورتمند ہے، اپنی ضرورت ظاہر نہیں کرتا، اس کا بھی حق ہے۔
یہاں جب مفسرین نے یہ تفصیل کی کہ سائل وہ ضرورتمند ہے جو اپنی ضرورت کا اظہار کرتا ہے، اور محروم وہ ضرورتمند ہے جو اپنی ضرورت کو چھپاتا ہے، صبر کرتا ہے، برداشت کرتا ہے۔ جب وہ سوال ہی نہیں کرتا تو اس کی مدد کون کرے گا؟ یہاں ایک سوال پیدا کیا مفسرین نے۔ جب اظہار ہی نہیں کرے گا تو کوئی کیا کرے گا۔ یہاں پھر ایک اور اصول قائم کرتے ہیں کہ مالدار کا حق ہے کہ جو سوال کرے اس کی ضرورت بھی پوری کرے، اور معاشرے میں نظر رکھے کہ کون لوگ ہیں جو ضرورتمند ہیں لیکن یوں [اظہار] نہیں کر رہے، ان کو تلاش کرے۔ سائل نے مالداروں کو تلاش کرنا ہے اور مالدار نے نہ مانگنے والوں کو تلاش کرنا ہے، یہ اس کی ذمہ داری ہے۔ تلاش کرے، میرے محلے میں، میرے علاقے میں، میری برادری میں کون ہے جس کے ہاں ضرورت پوری نہیں ہو رہی۔
صرف ایک روایت ذکر کر کے آگے بڑھوں گا، یہ بڑا لمبا مسئلہ ہے۔ حضورؐ نے فرمایا ’’ليس المؤمن الذی يشبع وجارہ جائع الی جنبہ وھو یعلم‘‘ اس آدمی کو مومن کہلانے کا حق نہیں ہے جو رات پیٹ بھر کے سویا، پڑوسی بھوکا سویا ہے، اِس کو پتہ ہے، فرمایا، اس کو مومن کہلانے کا حق نہیں ہے۔
تو میں نے پہلی گزارش کیا کی ہے کہ قرآن پاک نے جہاں بھی بات کی ہے حق کہہ کے بات کی ہے، یعنی حقوق ہیں یہ، ایثار کہہ کے بات نہیں کی کہ کوئی احسان کر رہے ہو۔ اور یہ کہا ہے ’’وفی اموالھم حق للسآئل والمحروم‘‘ جن کو میں نے دولت دی ہے وہ ساری ان کی نہیں ہے، اس میں معاشرے کے ضرورتمندوں کا حق بھی میں نے شامل کیا ہوا ہے۔
میں نے اس سے پہلے کیا عرض کیا تھا؟ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ حقوق اللہ ہو اور حقوق العباد نہ ہو تو یہ رہبانیت ہے، اللہ کی عبادت کرنی ہے، لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ نا، نا، ’’لا رہبانیۃ فی الاسلام‘‘۔ سوسائٹی سے کٹ آف رہ کر اللہ کی عبادت! نہیں، ’’لا رہبانیۃ فی الاسلام‘‘۔ میرا سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں، بس عبادت کروں گا۔ نا، نا۔ اللہ کہتا ہے نہیں، وہاں رہو، دیکھو، ضرورت پوری کرو۔ اور سوسائٹی میں الجھ کر اللہ کو بھولنا، یہ بھی نہیں۔ دونوں میں بیلنس ہے۔ اس بیلنس پر دو تین حوالے دوں گا۔
قرآن کریم نے بیسیوں آیات میں حقوق بیان کیے ہیں۔ ایک آیت پڑھوں گا صرف:
’’اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربیٰ والیتامیٰ والمساکین والجار ذی القربیٰ والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم‘‘ (النساء ۳۶)۔ ایک آیت ہے، دس حق ہیں، گن لیجیے: (۱) واعبدوا اللہ ولا تشکروا بہ شیئا۔ (۲) وبالوالدین احسانا۔ (۳) وبذی القربیٰ۔ (۴) والیتامیٰ۔ (۵) والمساکین۔ (۶) والجار ذی القربیٰ۔ (۷) والجار الجنب۔ (۸) والصاحب بالجنب۔ (۹) وابن السبیل۔ (۱۰) وما ملکت ایمانکم۔ پہلا حق اللہ کا ہے، نو حق بندوں کے ہیں۔ اللہ کے بعد سب سے بڑا حق ماں باپ کا ہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بڑے مزے کی بات کرتے ہیں، کہتے ہیں اللہ پاک نے ایک جگہ نہیں، دو جگہ نہیں، تین جگہ نہیں، تین سے زیادہ جگہ پر اپنے ساتھ ماں باپ کا ذکر کیا ہے۔ ’’وقضیٰ ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا‘‘ (بنی اسرائیل ۲۳) اللہ کی عبادت کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو۔ ’’ان اشکر لی ولوالدیک‘‘ (لقمان ۱۴) میرا شکر ادا کرو اور ماں باپ کا بھی شکر ادا کرو۔ یہاں بھی کیا فرمایا؟ ’’واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا‘‘، آگے کس کا ذکر کیا؟ ’’وبالوالدین احسانا‘‘۔ اللہ نے اپنے ساتھ ماں باپ کو بھی جوڑ دیا۔ کہتے ہیں، کیوں؟ انسان کے پاس سب سے بڑی نعمت کون سی ہے؟ زندگی۔ زندگی ہے تو باقی نعمتیں بھی ہیں، زندگی نہیں ہے تو باقی نعمتیں کس کام کی ہیں؟ اصل نعمت کون سی ہے؟ زندگی۔ زندگی دینے والا کون ہے؟ اللہ۔ اور زندگی ملنے کا ذریعہ کون ہیں؟ ماں باپ۔
خیر، میں یہ ذکر کر رہا ہوں کہ دس حقوق ذکر کیے: (۱) اللہ کا حق (۲) والدین (۳) قریبی رشتہ دار (۴) سوسائٹی کے یتیم لوگ (۵) مساکین (۶) وہ پڑوسی جو رشتہ دار بھی ہے (۷) وہ پڑوسی جو رشتہ دار نہیں ہے (۸) ساتھ بیٹھنے والا، روم میٹ ہے، کلاس میٹ ہے، سفر کا ساتھی ہے، جسے ہم کولیگ کہتے ہیں، اس کا بھی حق ہے (۹) مسافر آنے جانے والے (۱۰) جو تمہارے ماتحت ہیں، نوکر ہیں، غلام ہیں۔ ان سب کے حقوق ہیں۔ لیکن جو بات میں عرض کر رہا ہوں وہ کیا ہے کہ اللہ پاک نے ایک آیت میں دس حق بیان کیے ہیں، ایک اپنا بیان کیا ہے، نو بندوں کے بیان کیے ہیں۔ اور ترتیب کیا رکھی ہے؟ پہلا حق کس کا ہے؟ اللہ کا۔ اور باقی حق کس کے ہیں؟ بندوں کے۔ یہ ہماری بنیاد ہے۔ اس آیت کریمہ کو میں انسانی حقوق کے، انسانی فلسفے کی اساس عرض کیا کرتا ہوں کہ یہ آیت سمجھ لو کہ اسلام کا تصورِ حقوق کیا ہے۔ حقوق اللہ بھی، حقوق العباد بھی۔
دو واقعے عرض کروں گا۔ بخاری شریف کی روایت ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا نام سن رکھا ہے؟ ہمارے بڑوں میں سے ہیں، اکابر صحابہؓ میں سے ہیں۔ مجوسی تھے، لمبا قصہ ہے، عیسائی ہو گئے۔ عیسائیوں کے پاس گھومتے گھامتے، بِکتے بکاتے، لوگوں نے پکڑ کر بیچ دیا، اِس نے اُس کے آگے بیچ دیا، اُس نے آگے۔ کہتے ہیں، دس مالک بھگتے ہیں میں نے۔ یہ بھی اللہ کا نظام ہے، مدینہ منورہ غلام بن کر پہنچے ہیں۔ بعض لوگوں کو غلامی بہت راس آئی ہے۔ زید بن حارثہؓ بھی غلام بن کر آئے تھے۔ لوگوں نے راہ جاتے پکڑ کر بیچ دیا تھا۔ بِکتے بکاتے مدینہ منورہ آئے تھے۔ حضورؐ کے حصے آئے تھے۔ حضورؐ نے آزاد کیا اور بیٹا بنا لیا۔ کیوں جی، غلامی ان کے لیے کیا بنی؟ بیٹا بنا لیا۔ اور واحد صحابیؓ ہے جس کا نام قرآن میں ہے۔’’فلما قضیٰ زید‘‘ (الاحزاب ۳۷)۔
سلمان فارسیؓ بِکتے بکاتے، غلام بیچارے کا کیا حال ہوتا ہے، کہتے ہیں دس سے زیادہ مالک بھگتے ہیں۔ آخری مالک میرا یہودی تھا یثرب کا، وہ لے آیا۔ اللہ کا نظام، اِدھر سے میں پہنچا، اُدھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے قُبا میں پہنچے۔ کتابوں میں پڑھا ہوا تھا میں نے، ایک پیغمبر آنے والا ہے، میں جا کے روز چیک کرتا تھا کہ یہ وہی تو نہیں کہیں۔ کہتے ہیں کتابوں میں پڑھ رکھا تھا، ایک پیغمبر آنے والا ہے، دنیا کا حال بدلے گا، تو میں روزانہ قُبا جاتا تھا، حضورؐ کی مجلس میں بیٹھتا تھا، چیک کرتا تھا کہ وہ جو نشانیاں پڑھی ہوئی ہیں، وہ ہیں؟ ساری سیٹ ہو گئیں، میں نے کلمہ پڑھ لیا۔ غلام تھا۔
خیر، لمبا قصہ ہے، آزاد ہو گئے۔ مالک نے ان سے سودا کر کے، معاوضہ وصول کر کے ان کو آزاد کر دیا۔ یہ جب آزاد ہوئے تو مہاجر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کروائی تھی۔ بڑا آسان طریقہ تھا سنبھالنے کا۔ اتنے مہاجروں کے لیے کیمپ بناتے تو کیا ہوتا؟ ایک ایک مہاجر ایک ایک انصاری کے سپرد کر دیا۔ کیا خوبصورت طریقہ ہے۔ ایک مہاجر اور ایک انصاری، لے جاؤ یار، یہ تمہارا بھائی ہے۔ تقسیم کرنے میں نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہوا، نہ کوئی ایڈمنسٹریشن قائم کرنی پڑی۔ سلمان فارسیؓ کو بھائی بنایا ابوالدرداءؓ کا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔ وہ انصاری ہیں، یہ مہاجر ہیں، حضورؐ نے فرمایا، ابوالدرداء! یہ تمہارا بھائی ہے، سنبھالو۔ لے گئے۔
اب سلمان فارسیؓ تو دنیا دیکھے ہوئے تھے۔ جس آدمی نے سو سال سے زیادہ عمر میں دس مالک بھگتائے ہیں، اس نے کیا کچھ نہیں دیکھا ہو گا۔ وہ بیچارے صوفی مزاج بزرگ تھے، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ۔ وہ خود اپنی کہانی سناتے ہیں اور بخاری کی روایت ہے۔ ابوالدرداءؓ کہتے ہیں میں گھر لے گیا، حضورؐ نے بھائی جان کہا ہے، بھائی جان ہیں۔ گھر لے گئے۔ یہ بابا تھا پرانا۔ گھر کی حالت دیکھی تو بھائی جان والا کام جاتے ہی شروع کر دیا۔ گھر کا حال دیکھا کہ کوئی صفائی نہیں، کچھ نہیں۔ بھابھی سے پوچھا، کیا حال بنا رکھا ہے گھر کا؟
گھر میں عورت ہو اور انڈرسٹینڈنگ بھی ہو تو گھر نظر آتا ہے۔ کوئی وضاحت کی ضرورت تو نہیں؟ گھر میں عورت ہو اور آپس کی انڈرسٹینڈنگ بھی ہو تو گھر بتاتا ہے یا نہیں بتاتا؟ رنگ ہو گا، صفائیاں ہوں گی، پردے ہوں گے، پتہ نہیں کیا کیا ہو گا۔ وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔
سلمان فارسیؓ نے جاتے ہی: کیا گھر کا حال بنا رکھا ہے؟ نہ کوئی صفائی، نہ کوئی ڈھنگ، نہ کوئی ترتیب، نہ کچھ نہ کچھ۔ وہ بھی سادہ عورت تھی۔ کہتی ہے بھائی جان، عورت بڑا کچھ کرتی ہے اور کسی کے لیے کرتی ہے۔ آپ کے بھائی کی کسی بات میں دلچسپی نہیں، میں نے کس کے لیے کرنا ہے؟ سیدھا سیدھا جواب دیا۔ آپ کے بھائی نیک آدمی ہیں، میں نے کس کے لیے کرنا ہے؟ خیر، یہ پہلی کاروائی کی حضرت سلمان فارسیؓ نے۔
دوپہر کا وقت ہوا، کھانا لگوایا کہ آکر کھانا کھائیں۔ ابوالدرداءؓ نے کہا، میں روزے سے ہوں۔ پوچھا، روزہ؟ کہا، میں تو بلاناغہ روزہ رکھتا ہوں۔ فرمایا، روٹی کھاؤ۔ حضرت، میرا روزہ ہے۔ کوئی روزہ نہیں، بیٹھو ادھر۔ روزہ تڑوا دیا بھائی جان نے۔ یہ تو آپ کو پتہ ہے بھائی جان کیا ہوتا ہے، جن کے ہیں اُن کو پتہ ہے کہ بھائی جان کیا ہوتا ہے۔ کہا، بیٹھو میرے ساتھ، روزہ قضا کر لینا۔ تڑوا دیا۔
شام کا وقت ہوا، بھائی جان کے لیے بستر بچھایا، حضرت! آرام فرمائیں۔ ، تمہارا کیا پروگرام ہے؟ جی میں تو نفل پڑھتا ہوں ساری رات۔ بستر لاؤ۔ یہ میں ابوالدرداءؓ کی روایت بیان کر رہا ہوں بخاری سے۔ کہتے ہیں، بستر بچھایا، میں لیٹا اس نیت سے کہ بھائی جان سو جائیں گے تو میں پھر مصلے پر کھڑا ہو جاؤں گا۔ بھائی جان تاڑ میں تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد سر اٹھایا تو پوچھا کدھر جا رہے ہو، سو جاؤ آرام سے، میں اٹھاؤں گا خود جب وقت ہو گا۔ سو گئے۔ نفل نہیں پڑھنے دیے۔
سحری کا وقت ہوا۔ سلمان فارسیؓ نے جگایا، اٹھو یار، اب وقت ہے، میں بھی نفل پڑھتا ہوں، تم بھی پڑھو، تہجد کا وقت ہے۔ تہجد پڑھے۔ اب چلو، نماز پڑھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے۔ اور ایک بات کہی ابوالدرداءؓ سے کہ دیکھو ’’ان لربک علیک حقا ولنفسک علیک حقا ولعینیک علیک حقا ولزوجک علیک حقا ولزورک علیک حقا فاعط کل ذی حق حقہ‘‘۔ تیری جان کا تجھ پر حق ہے، کھانا پینا جان کا حق ہے۔ نیند آنکھوں کا حق ہے، بیوی کے بھی حقوق تیرے ذمے ہیں، مہمان کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ جملہ سارے دین کا خلاصہ ہے ’’فاعط کل ذی حق حقہ‘‘ جس کا تیرے ذمے حق ہے، اس کے وقت پہ اس کا حق ادا کرو۔ اللہ کے حق کے وقت اللہ کا حق، آنکھوں کے حق کے وقت آنکھوں کا حق، بیوی کے حق کے وقت بیوی کا حق، پیٹ کے حق کے وقت پیٹ کا حق۔ ’’فاعط کل ذی حق حقہ‘‘۔
یہ کہا اور مسجد میں چلے گئے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ حضورؐ کا معمول تھا، نماز کے بعد کچھ دیر بیٹھتے تھے۔ فجر کی نماز پڑھا کے مقتدیوں کی طرف رخ کر کے اشراق تک بیٹھتے تھے۔ آدھا گھنٹہ ہو، پون گھنٹہ ہو۔ کوئی خطاب نہیں ہوتا تھا۔ حال احوال۔ کسی نے مسئلہ پوچھنا ہے۔ کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے وہ بیان کیا۔ عمومی مجلس۔ اس کو آج کی اصطلاح میں کیا کہتے ہیں، کھلی کچہری۔ وہ مجلس جس کا ایجنڈا کوئی نہ ہو، جس کا جو جی چاہے کہے، شکایت کرے، کوئی رپورٹ پیش کرے۔ تقریباً آدھ پون گھنٹہ روزانہ بلاناغہ فجر کی نماز کے بعد حضورؐ کی اشراق تک ساتھیوں سے مجلس ہوتی تھی اور کھلی بات ہوتی تھی۔
حضورؐ نے نماز پڑھی، دیکھا، ابوالدرداءؓ! کیسا پایا بھائی جان کو؟ وہ کل سے بھرے بیٹھے تھے، وہ ساری کارگزاری سنا دی۔ پہلے جا کے بھابھی کو ڈانٹا ہے، میرا روزہ تڑوایا ہے، رات کو نفل نہیں پڑھنے دیے، اب یہ کہہ کے مجھے لے آئے ہیں۔ ’’ان لربک علیک حقا، ولعینیک علیک حقا، ولزوجک علیک حقا، ولزورک علیک حقا فاعط کل ذی حق حقہ‘‘۔ روایت میں صرف ایک جملہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’صدق سلمان‘‘۔ سلمانؓ نے جو کیا ہے ٹھیک کیا ہے، سلمانؓ نے جو کہا ہے ٹھیک کہا ہے۔ ’’صدق‘‘ کرنے کے ساتھ بھی ہے اور کہنے کے ساتھ بھی، جو کیا ٹھیک کیا ہے، جو کہا ہے ٹھیک کہا ہے۔
یہ ہے بنیاد۔ میں جب حقوق کی بات کرتا ہوں تو کہتا ہوں، وہ آیت کریمہ اور سلمان فارسیؓ کا یہ واقعہ، یہ ہمارے ہیومن رائٹس کے تصور کی بنیاد ہے۔
ایک واقعہ اور سنا دوں، بخاری شریف میں ہے۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما، بڑے صحابہ میں سے ہیں، حدیث کے بڑے راویوں میں سے ہیں۔ والد محترم بھی بڑے صحابی ہیں، عمرو بن العاصؓ، جرنیل ہیں، ڈپلومیٹ ہیں، ایڈمنسٹریٹر ہیں، کمال درجے کے۔ اور بیٹا عالم ہے، محدث ہے، فقیہ ہے۔ عبد اللہؓ کہتے ہیں، ابا جی نے میری ایک معزز خاندان میں شادی کر دی۔ باپ کا حق ہے۔ شادی کروا کے ہمیں الگ مکان ایک دیا کہ جاؤ رہو۔ اب وقتاً فوقتاً آیا کرتے تھے، بیٹا کیا حال ہے۔ کچھ دنوں کے بعد آئے، بہو سے پوچھا، بیٹی کیا حال ہے؟ ابا جی، بالکل ٹھیک ہے۔ عبد اللہؓ کا کیا حال ہے؟ جی، بہت اچھا ہے۔ کیسا ہے عبد اللہ؟ کہا، بڑا نیک آدمی ہے، بہت نیک آدمی ہے، ساری رات مصلے پہ ہوتا ہے، سارا دن روزے سے ہوتا ہے۔ عمرو بن العاصؓ سمجھ گئے کہ یہ رپورٹ نہیں، شکایت ہے۔ بیوی خاوند کے بارے میں یہ کہے کہ ساری رات مصلے پہ ہوتا ہے اور سارا دن روزے سے ہوتا ہے، یہ بیوی کی رپورٹ نہیں ہے، یہ شکایت ہے۔ سمجھ گئے کہ بیٹی کیا کہہ رہی ہے۔
سیدھے گئے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ یا رسول اللہ! میں نے ایک معزز خاندان میں اس کی شادی کی ہے، وہ مصلے سے ہی نہیں اٹھتا۔ فرمایا، ٹھیک ہے، میں کرتا ہوں بات۔ اگلی بات عبد اللہ بن عمرو العاصؓ خود بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں حضورؐ نے مجھے بلایا۔
عبد اللہ! کیا کرتے ہو؟ کتنے نفل پڑھتے ہو؟ ساری رات پڑھتا ہوں۔ خدا کے بندے، ثلثِ لیل، تیسرا حصہ کافی ہے۔
قرآن پاک کتنا پڑھتے ہو؟ روزانہ سارا پڑھتا ہوں۔ فرمایا، مہینے میں ایک پڑھ لیا کرو۔ یا رسول اللہ، اتنا تھوڑا؟ اچھا، دس دن میں پڑھ لیا کرو۔ یارسول اللہ! کم ہے۔ اچھا، سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔
اچھا، روزے کتنے رکھتے ہو؟ سارا مہینہ رکھتا ہوں۔ فرمایا، مہینے میں تین کافی ہیں۔ یا رسول اللہ، مہینے میں تین؟ اچھا، ایسا کرو، سات رکھ لیا کرو۔ یارسول اللہ، بہت کم ہیں۔ یہ میں پوری روایت بیان کر رہا ہوں۔ اچھا، دس رکھ لیا کرو، ایک دن رکھ لو، دو دن نہیں رکھو۔ یا رسول اللہ، تھوڑے ہیں۔ اچھا، بس داؤد علیہ السلام والا روزہ، ایک دن روزہ، ایک دن نہیں۔ بس اس سے آگے نہیں۔
یہ ساری سیٹنگ ہوگئی۔ یہ ساری سیٹنگ کر کے وہی جملے جو سلمان فارسیؓ نے ابوالدرداءؓ کو کہے تھے، وہی جملے حضورؐ نے ان کو کہے۔ دیکھو، ’’ان لربک علیک حقا، ولنفسک علیک حقا، ولعینیک علیک حقا، ولزوجک علیک حقا …‘‘۔ رب کا بھی حق ہے، آنکھوں کا بھی حق ہے، پیٹ کا بھی حق ہے، بیوی کا بھی حق ہے، اپنے اپنے وقت پہ سارے حق ادا کرو۔ ایک کے حق کی وجہ سے دوسرے کا حق مت مارو۔
یہ ہے حقوق کی بنیاد۔ ایک بات کا اضافہ کر کے بات ختم کرتا ہوں۔ میں نے صرف یہ کہا ہے کہ اسلام کا تصورِ حقوق کیا ہے۔ پہلی بات یہ کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں ہیں۔ دوسری بات کہ جس کے ساتھ بھی حق ادا کرنا ہے اس کا حق سمجھ کے کرنا ہے، احسان سمجھ کے نہیں کرنا۔ یہ قرآن کہتا ہے۔
اچھا، عبد اللہ بن عمرو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنی داستان سنائی کہ مجھے حضورؐ نے ڈانٹا، سمجھایا، تقسیم کار کی، پوری ترتیب سیٹ کی میری۔ عبد اللہؓ بڑے مزے کی بات کرتے ہیں، جملہ یہ ہے’’یا لیتنی قبلت رخصۃ نبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ بڑھاپا جب آیا نا۔ بڑھاپا آنے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے، بڑھاپے کا پہلے نہیں پتہ چلتا۔ [کہتے ہیں] جب حضورؐ کے ساتھ میں نے کمٹمنٹ کی تھی کہ اتنے روزے رکھوں گا، اب میرے لیے مشکل ہو گیا ہے، ایک دن چھوڑ کر ایک دن۔ آج یہ تیسرا حصہ رات کا تین گھنٹے جاگنا مشکل ہو گیا ہے، اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ اب مجھے احساس ہوا کہ ’’یا لیتنی قبلت رخصۃ نبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘، اے کاش، حضورؐ جو مجھے سہولتیں دے رہے تھے، میں نے قبول کی ہوتیں۔ بڑا تاریخی جملہ ہے۔ اب حضورؐ سے میں نے جو سسٹم طے کیا ہے، اسے نبھانا ضروری ہے، نبھ نہیں رہا۔ یہ تو عبد اللہ بن عمرو العاصؓ کی بات ہے۔
ایک جملہ میں عرض کرتا ہوں، یہ بات یاد رکھیں، انسان جب بھی اپنے بارے میں فیصلہ کرے گا وقتی حالات کے تحت کرے گا۔ ایک آدمی فیصلہ کرے، ایک فیملی فیصلہ کرے، ایک برادری فیصلہ کرے، ایک سوسائٹی فیصلہ کرے، ایک قوم فیصلہ کرے، ایک پارلیمنٹ فیصلہ کرے، جب خود فیصلہ کریں گے، وقتی حالات کے تحت ہو گا، اس لیے ترمیمیں کرنی پڑتی ہیں۔ اللہ پاک کا قانون جب بھی فیصلہ کرتا ہے، اس کے سارے حالات سامنے رکھ کر کرتا ہے۔ شریعت میں اور انسانی قانون میں یہی فرق ہے۔ انسانی قانون بادشاہ بنائے یا پارلیمنٹ بنائے، انسانی قانون پارٹی بنائے یا لیڈر بنائے، وقتی حالات کے تحت ہوتا ہے۔ اور شریعت کا قانون سارے حالات کو سامنے رکھ کر ہوتا ہے۔
میں نے چند باتیں عرض کی ہیں، یہ بات سمجھانے کے لیے کہ حقوق کا انسانی تصور کیا ہے، اللہ کا حق بھی ادا کرو، بندوں کا حق بھی ادا کرو، توازن قائم رکھو، اس بیلنس کا نام دین ہے، اس توازن کا نام اسلام ہے، اور تمام کے حقوق اپنے اپنے وقت پہ ادا کرنا، اس کا نام شریعت ہے۔ اللہ پاک مجھے اور آپ سب کو ہر ایک حق اپنے اپنے وقت پہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

