موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریاں

۲ اگست کو صبح مجھے لاہور سے نیویارک کے لیے روانہ ہونا تھا، چھ بج کر پچاس منٹ پر پی آئی اے کی فلائٹ تھی اس لیے یکم اگست کو جمعہ پڑھا کر شام ہی لاہور حاضری کا پروگرام بنا لیا۔ والد محترم مدظلہ کی خدمت میں ایک روز قبل حاضر ہو آیا تھا، مجھ سے اکثر ملکی حالات کے بارے میں پوچھا کرتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ حالات روز بروز مزید بگڑ رہے ہیں اور بظاہر صورتحال میں اصلاح کی کوئی توقع نظر نہیں آرہی، یہ سن کر آبدیدہ ہوگئے۔ میں نے سفر کے بارے میں بتایا، واپسی کا پوچھا تو عرض کیا کہ حسب معمول رمضان المبارک کے دوسرے جمعۃ المبارک تک ان شاء اللہ واپسی ہو جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۰۸ء

شادی و کفالت اور سزا و جزا کا اسلامی تصور

میری تعلیمی سندِ حدیث والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے حوالہ سے ہے جو شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد ہیں، مگر طالبات کے سامنے بخاری شریف کی روایت میں ایک اور سند کے حوالہ سے پڑھتا ہوں جس میں واسطے کم ہیں اور ایک عظیم محدثہ خاتون بھی اس سند میں شامل ہیں۔ اس سند کے مطابق مجھے مکہ مکرمہ کے ایک معروف شافعی محدث الشیخ ابوالفیض محمد یاسین الفادانیؒ سے مشافہتًا روایت حدیث کی اجازت حاصل ہے اور انہیں الشیخہ امۃ اللہ محدثہ دہلویہؒ سے روایت حدیث کی اجازت حاصل تھی جو معروف محدث شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ کی دختر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۲۰۰۸ء

چند جواہر پاروں کی مکرر اشاعت

میرے نانا جی محترم مولانا محمد اکبرؒ کا تعلق راجپوت جنجوعہ فیملی سے تھا۔ میں نے جب ہوش سنبھالا اور تو وہ موجودہ تھانہ سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ کے عقبی محلہ کی ایک مسجد میں امام و خطیب تھے اور مسجد کے مکان میں ہی ان کی رہائش تھی۔ ان کی وفات تک یہ محلہ میرے کھیل کود اور بچپن کی سرگرمیوں کی جولانگاہ رہا۔ وہ قرآن کریم معروف لہجے میں اچھی طرز سے پڑھتے تھے جو اس دور میں کمیاب تھا۔ مطالعہ کے شوق کے ساتھ ساتھ اس کا عمدہ ذوق بھی رکھتے تھے، دہلی کا ماہنامہ برہان اور لکھنؤ کے دو رسالے النجم اور الفرقان ان کے پاس پابندی سے آتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جولائی ۲۰۱۸ء

شہدائے لال مسجد اور تحفظ ختم نبوت کانفرنسیں

۶ جولائی کو ملک کی مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا جبکہ میں اسی روز کندیاں کی طرف عازم سفر تھا۔ اسلام آباد میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سانحہ فاجعہ کو ایک سال گزر جانے کے باوجود مسائل کے حل کی طرف کوئی پیشرفت نہ ہونے پر ’’لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی‘‘ نے لال مسجد میں ہی احتجاجی کنونشن رکھا ہوا تھا جس کی مشاورت میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل تھی اور میں نے مختلف مضامین میں اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جولائی ۲۰۰۸ء

خادم الحرمین الشریفین کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش

آج ۱۶ جولائی کے ایک قومی اخبار نے مکہ مکرمہ میں او آئی سی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی مسلم علماء کانفرنس اور دانشوروں کی حالیہ کانفرنس کے حوالہ سے خادم الحرمین شریفین شاہ سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان میں جلد از جلد امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت اور طالبان سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالیں اور فرمایا ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن کا قیام سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۱۸ء

لال مسجد و جامعہ حفصہ کے حل طلب معاملات

لال مسجد کے سانحہ کو ایک برس ہونے والا ہے مگر اس سے متعلقہ مسائل ابھی تک جوں کے توں ہیں اور بظاہر ان کے جلد طے ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف وحشیانہ آپریشن اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم بچیوں اور دیگر افراد کی مظلومانہ شہادت کے ذمہ داروں کی نشاندہی، جامعہ فریدیہ کی مسلسل بندش، جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر، مولانا عبد العزیز کی رہائی، اور اس سلسلہ میں درج کیے جانے والے مقدمات کے بارے میں حکومتی پالیسی جیسے اہم مسائل کے بارے میں آج بھی صورتحال وہی ہے جو اب سے گیارہ ماہ قبل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جون ۲۰۰۸ء

توہینِ رسالتؐ کے خلاف منظم جدوجہد کی ضرورت

ڈنمارک کے اخبارات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات میں ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے اور مختلف ممالک میں اس کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان میں بھی متعدد شہروں میں پرجوش مظاہرے ہوئے ہیں اور دھیرے دھیرے یہ احتجاجی مہم ملکی سطح پر منظم ہوتی نظر آرہی ہے۔ ان خاکوں کی اشاعت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ آزادیٔ اظہارِ رائے کا حق استعمال کر رہے ہیں اس لیے مسلمانوں کو اس سے غصہ میں نہیں آنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۰۸ء

ووٹ، نتائج اور نئی صورتحال

میں پیر کے دن سے کراچی میں ہوں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سہ ماہی امتحان کی تعطیلات میں تین چار روز کے لیے میں نے کراچی کا پروگرام بنا لیا تھا جہاں جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی) میں مولانا فداء الرحمان درخواستی نے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے تین روزہ تربیتی پروگرام تشکیل دے رکھا تھا جو منگل سے جاری ہے اور کل جمعرات کو صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے تک اس کی آخری نشست ہوگی، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۰۸ء

توہینِ رسالت کے خلاف بیداری کا مظاہرہ کیا جائے

ڈنمارک کے اخبارات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی بات چل رہی ہے اور اس پر عالم اسلام کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے کہ ہالینڈ کے ایک رکن پارلیمنٹ نے قرآن مجید کے حوالے سے فلم کا مسئلہ کھڑا کر کے ’’یک نہ شد دو شد‘‘ والا معاملہ کر دیا ہے۔ اور عالم اسلام کے حکمرانوں کا رویہ وہی روایتی سا ہے کہ رسمی احتجاج کر کے وہ مطمئن ہیں کہ انہوں نے قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ اپنے تعلق کا ثبوت فراہم کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۰۸ء

دینی مدارس کی جدوجہد کی تاریخ کا ایک باب

ڈاکٹر ممتاز احمد ہمارے فاضل دوست ہیں، گوجر خان سے تعلق رکھتے ہیں، ایک عرصہ سے امریکہ میں مقیم ہیں، ہیمپسٹن یونیورسٹی ورجینیا میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور جنوبی ایشیا کے دینی مدارس ان کی تحقیق و تدریس کا خصوصی موضوع ہیں۔ اس سلسلہ میں ان کی تحقیقاتی رپورٹوں سے بین الاقوامی حلقوں میں استفادہ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے راقم الحروف کے ایک بہت پرانے مضمون کی فوٹو کاپی ارسال کی ہے جو ان کی فائل میں محفوظ تھا۔ یہ مضمون ’’دینی مدارس کا جرم؟‘‘ کے عنوان سے ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں ۳۱ جنوری ۱۹۷۵ء کو شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۰۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter