حضرت مولانا عبد المالکؒ اور حضرت حافظ سراج الدینؒ

ہفتہ گزشتہ دو بزرگ ہستیاں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا عبد المالکؒ حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ کے خلیفہ تھے۔ مرحوم شب زندہ دار صوفی منش بزرگ تھے، حضرات اکابر کی شخصیت کا آئینہ دار تھے اور آپ کے حلقۂ ارادت میں ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے ۔۔۔ حضرت حافظ سراج الدینؒ قیام پاکستان کے بعد سے ضلع میانوالی کی آبادی کلورکوٹ میں قیام پذیر تھے۔ قرآن کریم حفظ و ناظرہ کی تعلیم کے بعد قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور آخر وقت تک اس سلسلہ سے ناطہ جوڑے رکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۱۹۸۲ء

جج صاحبان کی بحالی اور عدلیہ سے قوم کی توقعات

چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے منصب پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کی عدالتی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھ معزول کیے جانے والے دیگر معزز جج صاحبان کی بحالی کے لیے وکلاء اور قوم کے دیگر مختلف طبقات نے جس مضبوطی کے ساتھ آواز اٹھائی ہے اور اس کے لیے جہد مسلسل کی ہے وہ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مارچ ۲۰۰۹ء

افغانستان، پولینڈ اور اسرائیل

افغانستان میں روسی جارحیت کی شدت میں ابھی کمی نہیں ہوئی تھی کہ مشرقی یورپ کے ملک پولینڈ میں ’’کمیونسٹ مارشل لاء‘‘ کا نفاذ اور اسرائیل کی طرف سے جولان کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کی کاروائی نے عالمی سیاست کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور پوری دنیا اس نئی کشمکش کے نتائج پر سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ افغانستان میں عالمی کمیونزم اپنے فروغ اور پولینڈ میں بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے لیکن افغانستان میں غیور افغان عوام اور پولینڈ میں آزاد مزدور تنظیم سالیڈیریٹی سوویت یونین کے ارادوں کی تکمیل میں حائل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۱۹۸۲ء

طلاق کا حق ۔ دین اسلام کیا کہتا ہے؟

اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک حالیہ سفارش ملک کے علمی حلقوں میں زیر بحث ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ خلع کو عورت کا مساوی حقِ طلاق قرار دیا جائے اور یہ قانون بنا دیا جائے کہ اگر عورت خاوند سے طلاق کا تحریری مطالبہ کرے تو خاوند ۹۰ روز کے اندر اسے طلاق دینے کا پابند ہوگا، اور اگر وہ اس دوران طلاق نہ دے تو ۹۰ روز گزر جانے پر طلاق خودبخود واقع ہو جائے گی۔ ملک کے دینی حلقے عمومی طور پر اسے قرآن و سنت کے منافی قرار دے رہے ہیں جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے بعض ارکان اور ان کے ساتھ ملک کے بعض دانشور اس کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ تا ۱۵ دسمبر ۲۰۰۸ء

’’مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک ۔۔۔ تلاشِ امن‘‘

گزشتہ ماہ کے آخری روز وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی دستور کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جانے کا پروگرام بنا رہا تھا کہ وفاق کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے فون پر کہا کہ آپ کو اسی روز ۱۱ بجے اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار میں شریک ہونا ہے اور سیمینار کی نوعیت کے حوالے سے آپ کی شرکت بے حد ضروری ہے۔ وفاق المدارس کی دستور کمیٹی کا ظہر کے بعد اجلاس طے تھا جس میں مولانا انوار الحق حقانی (اکوڑہ)، مولانا مفتی کفایت اللہ ایم پی اے (مانسہرہ) اور مولانا عطاء اللہ شہاب (گلگت) شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۲۰۰۹ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت ریگولیشن کا نفاذ۔ ایک خوش آئند اقدام

مالاکنڈ ڈویژن اور اس کے بعض دیگر ملحقہ علاقوں میں نظامِ عدل ریگولیشن کے عنوان سے شرعی عدالتوں کے قیام سے جہاں اس خطہ کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ ان کا ایک دیرینہ مطالبہ ’’بعد از خرابیٔ بسیار‘‘ ہی سہی منظور ہوگیا ہے اور پاکستان بھر کے عوام اس پر اطمینان محسوس کر رہے ہیں کہ اس علاقہ میں امن کے قیام کی امید نظر آنے لگی ہے، وہاں قومی اور بین الاقوامی سطح پر ناراضگی اور جھنجھلاہٹ کے آثار بھی بعض حلقوں میں واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ فروری ۲۰۰۹ء

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور غلط مغربی مفروضے

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد نے، جو محترم پروفیسر خورشید احمد کا ادارہ ہے، ۳۰ دسمبر ۲۰۰۸ء کو قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ اور طالبات کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کر رکھا تھا، محترمہ پروفیسر شبانہ فیاض کی نگرانی میں طلبہ اور طالبات کا ایک بھرپور گروپ شریک محفل تھا۔ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل جناب خالد رحمان اس نشست کو کنڈکٹ کر رہے تھے جبکہ مردان سے قومی اسمبلی کے سابق رکن مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمان جو رابطۃ المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء

دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بریفنگ

صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ۸ اکتوبر کو طلب کر لیا ہے جس میں حساس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان پارلیمنٹ کے ارکان کو بریفنگ دیں گے، اجلاس میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بحث کی جائے گی اور حکمتِ عملی وضع کی جائے گی۔ صدر اور وزیراعظم کا یہ اقدام موجودہ حالات میں یقیناً خوش آئند ہے، اس سے جہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کے بارے میں تفصیلات جاننے کا موقع ملے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اکتوبر ۲۰۰۸ء

یہود و نصارٰی کے ساتھ دوستی!

گزشتہ چند ماہ سے قرآن کریم کی وہ آیاتِ مبارکہ خطباتِ جمعہ کا موضوع ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘‘ کے عنوان کے ساتھ اہلِ ایمان کو بطور خاص مخاطب کیا ہے۔ ماہِ رواں کے دو جمعۃ المبارک کے خطبوں میں سورۃ المائدہ کی آیت ۵۱ و ۵۲ پر گفتگو ہوئی جن میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ ’’یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور اگر تم میں سے کسی نے ان سے دوستی کی تو اس کا شمار انہی کے ساتھ ہوگا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۰۸ء

وکلاء تحریک اور ہمارے مذہبی رہنما

لانگ مارچ میں ملک بھر سے وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکن شریک ہوئے، ان کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے، اگرچہ پنجاب کے گورنر جناب سلمان تاثیر نے اسے ’’شارٹ مارچ‘‘ سے تعبیر کر کے اور اس کا نتیجہ ’’زیرو بٹا زیرو‘‘ بتا کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سیاسی حلقے سمجھ رہے ہیں کہ وکلاء نے دستور کی بالادستی، عدلیہ کی خود مختاری اور پی سی او کے تحت معزول کیے جانے والے معزز ججوں کی بحالی کے لیے جو صبر آزما جدوجہد شروع کر رکھی ہے اس میں واضح پیش رفت نظر آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جون ۲۰۰۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter