نماز تراویح پر شکوک و شبہات کیوں؟

   
۱۳ جون ۲۰۱۶ء

ایک اخباری خبر کے مطابق یمن میں حوثیوں نے اپنے زیر تسلط علاقوں میں نماز تراویح کی ادائیگی پر پابندی لگا دی ہے اور اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے بہت سے ائمہ مساجد کو اس بنا پر گرفتار کر لیا ہے کہ انہوں نے اپنی مساجد میں نماز تراویح باجماعت پڑھنے کا اہتمام کر لیا تھا۔

مساجد میں رمضان المبارک کے دوران عشاء کی نماز کے بعد باجماعت نماز تراویح کا آغاز امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا تھا جو آج تک دنیا بھر میں تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اس سے قبل تراویح فردًا فردًا پڑھی جاتی تھیں، حضرات صحابہ کرامؓ اپنے اپنے ذوق کے مطابق اکیلے اکیلے یا مختلف ٹولیوں کی صورت میں یہ نماز پڑھتے تھے۔ یہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے اجتہادی فیصلوں میں سے ہے کہ انہوں نے صحابہ کرامؓ کے مشورہ سے طے کیا کہ مسجد نبویؐ میں نماز تراویح باجماعت پڑھی جائے گی اور سب لوگ اکٹھے ایک ہی امام کے پیچھے پڑھیں گے۔ حضرت ابی بن کعبؓ اس دور میں سب سے بڑے قاری تھے جنہیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے أقرأ کا خطاب دیا تھا کہ یہ میرے ساتھیوں میں سب سے اچھا قاری ہے۔ حضرت عمرؓ نے انہی کو حکم دیا کہ وہ بیس تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائیں اور رمضان المبارک کے دوران کم از کم ایک بار قرآن کریم ضرور سنا دیں۔ یہ خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کا حکم تھا جس پر سب صحابہ کرامؓ نے اتفاق کر لیا اور ان کے اجماع و اتفاق سے اسے سنت کا درجہ حاصل ہوگیا۔

چنانچہ تب سے یہ کار خیر جاری ہے اور دنیا کے ہر حصے میں مسلمان اس سنت کی ادائیگی کا ہر سال اہتمام کرتے ہیں جس سے لاکھوں حفاظ قرآن کو کلام پاک سنانے اور کروڑوں مسلمانوں کو حالت نماز میں قرآن کریم سننے کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔ حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ سمیت دنیا بھر میں تراویح مجموعی طور پر بیس رکعت کی تعداد میں ہی پڑھی جاتی ہیں، البتہ بعض حلقوں میں بیس کی بجائے آٹھ رکعتوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ مگر تراویح باجماعت پڑھنے، پورے رمضان میں روزانہ ادا کرنے، اور اس میں قرآن کریم سنانے کا اہتمام ان کے ہاں بھی پایا جاتا ہے۔ یعنی تعداد کے اختلاف کے سوا نماز تراویح کی دیگر کیفیات میں وہ بھی جمہور امت کے ساتھ متفق ہیں اور یوں تراویح کی ادائیگی اہل السنۃ والجماعۃ کے تمام حلقوں میں متفقہ عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔

آٹھ اور بیس رکعت تراویح کے اختلاف پر ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا کہ چند سال قبل سپرنگ فیلڈ، ورجینیا (امریکہ) کے دینی مرکز دارالہدیٰ میں نماز تراویح کے آغاز پر میں بیان کر رہا تھا کہ ایک صاحب نے اچانک سوال کر دیا کہ ’’کیا آٹھ رکعت پڑھنے والوں کی تراویح ہو جاتی ہیں؟‘‘ اس قسم کے سوالات عمومی مجمع میں عام طور پر مسلکی چھیڑ چھاڑ کے لیے کیے جاتے ہیں۔ میں نے ان صاحب کو ایک سادہ سا جواب دیا کہ ’’ہاں آٹھ رکعت تراویح ہو جاتی ہیں لیکن بارہ رکعت رہ جاتی ہیں‘‘۔ اس پر وہ صاحب تو خاموشی کے ساتھ بیٹھ گئے البتہ ہمارے فاضل دوست مولانا عبد الحمید اصغر، جو اس وقت اس مرکز کے امام تھے، بہت محظوظ ہوئے۔ انہوں نے اس جواب کا بعد میں متعدد بار ذکر کیا اور کہا کہ عجیب جواب دیا ہے کہ آٹھ ہو جاتی ہیں لیکن بارہ رہ جاتی ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت! میں سوال کرنے والے کے ساتھ کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا تھا اس لیے جو معاملہ تھا وہ میں نے بتا دیا۔

یمن کے حوثیوں کو تراویح پر کیا اعتراض ہے یہ تو وہی بتائیں گے، مگر ہمارے ہاں بھی بعض دانش وروں نے یہ سوال کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت محمدؐ کے زمانے میں اس طرح تراویح نہیں ہوتی تھیں اس لیے یہ بعد میں مولویوں کی ایجاد لگتی ہے۔ یہ عجیب سی روایت بن گئی ہے کہ دین کی جس بات سے انکار کرنا مقصود ہو اسے مولویوں کی ایجاد کہہ کر پہلے تو اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ سرے سے اس کا انکار ہی کر دیا جاتا ہے۔ یہ دیکھے بغیر کہ اس کی بنیاد قرآن کریم پر ہے، سنت نبویؐ پر ہے، یا تعامل صحابہؓ پر ہے۔ بس مولوی کا لفظ اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کے کھاتے میں ڈال کر دین کی کسی بھی بات سے انکار کر دیا جائے۔

گزشتہ روز ایک نوجوان نے مجھ سے یہی سوال کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تراویح اس طرح ادا نہیں کی گئیں تو بعد میں مولویوں نے یہ کیوں شروع کر دی تھیں؟ میں نے اس سے کہا کہ بیٹا پہلے یہ معلوم کر لو کہ یہ تراویح شروع کس مولوی نے کی تھیں؟ کہنے لگا کہ یہ مجھے معلوم نہیں ہے، میں نے کہا کہ معلوم تو کر لینا چاہیے۔ اس نے کہا کہ آپ ہی بتا دیں۔ میں نے بتایا کہ حضرت عمرؓ نے حکم دیا تھا، حضرت ابی بن کعبؓ نے سب سے پہلے تراویح پڑھائی تھیں، اور ان کے پیچھے پڑھنے والے کم و بیش سبھی صحابہ کرامؓ تھے۔ اس لیے اگر ان مولویوں پر اعتماد ہے تو تم بھی پڑھ لیا کرو لیکن اگر خدانخواستہ ان پر اعتماد نہیں ہے تو پھر صرف تراویح کا معاملہ نہیں، پورے دین سے دستبرداری اختیار کرنا ہوگی کہ سارا دین انہی کے واسطے سے ہم تک پہنچا ہے۔ اور شاید بعض دانشور حضرات اپنے طرز فکر سے اسی قسم کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter