جیسا دودھ ویسا مکھن!

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۷ دسمبر ۲۰۰۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

آج ہم دنیا بھر کے مسلمان کس چیز کے ضرورتمند ہیں؟ آج ہمارے مانگنے کی چیز یہ ہے کہ یا اللہ! ہمیں تھوڑی سی غیرت دے دے۔ حمیت اور غیرت نام کی کوئی چیز ہم مسلمانوں میں نہیں رہی۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی کے حوالے سے عرض کروں گا۔ مسلم شریف کی روایت ہے ’’المسلم اخو المسلم لا یظلمہ ولا یسلمہ‘‘ کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ خود اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے کسی دوسرے کے ظلم کے حوالے کرتا ہے۔

اس ایک جملے کے حوالے سے دیکھ لیں کہ آج دنیا میں کہاں کہاں مسلمان خود دوسرے مسلمانوں کے ظلم کا نشانہ بن رہا ہے؟ اور کہاں کہاں ہم نے اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کو ظالموں کے حوالے کر رکھا ہے کہ جی بھر کر مارو، پوری تسلی کے ساتھ مارو، ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ کیا اس سے زیادہ بے غیرتی کی انتہا ہو گی؟ آج ہمارے مسلمان حکمران تو بے غیرت ہیں ہی، خود ہم بھی بے غیرت ہیں، اس لیے کہ یہ حکمران بھی ہم میں سے ہی ہیں۔ مکھن دودھ سے نکلتا ہے، جیسا دودھ ہوگا ویسا ہی مکھن ہوگا، ہم اجتماعی اور ملی بے غیرتی کا شکار ہیں۔

آج مسلم سربراہ کانفرنس کی طرف سے بیان آیا ہے کہ اب ہم کسی اور اسلامی ملک پر حملہ برداشت نہیں کریں گے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میرا ایک سوال ہے کہ بے غیرتو! اب دنیا میں اور کوئی اسلامی ملک ہے کونسا؟ مسلمان ملک تو ساٹھ ہیں، اسلامی کونسا ہے؟ ان مسلمان ملکوں میں سے کونسا ملک ایسا ہے جہاں قرآن و سنت کا نظام نافذ ہے؟ ایک سعودیہ میں صرف عدالتی نظام اسلامی ہے، باقی اُن کا سارا نظام بھی کفر کا ہے، ان کا معاشی نظام بھی سودی ہے۔ دنیا میں کوئی ملک بھی ایسا نہیں ہے جہاں مکمل اسلامی نظام نافذ ہو۔ ایک ملک نے چیلنج قبول کر کے یہ ذمہ داری اپنے سر لی تھی کہ ہم کسی کی بات نہیں سنیں گے، ہم قرآن کے احکام پر، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر عمل کریں گے، اس ملک کو تم سب بے غیرت مسلمان ملکوں نے مل کر مروایا ہے۔ کیا ہم اسلامی ملک ہیں جہاں پچاس سال کے عرصے میں بھی ہم انگریز کے کفریہ نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے؟

آج ہمیں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگنے کی ضرورت ہے کہ یا اللہ! ہمیں غیرت نصیب فرما، ایمان کی قیمت ہمارے دلوں سے نکل گئی ہے، ہمیں ایمان کی دولت اور ملی غیرت نصیب فرما۔

2016ء سے
Flag Counter