خفیہ نکاح کے جواز کا عدالتی فیصلہ

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۱ جنوری ۲۰۰۰ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

آپ حضرات نے یہ خبر پڑھی ہو گی کہ ہماری وفاقی شرعی عدالت نے باقاعدہ فیصلہ دیا ہے کہ ایک مرد و عورت بند کمرے میں آپس میں خفیہ طور پر نکاح کا معاہدہ کرتے ہیں اور گواہ بھی نہیں رکھتے، تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے، نکاح ہوگیا ہے، گواہوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم اب یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ خفیہ نکاح جائز ہوگیا ہے اور نکاح کے لیے جو کم از کم دو گواہوں کی شرط تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے کہا ہے کہ تصادق الزوجین یعنی مرد اور عورت کی آپس کی انڈرسٹینڈنگ کافی ہے۔ ہم مغرب کی پیروی میں یہاں تک آگئے ہیں کہ ہماری عدالت، اور وہ بھی وفاقی شرعی عدالت، جس کے باضابطہ ڈویزنل بنچ کا فیصلہ ہے کہ مرد و عورت آپس کی انڈرسٹینڈنگ سے نکاح کر سکتے ہیں، اس نکاح کا کسی کے علم میں ہونا ضروری نہیں ہے۔

میں نے اس پر جج صاحبان سے تحریری طور پر سوال کیا ہے کہ جناب وفاقی شرعی عدالت کے قیام کی غرض کیا تھی؟ یہ شرعی عدالت ہمارے مطالبے پر بنی تھی۔ اس عدالت کو بنوانے میں مفتی محمود قدس اللہ سرہ نے بہت بڑا کردار ادا کیا تھا، میں بھی اس جدوجہد میں شریک تھا۔ اس عدالت کی غرض یہ تھی کہ ملک میں جو قوانین رائج ہیں ان میں سے جو اسلام کے خلاف ہیں تو انہیں ہم اسلام کے مطابق بنائیں۔ یعنی جو قوانین انگریزوں کے دور سے چلے آرہے ہیں، قبائل کے جو رواجات ہیں، لوگوں کی جو علاقائی روایات ہیں، اگر ان میں سے کوئی خلافِ اسلام ہے، قرآن و سنت کے منافی ہے تو اس رواج کو، قانون کو اور لوگوں کے طریقے کو تبدیل کر کے شریعت کے مطابق بنائیں۔

میں نے جج صاحبان سے کہا کہ آپ لوگوں نے تو یہ سلسلہ شروع کر دیا ہے کہ جہاں تضاد دیکھا وہاں قرآن کو تبدیل کر دیا۔ آپ نے تو الٹا کام شروع کر دیا ہے۔ آپ کو تنخواہ تو اس بات کی ملتی ہے اور آپ نے آئین کا حلف اس بات پر اٹھایا ہے کہ قرآن و سنت کے منافی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق کریں گے، لیکن آپ یہ کر رہے ہیں کہ قرآن و سنت کا جو قانون مروجہ روایات یا قوانین کے خلاف ہے وہاں آپ نے قرآن کے قوانین کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر یہی کچھ کرنا تھا تو اس کے لیے الگ سے شرعی عدالت کی کیا ضرورت تھی، پہلے سے موجودہ عدالتیں بھی یہی کچھ کر رہی تھیں۔

اور یہ جو فیصلہ سامنے آیا ہے اس سے تو ہمارا پورا خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ جائے گا اور وہ بھی وفاقی شرعی عدالت کے ہاتھوں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قرآن کے نام پر اور شریعت کے نام پر ہم اسی راہ پر چل نکلیں گے جس پر چل کر مغرب نے اپنا فیملی سسٹم تباہ کر لیا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ نکاح ہے تو پھر زنا کس کو کہتے ہیں؟ ایک جوڑا کسی کو بتائے بغیر، کسی کے علم کے بغیر آپس میں تعلقات قائم کرتے ہیں، اگر اس کا نام نکاح ہے تو پھر زنا کی تعریف کیا ہے اور بدکاری کس چیز کا نام ہے؟

ہمارے ہاں ایک محاورہ ہے ’’نیم حکیم خطرۂ جان‘‘، اور اسی وزن پر ایک اور محاورہ ہے ’’نیم ملا خطرۂ ایمان‘‘۔ ہوا یہ کہ ان جج صاحبان کے سامنے کسی وکیل نے فقہ کی کوئی کتاب پڑھ کر یہ کہہ دیا کہ اہل سنت کے چار اماموں میں سے امام مالکؒ نکاح کے لیے دو گواہوں کو ضروری نہیں سمجھتے جبکہ باقی تین امام ضروری سمجھتے ہیں۔ کوئی ان اللہ کے بندوں کو یہ بات سمجھائے کہ امام مالکؒ جو یہ گواہوں کا ہونا شرط نہیں سمجھتے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ امام مالکؒ اس لیے دو گواہوں کو شرط نہیں سمجھتے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ شرط بہت کم ہے۔ امام مالکؒ کہتے ہیں کہ دو گواہوں کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ معاشرے میں اعلان کرنا شرط ہے کہ ہم دونوں نے شادی کر لی ہے۔ اب آپ ایمانداری سے یہ بات بتائیں کہ ایک جوڑا دو گواہوں کے سامنے نکاح کرتا ہے، جبکہ ایک جوڑا وہ ہے جس کے لیے دو گواہوں کی شرط کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے اپنے نکاح کا اعلان سب لوگوں کے سامنے کرنا ضروری ہے، ان میں سے کون سا نکاح ہے جس کی تشہیر زیادہ ہوگی؟ یہ میں قیاس نہیں کر رہا، بلکہ مؤطا امام مالک میں امام مالکؒ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ حضرت ایک جوڑے نے دو آدمیوں کے سامنے نکاح کیا ہے، لیکن وہ اپنے نکاح کو باقی لوگوں سے چھپا رہے ہیں، اس پر امام مالکؒ نے فرمایا کہ یہ نکاح جائز نہیں ہے، اس لیے ان دونوں کو علیحدہ کر دو۔ امام مالکؒ یہ نہیں کہہ رہے کہ دو گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ وہ فرماتے ہیں کہ دو گواہ کافی نہیں ہے۔

ہماری الجھن یہ ہے کہ ہم دو راستوں میں سے ایک راستے کا فیصلہ نہیں کر پا رہے:

  1. ایک راستہ ہے خالص شریعت کا کہ آنکھ بند کر کے جو قرآن کہتا ہے وہ کریں گے اور جس سے منع کرتا ہے اس سے رک جائیں گے۔ طالبان بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتہ امریکہ کیا کہتا ہے، یورپ کیا کہتا ہے، ہم تو وہ راستہ اپنائیں گے جو قرآن و سنت کے مطابق ہے۔
  2. دوسرا راستہ وہ ہے جو ترکی نے اپنایا کہ جو یورپ کہتا ہے ہم تو وہی کریں گے، ہمیں نہیں جانتے کہ قرآن کیا کہتا ہے، حدیث کیا کہتی ہے۔ ترکی ہمارا مسلم بھائی ملک ہے، وہ یہ کہتے ہیں کہ جو مغرب کے قوانین ہیں، ہم ان پر عمل کریں گے۔

یہ دو راستے ہیں۔ جبکہ ہم پاکستان والے درمیان میں کھڑے ہیں۔ کبھی ہم پہلے راستے کی طرف منہ کر لیتے ہیں اور کبھی دوسرے راستے کی طرف۔ بھئی صاف بات کرو، ایک طرف ہو جاؤ، ابہام تو نہ رکھو، اگر یورپ کے راستے پر چلنا ہے تو ترکی کی طرح سیدھی بات کرو اور (نعوذ باللہ) قرآن و سنت سے دستبرداری کا اعلان کر دو۔ لیکن اگر قرآن و سنت کے راستے پر چلنا ہے تو اس راستے پر عمل ہماری مرضی سے نہیں ہوگا بلکہ یہ تو طے شدہ ہے۔ اس میں یہ نہیں ہوگا کہ ہم کیا کہتے ہیں اور مغرب والے کیا کہتے ہیں، یہ تو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے طے شدہ راستہ ہے۔ اس میں تو احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، انہی پر ہمیں بلا چوں چرا چلنا ہوگا۔ اس راستہ میں ہماری مرضی نہیں چلے گی کہ چلیں یہ بات فائدے کی ہے مان لیتے ہیں، اور فلاں بات مشکل ہے، اس میں قربانیاں دینی پڑتی ہیں، اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ ’’مذبذبین بین ذالک لا الیٰ ھؤلآء ولا الیٰ ھؤلاء‘‘ (النساء ۱۴۳) والا معاملہ نہیں چلے گا۔ گزشتہ پچاس سال سے ہم دو کشتیوں پر سوار ہیں، جس دن ہم نے صحیح فیصلہ کر کے کنکشن جوڑ لیا، روشنی آجائے گی۔

وفاقی شرعی عدالت کا یہ فیصلہ جو کل کے اخبارات میں چھپا ہے کہ نکاح میں گواہوں کی بھی ضرورت نہیں ہے، مرد و عورت کہیں بیٹھ کر آپس میں طے کر لیں، گواہوں کے بغیر، تشہیر کے بغیر، اعلان کے بغیر، اسے نکاح تسلیم کر لیا جائے گا۔ یہ بالکل حرام کاری ہے، زنا ہے اور نکاح نہیں ہے، یہ قرآن و سنت سے بغاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں، اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

2016ء سے
Flag Counter