عبد المتین اسحاق:
وہاں پر ’’ریاض سیزن‘‘ کے نام پہ بہت کچھ ہو رہا ہے۔ جب اس طرح کی تبدیلیاں آتی ہیں، جب ان کے اوپر الزام لگایا جاتا ہے یا برا بھلا کہا جاتا ہے تو ان کے جو دفاع کرنے والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ کوئی حرمین شریفین میں تھوڑا ہی ہو رہا ہے، یہ تو سعودی عرب میں ہو رہا ہے، یہ تو ریاض میں ہو رہا ہے۔ لیکن جب جدہ، ریاض یا کہیں پر کوئی اٹیک ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ حرمین شریفین پر حملہ ہے۔
مولانا زاہد الراشدی:
ہم جو نظریاتی لوگ ہیں، ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ حرمین شریفین کا مسئلہ ہے۔ جب حرمین شریفین کا مسئلہ ہوتا ہے تو ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ کان بھی بند کر لیتے ہیں، آنکھیں بھی بند کر لیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک حرمین شریفین کا تحفظ سب سے مقدم ہے۔ اس کے لیے ہم حرمین شریفین کی بات تو کرتے ہی ہیں، لیکن جب حرمین شریفین کی بات کرتے ہیں — اور وہ سعودی عرب میں ہے — تو سعودی عرب کی بات بھی کریں گے، اگرچہ ہمارے اپنے طور پر کتنے ہی تحفظات ہوں۔
اور یہ شاید آپ کے لیے (نئی بات ہو) آلِ سعود کی بات یہ حوثی کرتے ہیں، آلِ سعود کے بارے میں سب سے زیادہ میں نے لکھا ہے اور اپنے اس لکھے ہوئے پہ قائم ہوں، بیسیوں مضامین میں نے لکھے ہیں۔ وہ تقسیم جو برطانیہ نے کی تھی ایک صدی پہلے مشرقِ وسطیٰ کی، اس تقسیم میں جو جو بھی جہاں کھڑا ہے وہ میرے سامنے ہے سب کچھ، لیکن جب بات آتی ہے حرمین شریفین کی تو سارے تحفظات بالائے طاق ہو جاتے ہیں۔
ہمارے نزدیک حرمین شریفین کا تقدس، اس کی حفاظت، اس کو خطرات سے محفوظ کرنا، یہ ہمارے لیے ایمانیات کا مسئلہ بھی ہے، عقیدتوں کا مسئلہ بھی ہے، تو اس صورتحال میں جب بات آتی ہے حرمین شریفین کے حوالے سے تو پھر ہم سعودی عرب کے ساتھ ہیں، ہونا چاہیے، اور ہوں گے۔
عبد المتین اسحاق:
لیکن آپ کو یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ واقعی اس وقت سعودی عرب خطرے میں ہے؟ یہ ایک سنجیدہ …؟
مولانا زاہد الراشدی:
بالکل خطرے میں ہے، بالکل خطرے میں ہے۔ اور سعودی عرب کا خطرے میں ہونا ظاہر بات ہے کہ حرمین شریفین کا خطرے میں ہونا ہے۔ ہم حرمین شریفین کی وجہ سے سعودی عرب کو خطرے میں برداشت نہیں کر سکتے۔

