کچھ دیر کیمبرج یونیورسٹی اور واٹن جیل میں
اس سال برطانیہ کے سولہ روزہ سفر کے دوران بعض تقریبات میں جانے کا اتفاق ہوا اور کچھ نئی باتیں سامنے آئیں جن کا تذکرہ قارئین کے سامنے کرنا چاہتا ہوں۔ برطانیہ میں آکسفورڈ اور کیمبرج کو تعلیمی اور ثقافتی مراکز کے طور پر عالمگیر شہرت حاصل ہے اور انہیں مغرب کے فکر و فلسفہ اور تہذیب و تمدن کے علمی سرچشمے سمجھا جاتا ہے۔ مجھے گزشتہ بیس سال کے دوران کم و بیش ہر سال برطانیہ جانے کا موقع ملا ہے اور آکسفورڈ میں کئی بار گیا ہوں مگر کیمبرج جانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ناقدین کی خدمت میں!
۶ دسمبر ۲۰۱۳ء کو جامعہ فاروقیہ کراچی کے رئیس مولانا سلیم اللہ خان زیدمجدہم کی طرف سے ملک بھر کے علماء کے نام ایک تحریر جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ ’’مولانا ابوعمار زاہد الراشدی نے ’’آزاد فورم‘‘ کے نام سے ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ میں حساس، نازک اور اہم موضوعات پر ایسی تحریریں شائع کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو نہ صرف مذہب اہل سنت، مسلک احناف اور مشرب دیوبند سے مطابقت نہیں رکھتیں بلکہ وہ سراسر اسلام کے اجماعی موقف سے بھی متصادم ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وطنِ عزیز کے خلاف قادیانی گروہ کی ریشہ دوانیاں
قادیانی گروہ کو برطانوی استعمار نے جنوبی ایشیا پر اپنے تسلط کے دوران امت مسلمہ میں فکری انتشار پیدا کرنے اور مسلم معاشرے میں استعمار کے ایجنٹ کا کردار ادا کرنے کے لیے جنم دیا اور سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا۔ چنانچہ قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے اعتراف کے مطابق برطانوی استعمار کے اس ’’خودکاشتہ پودے‘‘ نے استعمار کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ برطانوی استعمار سے جنوبی مکمل تحریر
وکلاء تحریک کی قیادت کے ساتھ ایک اتفاقیہ سفر
ان دنوں ملک بھر کے دینی مدارس میں سالانہ اجتماعات اور خاص طور پر ختم بخاری شریف کی تقریبات کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ ۲۵ جولائی کو مجھے اسی حوالہ سے خانپور ضلع رحیم یار خان کے معروف دینی مدرسہ جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا تھا، جمعہ کی نماز گوجرانوالہ میں پڑھا کر عشاء کے بعد کی نشست کے لیے خانپور پہنچنا تھا لیکن اس موقع پر رحیم یار خان یا بہاولپور کے لیے کوئی فلائیٹ نہیں تھی اس لیے میں نے لاہور سے ملتان تک کا سفر بذریعہ طیارہ اور اس سے آگے کا سفر بذریعہ ٹرین کرنے کا پروگرام بنایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’احسان شناسی‘‘ اور حسین حقانی کا شکوہ!
جناب حسین حقانی واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر محترم ہیں اور ملک کے معروف دانشوروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ انہیں شکوہ ہے کہ پاکستانی لوگ امریکہ سے شکایتیں تو بہت کرتے ہیں اور تنقید و اعتراض کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن امریکہ کے احسانات انہیں یاد نہیں رہتے اور امریکہ نے پاکستان اور اس کے عوام پر جو مہربانیاں کی ہیں ان کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ حقانی صاحب کا یہ شکوہ گزشتہ روز ایک اخبار میں نظر سے گزرا جو خدا جانے انہوں نے کس پس منظر میں کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام کی ذمہ داریاں اور جدوجہد کے دائرے
جون بدھ کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ جنڈ ضلع اٹک کے زیراہتمام جامعہ سراج العلوم میں علماء کرام کے ایک بھرپور علاقائی اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے نائب امیر اول مولانا قاری محمد رفیق عابد علوی اور عزیز ساتھی عبد القادر عثمان رفیق سفر تھے۔ اس اجتماع میں موجودہ حالات کے تناظر میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کا موقع لا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کشمیر کی تاریخ پر ایک نظر
پانچ فروری کو پاکستان میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہر سال قومی سطح پر منایا جاتا ہے، قوم کے مختلف طبقات عام جلسوں، ریلیوں، مذاکرات اور مضامین و بیانات وغیرہ کی صورت میں کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہیں اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے اس جدوجہد میں مصروف ہیں کہ بھارت اقوام متحدہ کے فورم پر ان کے ساتھ کیا گیا یہ وعدہ پورے کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن و سنت کی بالادستی اور پندرہویں آئینی ترمیم کا بل
دستور پاکستان میں پندرہویں ترمیم کا بل جسے شریعت بل کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینٹ میں جا چکا ہے اور حکومتی حلقے اس بات کا اعتماد کے ساتھ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ بل سینٹ میں بھی مطلوبہ اکثریت حاصل کر کے دستور کا حصہ بن جائے گا۔ جبکہ بعض اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت کو سینٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہے اور وہ قومی اسمبلی میں بعض ایسی جماعتوں کا ووٹ حاصل نہیں کر سکی جن سے حکومت حمایت کی توقع کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی فکر انگیز باتیں
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی ۲ جنوری کو ہماری دعوت پر ایک روز کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے اور بہت مصروف دن گزارا۔ وہ یکم جنوری کو ہی رات وزیرآباد آگئے تھے جہاں ہمارے رفیق کار پروفیسر حافظ منیر احمد ان کے میزبان تھے۔ ۲ جنوری کو صبح ناشتے پر انہوں نے وزیرآباد کے معززین کی ایک بڑی تعداد کو مدعو کر رکھا تھا جن سے ڈاکٹر صاحب نے مختلف مسائل پر گفتگو کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی خدمات کا معاوضہ
گزشتہ دنوں کسی دوست نے واٹس ایپ پر جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی کے صدر اور مدرسہ عالیہ عربیہ فتح پوری دہلی کے مہتمم مولانا محمد مسلم قاسمی کے اس فتویٰ کا ایک صفحہ بھجوایا ہے جو ائمہ مساجد اور مدارس و مکاتب کے اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں ہے اور اس پر کچھ دیگر حضرات کے دستخط بھی ہیں۔ اس کا ایک حصہ ملاحظہ فرما لیجئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 244
- 245
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »