تاجروں کی طویل ہڑتال اور فوجی حکومت

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۹ جون ۲۰۰۰ء

ملک بھر میں ہڑتال کا مسئلہ لمبا ہوتا جا رہا ہے اور دونوں طرف سے بات انتہا پر پہنچ چکی ہے، کسی مصالحت کی صورت بھی نہیں نکل رہی۔ ایسی صورتحال میں بڑے تاجر کو تو خاص فرق نہیں پڑتا لیکن چھوٹا تاجر، متوسط طبقہ، غریب آدمی، ریڑھی بان، ان لوگوں پر بہت اثر پڑ رہا ہے، اور حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ میں اس وقت دو گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔

ایک تو یہ کہ جوں جوں دن بڑھتے جا رہے ہیں فوج اور عوام میں فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے جو کہ ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ فوج اور لوگوں کے درمیان منافرت، بُعد، فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگ جو ہمارے سامنے فوج اور فوجی افسران کے بارے میں باتیں کرتے ہیں، میں یہاں پر وہ دہرا نہیں سکتا۔ اور یہ ہمارے ملک کے خلاف اتنی بڑی سازش ہے کہ جس کی سنگینی کا اندازہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ادارہ باقی ہے جو ملک کو بچا سکتا ہے، ملک کو سنبھال سکتا ہے، جس کے ساتھ لوگوں کا اعتماد ابھی تک بحال ہے، لیکن سازش یہ ہے کہ اس ادارے کو اور عوام کو محاذ آرائی کر کے آمنے سامنے کھڑا کر کے تباہ کر دو، تاکہ کل اس ملک کے بارے میں بڑی طاقتیں جو فیصلہ کریں اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ میں اللہ کے نام پر اپنے حکمرانوں سے اپیل کروں گا کہ لچک پیدا کرو اور عوام اور فوج کے درمیان محاذ آرائی سے بچاؤ۔

دوسری بات یہ کہ میں تاجروں سے بھی اور حکمرانوں سے بھی عرض کروں گا کہ یہ ہڑتال کا لمبا ہونا غریب آدمی کے لیے تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت بھی اپنے رویے میں لچک پیدا کریں اور تاجر بھی اپنے موقف میں تھوڑی بہت لچک پیدا کریں اور مل جل کر مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانہ راستہ نکالیں، غریب آدمی کو بھوک سے، فاقے سے اور مشقت و تکلیف سے بچائیں۔

2016ء سے
Flag Counter