موجودہ صورتحال میں افغان طالبان کا موقف

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو نے گزشتہ دنوں سینٹ کی خارجہ امور سے متعلقہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلہ میں نئی حکمت عملی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کا بنیادی نکتہ ان کے خیال میں یہ ہے کہ طالبان کو مذاکرات پر لانے کے لیے ہر ممکن دباؤ ڈالا جائے گا۔ اور اس سلسلہ میں ان کے بقول افغان طالبان کی صفوں میں ’’درست قیادت‘‘ کی شناخت کی ضرورت ہے جو امن مذاکرات میں شرکت کر سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جون ۲۰۱۸ء

خواتین کی نسل کشی، دورِ جاہلیت کی روش

ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی ’’آن لائن‘‘ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں خواتین کے حقوق کے حوالہ سے ایک تنظیم متحرک ہوئی ہے جس کا نام ’’جینڈرسائیڈ اویئرنیس پروجیکٹ‘‘ بتایا گیا ہے اور اس کی بانی چیئرمین بیورلی بل نامی خاتون ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں ڈیلس میں ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ میٹنگ میں کہا ہے کہ خواتین کو دنیا بھر میں نسل کشی کا سامنا ہے جس میں چین سرفہرست ہے اور اس کے بعد بھارت دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس ضمن میں پیچھے نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۱۴ء

سرحد اسمبلی کا شریعت بل، حکومتی کیمپ اور محترمہ بے نظیر بھٹو

سرحد اسمبلی میں شریعت بل پیش کیے جانے کے ساتھ بلکہ اس سے بھی پہلے اس پر ردعمل کے اظہار کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور اس میں دن بدن شدت آرہی ہے۔ ایک طرف وہ عملی اقدامات ہیں جو سرحد حکومت کو ناکام بنانے اور اسے نت نئے مسائل میں الجھانے کے لیے کیے جا رہے ہیں جن میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے تبادلوں کا فیصلہ اور ضلعی ناظموں کی طرف سے استعفوں کا اعلان سرفہرست ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۲۰۰۳ء

متحدہ مجلس عمل کی شرائط

ایل ایف او (لیگل فریم ورک آرڈر) پر حکومت اور متحدہ مجلس عمل سمیت اپوزیشن کے تنازع نے مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ان شرائط کے اعلان کے بعد ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے کہ اگر حکومت ملک میں (۱) قرآن و سنت کو سپریم لاء تسلیم کر لے (۲) اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کا اہتمام کرے (۳) جمعہ کی چھٹی بحال کر دے (۴) بلاسود بینکاری کا آغاز کرے (۵) اور تعلیمی اداروں کی نجکاری روک دے تو متحدہ مجلس عمل ایل ایف او کے بارے میں اپنے موقف میں لچک پیدا کر سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۰۳ء

’’فک کل نظام‘‘

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اب سے تین صدیاں قبل ایک بات کہہ دی تھی کہ اب آئندہ عالم اسلام میں اسلامی نظام کے احیا اور خلافت کے قیام کی بنیاد ’’فک کل نظام‘‘ پر ہوگی اور اس کے لیے ان کے افکار و فلسفہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔ ’’فک کل نظام‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کے موجودہ معاشرتی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں اصلاح و ترمیم کی گنجائش نہیں ہے اور اس ڈھانچے سے مکمل نجات حاصل کر کے نئے نقشے پر ہی ملت اسلامیہ کی نئی اسلامی زندگی کا آغاز ہو سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مئی ۲۰۰۳ء

’’مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا‘‘

بغداد ایک بار پھر ’’سقوط‘‘ کے گھاٹ اتر گیا ہے اور امریکہ اور برطانیہ کی اتحادی فوج نے عراق کے عوام کو صدام حسین کی مبینہ طور پر جابرانہ حکومت سے آزادی دلانے کے اعلان کے ساتھ بغداد پر قبضہ کر لیا ہے۔ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اعلان کیا ہے کہ ان کی فوجیں ضرورت سے زیادہ ایک دن بھی عراق میں قیام نہیں کریں گی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ’’ضرورت‘‘ کا تعین خود امریکہ اور برطانیہ کے حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۰۳ء

چوہدری شجاعت حسین سے وابستہ توقعات

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم مسلمان بھائیوں کے خون کے بدلے میں ملنے والے پیسوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے ذمہ ایک ارب ڈالر کا قرضہ معاف کر دیا ہے جس کے بارے میں بعض سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے امریکہ نے وہ وعدہ پورا کیا ہے جو اس نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی عالمی مہم میں اس کا ساتھ دینے کے حوالہ سے پاکستانی حکومت کے ساتھ کر رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۲۰۰۳ء

پھر آگیا ہوں گردش دوراں کو ٹال کر

ایشیا کے بزرگ ترین سیاستدان اور اسلامی تعاون تنظیم کے سابق سربراہ ڈاکٹر مہاتیر محمد ترانوے سال کی عمر میں ایک بار پھر انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے ملائیشیا کے وزیراعظم بن گئے ہیں اور ملکی پالیسیوں میں اپنی ترجیحات اور ایجنڈے کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ مہاتیر محمد کے سابقہ دور حکمرانی سے واقفیت رکھنے والے میرے جیسے بے شمار نظریاتی لوگوں کو ان کی دوبارہ واپسی پر بے حد خوشی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم و ۲ جون ۲۰۱۸ء

ضلع دیامر کے زلزلے اور شمالی علاقہ جات کی سیاسی و مذہبی حیثیت

اوصاف نے گیارہ مارچ کو اے پی پی کے حوالہ سے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر میں زلزلے کے نئے جھٹکوں اور ان سے درجنوں مکانات کے مسمار ہونے کی جو خبر دی ہے اس سے ماہرین ارضی کے ان خدشات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اس خطہ میں زلزلوں کا جو سلسلہ گزشتہ سال نومبر میں شروع ہوا تھا وہ ابھی ختم نہیں ہوا اور زیر زمین آتش فشاں لاوے کی مسلسل حرکت کی وجہ سے مزید زلزلوں کا خطرہ موجود ہے جو بہت زیادہ تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء

شکر ہے مسلم حکمرانوں نے بھی سکوت مرگ توڑا

خدا خدا کر کے اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم کا بھی اجلاس ہوا ہے اور قطر کے دارالحکومت میں او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں ۵۷ ملکوں کے نمائندوں نے مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے عراق پر امریکی حملے اور طاقت کے زور پر عراق کی حکومت کی تبدیلی کے پروگرام کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی ممالک عراق یا کسی بھی اسلامی ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور سلامتی پر حملے میں شرکت سے باز رہیں۔ صدام حکومت کی تبدیلی کے لیے امریکی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۲۰۰۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter