خلیج میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے اصل مقاصد

   
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۱۹۹۷ء

عراق میں فوجی تنصیبات کا معائنہ کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم سے امریکیوں کو نکال دینے کے بعد علاقہ کی صورتحال پھر سے کشیدہ ہو گئی ہے، اور امریکی حکومت نے عراقی حکومت کی اس کاروائی کا سخت نوٹس لینے کا اعلان کیا ہے جس میں عراق پر ایک بار پھر فوجی حملہ کا امکان بھی شامل بتایا جاتا ہے، جبکہ علاقہ میں نئے امریکی بحری بیڑے کی آمد کی خبریں بھی گرم ہیں۔ مگر امریکہ کو اس بار اپنے حلیف ممالک کی مخالفت کا سامنا ہے اور کویت سمیت بیشتر عرب ممالک نے عراق کے خلاف فوجی کاروائی کی مخالفت کر دی ہے۔ ان سطور کی اشاعت تک خدا جانے صورتحال کیا رخ اختیار کر چکی ہو گی مگر تا دمِ تحریر امریکہ کی طرف سے خلیج میں نئی فوجی کاروائی کے امکانات موجود ہیں، اور امریکہ اسے اپنے وقار کا مسئلہ بنا کر عراق سے نمٹنے کے لیے پر تول رہا ہے۔

خلیج کی جنگ کے آغاز اور کویت پر عراق کے حملہ کے وقت ہم نے یہ عرض کر دیا تھا کہ یہ حالات خود امریکہ اور روس کے حواریوں کے پیدا کردہ ہیں، جن کا مقصد

  1. خلیج میں امریکی بلاک کی فوجی موجودگی کا جواز مہیا کر کے تیل کے چشموں کا کنٹرول حاصل کرنا،
  2. اور خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری کے رجحانات سے وہاں کی کٹھ پتلی شخصی حکومتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ
  3. اسرائیل کی بالادستی کو تسلیم کرانا ہے۔

خلیج کی جنگ کے بعد کے حالات کا تسلسل بتا رہا ہے کہ اس ایجنڈے پر بدستور کام جاری ہے، اور

  • نہ صرف عرب ممالک کی دینی تحریکات کو ریاستی جبر کے ذریعے کچلا جا رہا ہے،
  • بلکہ کٹھ پتلی حکومتوں کے ہاتھوں تیل کی دولت کو بری طرح برباد کرایا جا رہا ہے تاکہ وہ عرب دنیا اور عالمِ اسلام کے کسی کام نہ آ سکے،
  • مزید برآں تیل کی قیمتوں میں وقت کے ساتھ ساتھ فطری اضافے کو روک کر
  • اور جنگی اخراجات کے نام پر ان ممالک کی دولت کو ہضم کر کے اقتصادی لحاظ سے عرب دنیا کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

ان مقاصد کی تکمیل کے لیے خلیج میں امریکہ کی فوجی موجودگی ضروری ہے۔ اور کویت کے دوبارہ آزاد اور خودمختار ہو جانے کے بعد امریکہ کی فوجی موجودگی کا کوئی جواز نہیں بنتا، اس لیے امریکہ ہر دو تین سال کے بعد اس قسم کا ڈرامہ کھڑا کر کے خلیج میں اپنی فوج کی موجودگی کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اور موجودہ بحران بھی ہمارے نزدیک اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔

اس مرحلہ پر عرب لیگ اور کویت کی طرف سے عراق پر امریکہ کے متوقع حملہ کی مخالفت ایک خوش آئند امر ہے، لیکن صرف اس سے بات نہیں بنے گی، عرب لیگ بلکہ اسلامی سربراہ کانفرنس کو یہ دوٹوک موقف اختیار کرنا ہو گا کہ امریکہ کی خلیج میں فوجی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے اس لیے وہ واپس جائے اور خلیج کے ممالک کو آزادی کے ساتھ اپنے معاملات خود طے کرنے کا موقع فراہم کرے۔ جب تک عرب ممالک امریکہ کے سامنے جرأتمندانہ اور دوٹوک موقف اختیار نہیں کرتے، یہ ’’پیر تسمہ پا‘‘ ان کے کندھے سے نہیں اترے گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter