سیدنا حضرت ابوہریرہؓ کے حافظہ کا امتحان

   
۱۱ اکتوبر ۲۰۲۱ء

بعد الحمد والصلوٰۃ! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو احادیث مبارکہ کو یاد کرنے کا خصوصی ذوق تھا، جہاں بیٹھتے حدیثیں بیان کرتے تھے۔ جب انہوں نے بہت زیادہ حدیثیں بیان کرنا شروع کر دیں تو آخر عمر میں کچھ لوگوں کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں، پتہ نہیں ان کا حافظہ ٹھیک کام کرتا ہے یا نہیں؟ جان بوجھ کر غلط بیان کرنا اور بات ہے لیکن اگر کسی کا حافظہ کمزور ہو تو ممکن ہے کہ بات ادھر کی ادھر بیان کر دے۔ لوگوں کو یہ خدشہ ہوا کہ بوڑھے ہیں بزرگ ہیں، اگر ان کا حافظہ کمزور ہو گیا ہے تو حدیثوں میں بھی ہو سکتا ہے، اگر حدیثوں میں گڑبڑ ہو گئی تو دین گڑبڑ ہو جائے گا۔ کسی اور کی بات آگے پیچھے ہو جائے تو زیادہ فرق نہیں پڑتا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو بات کی جائے کہ آپؐ نے یہ فرمایا تھا یا آپؐ نے یہ عمل کیا تھا تو وہ دین بن جاتا ہے۔ لوگوں کو خدشہ ہوا اور کسی نے آپ پر اعتراض بھی کیا جس کا حضرت ابوہریرہ نے خود جواب دیا جو بخاری شریف میں مذکور ہے۔

جبکہ کچھ لوگوں نے گورنر مدینہ حضرت مروان بن الحکمؓ سے شکایت کی کہ حضرت ابو ہریرہؓ ہر بات پر حدیث بیان کر دیتے ہیں تو آپ چیک کریں کہ ان کا حافظہ کام کرتا ہے یا نہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ اور مروان بن الحکمؓ آپس میں دوست بھی تھے۔ مروان بن الحکمؓ کہیں دورے پر جاتے تو ان کے نائب گورنر حضرت ابوہریرہؓ ہوتے تھے، مدینہ منورہ کے قائم مقام گورنر وہ ہوتے تھے۔ مسجد نبویؐ میں کئی جمعے انہوں نے پڑھائے ہیں۔ مروان بن الحکمؓ نے کہا کہ بات تو ٹھیک ہے لیکن حضرت ابو ہریرہؓ کا امتحان کیسے لیں؟ کون ہے جو حضرت ابوہریرہ کو چیک کرے۔ ہماری ان کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے لیکن چیک کرنا بھی ضروری ہے، بہرحال میں کوئی راستہ نکالتا ہوں۔

اس مقصد کے لیے ایک دن مروان بن الحکمؓ نے مجلس جمائی اور حضرت ابوہریرہؓ کو پیغام بھجوایا کہ آپ سے کچھ حدیثیں سننے کو جی چاہتا ہے، تشریف لائیں۔ چنانچہ وہ تشریف لے آئے، علماء کی مجلس لگی ہوئی تھی۔ حضرت ابوہریرہؓ سے حدیثیں بیان کرنے کو کہا گیا۔ حضرت ابوہریرہؓ کو اور کیا چاہیے تھا، حدیثیں بیان کرنا شروع کر دیں۔ ادھر مروان بن الحکمؓ نے پردے کے پیچھے ایک آدمی بٹھا دیا کہ جو آپؓ بیان کریں اس کو نوٹ کرنا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے سو حدیثیں بیان فرمائیں۔ ویسے تو آپ کو ہزاروں حدیثیں یاد تھیں لیکن اس مجلس میں ایک سو حدیثیں سنائیں۔ مجلس کے اختتام پر مروان بن الحکمؓ نے حضرت ابوہریرہؓ کا شکریہ ادا کیا اور رخصت کر دیا۔

کافی عرصہ کے بعد مروان بن الحکمؓ نے دوبارہ پیغام بھجوایا کہ حضرت! اس موقع پر بہت لطف آیا تھا آپ دوبارہ تشریف لائیں۔ حضرت ابوہریرہؓ تشریف لے آئے تو ان سے وہی سو حدیثیں دوبارہ سننے کی فرمائش کی۔ مروان بن الحکمؓ نے پردے کے پیچھے آدمی بٹھایا کہ آپ جو بیان کریں اس کو چیک کرنا ہے، اگر کمی بیشی ہو تو اسے نوٹ کرنا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے وہی سو حدیثیں بیان فرما دیں۔ مجلس کے اختتام پر مروان بن الحکمؓ نے آپؓ کا شکریہ ادا کیا اور آپ چلے گئے۔ آپ کے جانے کے بعد مروان نے اس آدمی کو بلا کر پوچھا کہ کچھ کمی بیشی تو نہیں کی؟ اس نے بتایا کہ حدیثیں بھی آپؓ نے وہی سنائی ہیں اور حدیثوں کی ترتیب بھی وہی تھی۔ انہوں نے من و عن اسی ترتیب سے حدیثیں سنائی ہیں ایک حدیث بھی آگے پیچھے نہیں سنائی۔ جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا تو اطمینان ہوگیا کہ حضرت ابوہریرہؓ کا حافظہ مضبوط ہے لہٰذا ان کا حق ہے کہ حدیثیں بیان کرتے رہیں۔

اس واقعہ سے ہمیں تین سبق ملتے ہیں۔ (۱) ایک یہ کہ اگر کوئی دینی خطرہ محسوس ہوتا ہو تو اس خطرے کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ دین کے معاملے میں گڑبڑ نہ ہو، اور اس معاملے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ (۲) دوسرا یہ کہ خود کوئی کاروائی کرنے کے بجائے مجاز اتھارٹی سے رابطہ کرنا چاہئے، ہر مسئلہ پر اگر خود کاروائی کریں گے تو انتشار پیدا ہو گا۔ اس موقع پر مجاز اتھارٹی گورنر مدینہ تھے تو لوگوں نے ان سے رابطہ کیا۔ (۳) تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر کسی بڑی شخصیت کو پرکھنا ہو تو اس کی حیثیت کے مطابق یہ کام ہونا چاہیے۔ اختیارات استعمال نہیں کرنے چاہئیں بلکہ ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کے پروٹوکول کے مطابق چیک کرنا چاہیے، خواہ مخواہ چڑھائی نہیں کر دینی چاہیے۔

2016ء سے
Flag Counter