بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معمول تھا کہ قرآن کریم کی کسی آیت کا مفہوم و مصداق سمجھنے میں دقت پیش آتی تھی یا مغالطہ ہو جاتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے یا اس آیت پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دیکھتے تھے اور اس کے مطابق آیتِ کریمہ کا مفہوم و مصداق سمجھ جاتے تھے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی یا عملی تشریح سامنے آنے کے بعد اسے حتمی سمجھتے تھے اور اس سلسلہ میں کسی اور طرف رجوع نہیں کرتے تھے۔ بیسیوں آیات کریمہ کے حوالہ سے احادیث مبارکہ میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔ ان میں سے مثال کے طور پر ایک آیت کریمہ کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔
قرآن کریم میں ایک جگہ ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم‘‘ تم پر لازم ہے کہ اپنی فکر کرو، کوئی شخص گمراہ ہوتا ہے تو تم اگر ہدایت پر قائم ہو تو اس کے گمراہ ہونے کا تمہیں کوئی ضرر نہیں ہے۔ اس کا مطلب بظاہر یہ بنتا ہے کہ سب اپنی فکر کرو، دوسروں کے گمراہ ہونے سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جب مرتدین اور منکرینِ ختمِ نبوت کے ساتھ ساتھ منکرینِ زکوٰۃ کے خلاف بھی جہاد کا اعلان کیا اور کئی محاذوں پر بیک وقت جہاد شروع ہو گیا تو کچھ ذہنوں میں یہ اشکال پیدا ہوا کہ جب سب نے اپنی اپنی فکر ہی کرنی ہے اور دوسروں کی گمراہی کے بارے میں کچھ سوچنا یا کرنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے تو پھر یہ جہاد کیا ہے؟ بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت صدیق اکبرؓ نے اس بات کو محسوس کیا اور جمعۃ المبارک کے خطبہ میں اس آیت کریمہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! اس آیت کے ظاہری مفہوم سے مغالطے کا شکار نہ ہونا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہ آیت کریمہ ہمارے دور کے بارے میں ہے بلکہ جب قیامت سے پہلے ہر طرف فتنوں کا دور دورہ ہو گا اور اپنا ایمان بچانا بھی مشکل ہو جائے گا تب تم سب سے پہلے ایمان کی حفاظت کی فکر کرنا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کی اس وضاحت کے بعد ذہنوں میں ابھرنے والا یہ مغالطہ زائل ہو گیا اور مجاہدین اپنے اپنے محاذ پر جہاد میں سرگرم رہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اس قسم کی کسی الجھن یا کنفیوژن کے بارے میں صحابہ کرامؓ ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ اس کے بارے میں آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی وضاحت تو نہیں سنی؟ اور جب کوئی حدیث مل جاتی تھی تو وہ الجھن ختم ہو جایا کرتی تھی۔ اس سلسلہ میں بھی بہت سے واقعات ہیں، مثال کے طور پر ایک واقعہ عرض کروں گا جو ترمذی شریف کی روایت میں یوں مذکور ہے کہ حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے کسی صاحب نے مذکورہ آیت کے بارے میں پوچھا کہ جب ہر شخص پر اپنا فکر کرنا ہی لازم ہے اور کسی دوسرے کی گمراہی کے بارے میں اسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو ’’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ کے ان احکام کا کیا مطلب ہے جن میں سختی کے ساتھ اس کی تلقین کی گئی ہے اور اسے مسلمانوں کے فرائض میں شمار کیا گیا ہے۔ حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ نے اس سوال پر پہلے تو یہ فرمایا کہ ’’علی الخبیر سقطت‘‘ تم خبردار شخص کے پاس آئے ہو یعنی اس بات کا علم رکھنے والے سے تم نے یہ بات پوچھی ہے اس لیے کہ اس آیت کریمہ کے حوالہ سے یہی اشکال میرے ذہن میں بھی آیا تھا اور میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا تھا جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ آیت تم لوگوں کے لیے نہیں ہے، تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیتے رہو، کیونکہ اس آیت کریمہ میں قیامت سے پہلے فتنوں کے دور کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب اپنا ایمان خطرے میں دکھائی دینے لگے تو سب سے پہلے اپنے ایمان کی فکر کرو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی کسی بھی آیت یا ارشاد کے بارے میں کوئی الجھن یا اشکال پیش آئے تو اس کی وضاحت کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے رجوع کرنا ہی صحیح راستہ ہے اور ان کی وضاحت سے ہی قرآن کریم کا مفہوم و مصداق طے ہو گا۔

