تمیزِ آقا و بندہ کا اصل سبب استحصالی نظام ہے

   
۶ مئی ۲۰۰۴ء

مزدوروں کا عالمی دن اس سال بھی آیا اور روایتی سرگرمیوں کے ساتھ گزر گیا۔ یہ دن ہر سال یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس دن شکاگو کے مظلوم مزدور استحصال پسندوں کے سامنے ڈٹ گئے تھے اور انہوں نے محنت کشوں کے حقوق کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا تھا۔ انہی کی یاد میں اس دن کا اہتمام کیا جاتا ہے، جلسے ہوتے ہیں، سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں، ریلیاں نکالی جاتی ہیں، مزدور انجمنیں اپنے مطالبات دہراتی ہیں، محنت کشوں کے حقوق کی حمایت میں بیانات جاری ہوتے ہیں، اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں، ریڈیو اور ٹی وی پر خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں اور این جی اوز ایک بار پھر محنت کشوں کے حق میں پریس ریلیز جاری کرتی ہیں۔

اس کے بعد یہ کیس ایک سال کے لیے پھر داخل دفتر ہو جاتا ہے۔ اگلا سال آئے گا، اس میں یکم مئی بھی ہو گا اور مزدوروں کو تسلیاں اور دلاسے دینے کے لیے ایک بار پھر ایک دن کے لیے ان کے بہت سے ہمدرد اور بہی خواہ نمودار ہو جائیں گے۔ اس دوران محنت کش کے شب و روز وہی رہیں گے، اس کے لیے دو وقت کی روٹی، تن ڈھانپنے کو کپڑے اور سر چھپانے کو جھونپڑی کا حصول اسی طرح دشوار تر ہوتا چلا جائے گا۔ اس کی محنت پر عیش کرنے والے عیش کرتے رہیں گے اور وہ خون پسینہ ایک کر کے معاشرہ کے چند افراد اور طبقات کو زندگی کی سہولتیں فراہم کرنے کے بعد خود جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے انہی کی بخشیش کا محتاج بنا رہے گا۔

سوسائٹی کا سارا نظام محنت کش کے دم قدم سے ہے۔ کھیت ہو یا کارخانہ، بازار ہو یا گھر، اس کی محنت و مشقت کے مظاہر ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اگر نہ ہو تو کھیت، کارخانہ اور بازار ہر طرف ہو کا عالم ہو، چاروں طرف سناٹا ہو۔ باقی شعبوں کو چھوڑیں، ایک بظاہر معمولی سے شعبے کو دیکھ لیں۔ گلیوں اور نالیوں کی صفائی کرنے والا مزدور جسے ہر گزرنے والا حقارت سے دیکھ کر منہ دوسری طرف پھیر کر آگے نکل جاتا ہے، اگر وہ کام چھوڑ دے تو دو تین روز میں ہمارا کیا حشر ہو جائے؟ کپڑے دھونے اور استری کرنے والا میسر نہ آئے تو بہت سے بڑے گھروں پر قیامت بیت جائے۔ بوٹ پالش کرنے والا نہ ملے تو ہماری ساری اکڑفوں غائب ہو جائے۔ اور جون کی تپتی دوپہر میں تندور کی آگ میں اپنا چہرہ جھلسا کر روٹیاں پکانے والا منظر سے چند روز کے لیے غائب ہو جائے تو بہت سوں کو جان کے لالے پڑ جائیں۔

زندگی کے دوسرے شعبوں کو اسی پر قیاس کر لیجئے اور دیکھئے زندگی کی اس بھاری بھر کم عمارت کا بوجھ کس قدر اس محنت کش اور مزدور نے اٹھا رکھا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم اسے دیتے کیا ہیں؟ شب و روز محنت و مشقت کی چکی گھمانے والے ہاتھوں میں ان کی محنت کا کتنا صلہ آتا ہے؟ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے مزدوروں کے بارے میں جو غلام اور باندیاں کہلاتے تھے فرمایا تھا کہ

’’جو خود کھاتے ہو ان کو کھلاؤ، جو خود پہنتے ہو ان کو پہناؤ، ان کی ہمت سے زائد کام ان پر نہ ڈالو، اور اگر کوئی کام ان کی ہمت سے بڑھ کر ہے تو خود ساتھ مل کر ان کا ہاتھ بٹاؤ۔“ (مسلم شریف)

ایک صحابیؓ نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری لونڈی ایک پہاڑی پر میری بکریاں چرا رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ بھیڑیا آ کر ایک بکری کو لے گیا اور وہ اس سے غافل رہی۔ مجھے غصہ آیا اور میں نے اسے تھپڑ رسید کر دیا۔ اب مجھے افسوس ہو رہا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس زیادتی کی تلافی میں اسے آزاد کر دوں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے آزاد نہیں کرو گے تو جہنم کی آگ تم سے لپٹ جائے گی۔

آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام اور باندی کے لیے کہا کہ انہیں اپنے جیسا کھلاؤ اور اپنے جیسا پہناؤ۔ آج دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ آج کے دور میں ہماری راحت اور سہولت کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں اور سردی گرمی کی پرواہ کیے بغیر ہمیں زندگی کی سہولتیں فراہم کرنے میں لگے رہتے ہیں، ان کا کھانا پینا اور اوڑھنا پہننا ہم سے کس قدر مختلف ہے۔ ان کی رہائش، لباس، خوراک، رہن سہن اور بود و باش کا معیار کیا ہے؟ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، ایک ہی کوٹھی میں اس کے اصل مکینوں اور سرونٹ کوارٹر کے باسیوں کو دیکھ لیجئے، ساری حقیقت سامنے آ جائے گی۔ کسی اعلیٰ افسر کے ایئر کنڈیشنڈ دفتر کے اندرونی ماحول اور اسی دفتر کے دروازے کے باہر ایک سادہ سے بنچ پر بیٹھے اردلی یا چوکیدار پر نظر ڈال لیجئے، سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

دن رات محنت اور خدمت کرنے والے خادم کو ہم ایک ماہ کے بعد جو معاوضہ دیتے ہیں کیا وہ اس کی خدمت کا صحیح صلہ ہے؟ اور کیا وہ اس سے اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکتا ہے؟ گھر میں کوئی بیمار ہو تو اس کا علاج کرا سکتا ہے؟ خاندان میں شادی بیاہ کے اخراجات پورے کر سکتا ہے؟ اور خوشی غمی میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے؟ وہ ذاتی خادم ہو، گھریلو نوکر ہو، کارخانہ کا مزدور ہو، کھیت کا ملازم ہو، دفتر کا کلرک ہو یا دکان کا خدمتگار ہو سب کا ایک جیسا حال ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ سال کے بعد یا شادی غمی کے موقع پر بونس کے نام سے یا زکوٰۃ کی رقم میں سے چند روپے اس کے ہاتھ میں تھما کر ’’مالک صاحب‘‘ حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہیں اور اس محنت کار اور خادم کو ہمیشہ کے لیے اپنا ممنون احسان کر لیتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ کسی ملک کا دارالحکومت اس کے اجتماعی کلچر کا نمائندہ اور تصویر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں گھوم پھر کر دیکھئے کہ گریڈ سسٹم نے ایک ہی قوم کو کتنے طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے؟ اور کوٹھیوں اور کوارٹروں کے فرق نے ایک ہی شہر میں رہنے والوں کے درمیان حجاب اور اجنبیت کی کتنی دیواریں کھڑی کر رکھی ہیں؟ یہ تقسیم کہاں سے آئی ہے؟ یہ تفریق کس نے پیدا کی ہے؟ صحابہ کرامؓ کے دور میں تو یہ تقسیم اور تفریق موجود نہیں تھی، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی نہیں تھی۔ کوئی امیر ہے یا غریب، ایک ہی طرح کے مکان ہوتے تھے، ملتا جلتا لباس ہوتا تھا، ایک دوسرے سے بے تکلفی کے ساتھ ہاتھ ملاتے تھے، اکٹھے بیٹھ کر ایک ہی طرح کا کھانا کھا لیا کرتے تھے، کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا تھا، کسی پرسٹیج کا سوال کھڑا نہیں ہوتا تھا، کوئی طبقاتی اونچ نیچ نظر نہیں آتی تھی۔ مگر ہمارا حال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں ایک دفتر کے ملازم نے مجھے بتایا کہ دفتر میں کام کرنے والے عام ملازمین کے لیے یہ ہدایت ہوتی ہے کہ وہ اپنے لباس کا معیار افسروں سے مختلف اور فروتر رکھیں، تاکہ افسر اور ماتحت میں فرق نظر آئے۔

میں نے یومِ مئی پر ہونے والی بہت سی تقریبات کی رپورٹ پڑھی ہے، متعدد بیانات اور قراردادیں میری نظر سے گزری ہیں، اخبارات کے خصوصی ایڈیشنوں پر بھی نظر ڈالی ہے، مگر اصل مسئلہ کی طرف توجہ دلاتے کوئی دکھائی نہیں دیا۔ بیماری کے اصل اسباب پر کوئی بات نہیں کر رہا اور اس کینسر کے حقیقی علاج کا تذکرہ کہیں نظر نہیں آ رہا۔ اس بیماری کا اصل سبب معاشرہ کی طبقاتی تقسیم ہے، چند انسانوں کا دوسروں پر بڑائی کا احساس ہے، برتری کا جذبہ ہے اور استحصال کا جنون ہے۔ اس جنون میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس کی خدمت اور محنت نے ہمارے اس جذبہ اور انا کو تسکین دے رکھی ہے وہ بھی انسان ہے، اس کے بھی بال بچے ہیں، اس کا جی بھی اچھا کھانے کو اور اچھا پہننے کو چاہتا ہے، وہ بھی بیمار ہوتا ہے اور اسے بھی علاج کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، سردی اور گرمی سے بچنا اس کی بھی ضرورت ہے اور معاشرتی خوشیوں میں شریک ہونا اس کا بھی حق ہے۔

میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں عام محنت کش کو اس کی محنت کا جو معاوضہ ملتا ہے، معاوضہ دینے والے یا معاوضہ کی مقدار طے کرنے والے زندگی میں صرف ایک بار تجربہ کے طور پر اتنی رقم میں اپنا ایک ماہ گزار کر دکھائیں۔ اگر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اسے اپنے جیسا نہیں کھلا سکتے تو صرف ایک ماہ اس جیسا کھا کر دیکھ لیں، اس جیسا پہن کر دیکھیں اور اس جیسے کوارٹر میں بچوں سمیت ایک ماہ رہ کر دیکھ لیں۔ صرف ایک بار صرف ایک ماہ کے لیے تجربہ کر کے دیکھیں۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آقا اور غلام، افسر اور ماتحت، مالک اور مزدور اور زمیندار اور مزارع کے لیے یہی ہدایات دی ہیں کہ دونوں کے لباس، خوراک، رہائش و رہن سہن میں زیادہ فرق نہ ہو، مگر ہمارا سسٹم اس ہدایت کو قبول کرنے سے انکاری ہے اور ہمارا طرزِ زندگی اس ہدایت کا متحمل نہیں ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ اس ظالمانہ سسٹم کا ہے، استحصالی نظام کا ہے، اور معاشرہ کی طبقاتی تقسیم کا ہے۔ جب تک اس کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جائے گا اور جب تک خلافت راشدہ کے دور جیسا غیر طبقاتی معاشرہ وجود میں نہیں آئے گا، خودکشیاں اسی طرح ہوتی رہیں گی اور محنت کشوں کے خون پسینے کی کمائی اسی طرح چند طبقات اور افراد کی عیاشی کا ذریعہ بنتی رہے گی۔

یومِ مئی پر محنت کشوں کے حق میں بیانات دینے والوں اور ان کی حمایت میں اجتماعات کا اہتمام کرنے والوں سے گزارش ہے کہ بیماری کی اصل جڑ کو پکڑیں، اس استحصالی نظام کے خلاف آواز اٹھائیں جس نے محنت کش کو معاشرہ میں کمین اور چھوت بنا رکھا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یہی ہے اور مسئلہ کا اصل حل بھی یہی ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter