مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ

   
۲۵ اکتوبر ۱۹۹۸ء

مولانا محمد عبد اللہؒ بھی ایک سفاک دہشت گرد کی فائرنگ کا نشانہ بن کر شہادت سے ہمکنار ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حق اور اہل حق کے نمائندہ تھے۔ انہوں نے جس شان کے ساتھ اس نمائندگی کو نبھایا، تاریخ میں حق پرست اور حق گو علماء کی تاریخ کے ایک مستقل باب کی حیثیت سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔

ابھی گزشتہ منگل کو جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی صدر میں منعقد ہونے والے پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں وہ ہمارے ساتھ شریک تھے۔ وہ پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی نائب امیر تھے اور کونسل کی سرگرمیوں میں دلچسپی کے ساتھ شامل ہوتے تھے۔ پھر اس کے بعد جمعرات کو ربوہ کی مسلم کالونی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام منعقد ہونے والی سالانہ ختم کانفرنس میں ہم اکٹھے تھے۔ راقم الحروف کا خطاب ظہر کے بعد کی نشست میں تھا اور مولانا عبد اللہؒ اسٹیج پر تشریف فرما تھے۔ اسٹیج پر جانے سے پہلے مجھ سے پوچھا کہ حضرت مولانا خان محمد صاحب کس کمرہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ انہیں بتایا تو کہنے لگے کہ آؤ تقریر سے پہلے ان سے مل لیتے ہیں بعد میں رش ہوتا ہے اور ملاقات صحیح طریقہ سے نہیں ہوتی۔ چنانچہ ہم دونوں حضرت مولانا خان محمد صاحب کے کمرہ میں حاضر ہوئے اور ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر کسی عزیز نوجوان کا حفظ قرآن کریم مکمل ہونے کی خوشی میں حضرت مولانا خان محمد نے لڈو تقسیم کیے اور ہمیں بھی اپنے ہاتھ سے ایک ایک لڈو دیا۔ یہ مولانا محمد عبد اللہؒ کے ساتھ میری آخری ملاقات تھی اور اس کے تیسرے روز ہفتہ کو ظہر کے بعد اچانک یہ دلخراش خبر سننا پڑی کہ انہیں کسی شقی القلب دہشت گرد نے گھر کے سامنے شہید کر دیا ہے۔

مولانا محمد عبد اللہؒ اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد (لال مسجد) کے خطیب کی حیثیت سے سرکاری ملازم تھے اور ان کا عہدہ وفاقی حکومت کے ایڈیشنل سیکرٹری کے برابر بتایا جاتا ہے۔ لیکن ان کی یہ حیثیت دینی اور ملی معاملات میں ان کی حق گوئی میں کبھی حائل نہیں ہوئی۔ وہ صاف گو اور حق گو عالم دین تھے اور جس بات کو صحیح سمجھتے تھے اس کے اظہار میں کوئی خوف، مصلحت یا لالچ ان کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں بن سکی۔ وہ تحفظ ختم نبوت اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ حتیٰ کہ متعدد بار ان کا تبادلہ کیا گیا اور گرفتار بھی ہوئے لیکن ان کے مقتدیوں کو ان سے اتنی عقیدت تھی کہ ان کے تبادلہ کی کوئی سرکاری کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور بالآخر مقتدیوں کے اصرار پر حکومت کو ان کے تبادلہ کے احکام واپس لینا پڑے۔

ان کا جمعۃ المبارک کا خطاب دینی و قومی معاملات میں بے باکانہ اظہار پر مشتمل ہوتا تھا۔ لیکن بات دلیل سے کرتے تھے اور لٹھ مارنے کی بجائے حکمت و دانش سے اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کرتے تھے۔ پھر اس کے پیچھے ان کی نیکی اور خلوص بھی کارفرما ہوتا تھا اس لیے ان کی حق گوئی کا ہر حلقہ میں یکساں احترام پایا جاتا تھا۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں الحاج محمد علی خان ہوتی ان کی کابینہ میں شامل تھے اور وفاقی وزارت تعلیم کا قلمدان ان کے پاس تھا۔ مجھے ان سے کوئی کام تھا مگر براہ راست تعارف نہیں تھا اس لیے مولانا محمد عبد اللہؒ سے عرض کیا کہ وہ ساتھ چلیں۔ چنانچہ ہم دونوں ہوتی صاحب سے ان کے دفتر میں ملے اور متعلقہ کام کے علاوہ مختلف امور پر باہم گفت و شنید ہوئی۔ اس موقع پر ہوتی صاحب نے مجھ سے مخاطب ہو کر ازراہ تفنن کہا کہ ’’آپ مولانا عبد اللہ صاحب سے ہماری سفارش کریں‘‘۔ میں نے پوچھا کہ کس سلسلہ میں تو کہنے لگے کہ ان سے کہیں کہ ’’ذرا ہاتھ ہولا رکھا کریں‘‘۔ پھر خود ہی ہنستے ہوئے کہا کہ جمعہ کے روز جب یہ منبر پر تقریر کر رہے ہوتے ہیں تو ہم ان کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے خلاف تقریر کرتے ہیں اور پھر ہم سے ہاتھ بھی اٹھواتے ہیں تاکہ ہماری طرف سے تائید ہو کہ یہ صحیح کہہ رہے ہیں۔ ہوتی صاحب نے کہا کہ مجھے تو خود (قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے) کھڑا ہونا پڑتا ہے تاکہ مولانا صاحب مجھے دیکھ لیں اور انہیں یقین ہو جائے کہ میں بھی ان کی تائید کر رہا ہوں۔ یہ بات اگرچہ محمد علی خان ہوتی نے ازراہ تفنن کہی لیکن اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ مولانا محمد عبد اللہ کے خطبات جمعہ میں صاف گوئی اور بے باکی کا انداز کیسا ہوگا۔

مولانا موصوف ملک بھر کے مسلک اور جماعتی علماء اور کارکنوں کا اسلام آباد میں متعلقہ کاموں میں سہارا تھے۔ اسلام آباد میں کسی محکمہ سے متعلق کسی کا کوئی کام ہوتا تو وہ بلا جھجک مولانا محمد عبد اللہؒ کے پاس آتا اور وہ بلا تکلف اس کے ساتھ چل پڑتے، کام بھی کراتے اور اس کی دل نوازی بھی کرتے۔

مولانا محمد عبد اللہؒ مسلکی اعتبار سے دیوبندی تھے اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے شاگردوں میں سے تھے۔ بلکہ انہیں اسلام آباد میں مولانا بنوریؒ نے ہی بھیجا تھا حالانکہ ان کا اصل علاقہ روجھان (ڈیرہ غازی خان) تھا اور وہ لغاری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

مولانا عبد اللہؒ ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کے داعی رہے اور اختلافی مسائل میں بات الجھانے کی بجائے سلجھاؤ کا راستہ تلاش کرنا ان کا خصوصی ذوق تھا۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ خود انہوں نے مجھے سنایا کہ اسلام آباد کی کسی مسجد میں محراب پر ’’یا اللہ‘‘ اور ’’یا محمد‘‘ لکھنے کا جھگڑا تھا۔ بریلوی حضرات یہ لکھتے ہیں اور یہ ان کی علامت کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ دیوبندی حضرات اس طرح لکھنا صحیح نہیں سمجھتے۔ مولانا محمد عبد اللہؒ نے کہا کہ کچھ دوست انہیں بھی اس مسجد میں لے گئے، وہاں لوگ جمع تھے اور خدشہ تھا کہ کہیں جھگڑا نہ ہو جائے۔ یہ دیکھ کر وہ آگے بڑھے اور عوام سے مخاطب ہو کر انہوں نے کلمہ طیبہ پڑھا اور کلمہ طیبہ کے فضائل بیان کیے اور پھر کہا کہ اگر محراب میں اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف نام لکھنے کی بجائے پورا کلمہ ہی لکھ دیا جائے تو کیا حرج ہے؟ ایک طرف کلمہ کا پہلا جزو لکھ دیا جائے اور دوسری طرف دوسرا جزو۔ اس طرح کلمہ طیبہ کی برکات بھی حاصل ہوں گی اور جھگڑے سے بھی بچ جائیں گے۔ مولانا موصوف نے بتایا کہ ان کی اس بات سے سب لوگوں نے اتفاق کیا اور اس طرح مسجد میں دو فریق باہمی تنازعے اور جھگڑے سے بچ گئے۔

مولانا محمد عبد اللہؒ کی ذاتی زندگی بے حد سادہ اور تکلفات سے دور تھی اور وہ بلاشبہ درویش صفت عالم دین تھے۔ وہ اپنے اکابر و اسلاف سے نہ صرف محبت کرتے تھے بلکہ ہر محفل میں ان کا تذکرہ بھی کرتے تھے اور خود بھی اپنے اساتذہ اور امام کی شاندار روایات کے امین تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ قحط الرجال کے اس دور میں علم، اخلاق، حق گوئی، سادگی، خدمت اور عملی دینداری جیسی صفات کی جامع شخصیت کا اچانک ہم سے بچھڑ جانا بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور علمی و دینی حلقوں کا بہت بڑا نقصان ہے جس کی تلافی کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ البتہ اس بات سے کسی حد تک خوشی ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے فرزند مولانا عبد العزیز کی تربیت اپنی نہج پر کی اور وہ ان صفات میں اپنے باپ کا پرتو نظر آتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور مولانا عبد العزیز کو اپنے باپ کا علم و عمل، اخلاق، جرأت اور سادگی میں صحیح جانشین بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter