امام بخاریؒ کا رسالہ ’’الوُحدان‘‘ اور تعلیم و تعلّم کی نبویؐ ہدایت

   
جامعہ فتحیہ، اچھرہ، لاہور
۱۵ دسمبر ۲۰۲۵ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، ان کی معروف کتاب تو ’’الجامع الصحیح‘‘ ہے جس کو ہم بخاری شریف کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں ہیں ان کی، مختلف پہلوؤں پر، ان میں سے ایک رسالہ ہے ’’الوُحدان‘‘۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ رسالہ لکھا، وہ صحابیؓ جن سے ایک ہی روایت ہے۔ ان صحابہؓ کے نام اکٹھے کیے ہیں جن سے صرف ایک روایت ہے۔ بعض سے ہزاروں ہیں، بعض سے سینکڑوں ہیں، بعض سے بیسیوں ہیں۔ جس جس کو جیسے موقع ملا۔ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسے بھی ہیں جنہیں ایک ہی دفعہ موقع ملا اور ایک ہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ وہ سارے راویوں کے نام بھی اور ان کی روایت کردہ حدیثیں بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الوُحدان‘‘ میں جمع کی ہیں۔ ان میں سے ایک کا واقعہ بیان کرتا ہوں۔ 

حضرت ابزیٰ خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یہ بھی وُحدان میں سے ہیں، زندگی میں ایک ہی روایت حضورؐ سے سنی ہے، وہی روایت بیان کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ جمعہ کے خطبے میں ایک مسئلے پر لوگوں کو ڈانٹا۔ فرمایا، ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کے اردگرد علم والے موجود ہیں اور وہ سیکھتے نہیں ہیں ان سے۔ درمیان میں لوگ موجود ہیں علم والے دین والے، اور یہ اردگرد کے لوگ ان سے سیکھنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے، ضرورت محسوس نہیں کرتے، ان کا کیا حال ہو گا۔ پھر فرمایا، ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کے پاس علم ہے، اللہ نے علم دیا ہے، اردگرد ان کے بے علم لوگ ہیں، وہ ان کو سکھاتے نہیں ہیں۔ نہ سیکھنے والے بھی، اور نہ سکھانے والے بھی، فرمایا، یہ دونوں طبقے اپنا طرز عمل درست کر لیں ’’او لیعاجلنہم بالعقوبۃ فی دار الدنیا‘‘ ورنہ میں اسی دنیا میں ان کے لیے سزا کا اعلان کروں گا۔ آخرت میں جو ہو گا، ہو گا۔ اسی دنیا میں، میں ان کے لیے سزا مقرر کروں گا۔ 

یہاں اس جملے سے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کتاب الکسب‘‘ میں لکھا ہے کہ ریاست کو جبری تعلیم کا حق بھی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا، نہ پڑھنے والے کو بھی سزا دوں گا، نہ پڑھانے والے کو بھی سزا دوں گا۔ یہاں سے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے مسئلہ نکالا، اگر لوگ پڑھتے نہیں ہیں تو ریاست کو جبری تعلیم کا بھی حق ہے۔ خیر، یہ اعلان فرما دیا کہ اپنی اصلاح کر لو ورنہ میں یہاں سزا مقرر کروں گا تمہارے لیے۔ 

اب بات بالکل اوپری سی تھی، پہلے ایسی بات کبھی نہیں فرمائی۔ لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ حضورؐ نے کوئی جنرل بات کی ہے یا کسی کو ٹارگٹ کیا ہے۔ عام، ویسے بات کہہ دی ہے، یا کسی طبقے کو ٹارگٹ کر کے کیا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ بات چلنے لگی مدینے میں کہ حضورؐ نے خاص طور پر اشعریوں کے بارے میں کہا ہے۔ یہ یمن سے آئے تھے۔ پڑھی لکھی فیملی تھی۔ قراء، فقہاء کا خاندان تھا یہ۔ مدینہ منورہ کی بستی سے باہر ایک علاقہ خرید کر انہوں نے اپنا محلہ الگ بسایا تھا۔ ان کا ماحول یہ تھا کہ یہ درمیان میں پڑھی لکھی فیملی اور آبادی ہے۔ اردگرد سارے باغبان اور کسان، وہ ماحول ہے۔ نہ اِن کا اُن سے تعلق ہے، نہ اُن کا اِن سے تعلق ہے۔ 

جب دیکھا مدینہ منورہ کے ماحول پر تو وہاں جا کر لوگوں کی نظریں ٹک گئیں کہ ماحول تو وہاں ہے۔ درمیان میں ایک محلہ پڑھے لکھے لوگوں کا ہے۔ اردگرد سارے کسان ہیں، زمیندار ہیں اور باغبان ہیں۔ نہ اُن کا اِن سے کوئی جوڑ ہے، نہ اِن کا اُن سے کوئی جوڑ ہے۔ لوگوں میں بات شروع ہو گئی، یہ اشعریوں کو کہا ہے۔ لوگ اپنا اندازہ کرتے ہیں۔

اشعریوں نے سنا تو کہنے لگے یار، لوگوں نے ہمارے کھاتے میں ڈال دی ہے ساری بات کہ یہ اردگرد پڑھاتے نہیں ہیں، سکھاتے نہیں ہیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنا چاہیے کہ کیا واقعی ہمارے بارے میں کہا ہے؟ اشعری اکٹھے ہوئے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یا رسول اللہ! تین چار دن سے یہ بات چل رہی ہے، آپ نے کوئی بات فرمائی ہے، لوگ ساری بات ہمارے کھاتے میں ڈال رہے ہیں، کیا یہ درست ہے؟ آپ نے ہمارے بارے میں کہا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے آرام سے ’’نعم‘‘ ہاں تمہارے بارے میں کہا ہے، اور وہ بات ساری ان کے سامنے پھر دہرا دی۔ یعنی پکی بات ہو گئی کہ بات حضورؐ نے کس کے بارے میں کی ہے۔ ماحول ہی اِن کا تھا، پڑھے لکھے لوگ ہیں درمیان میں اور اردگرد سارا جاہل معاشرہ ہے۔ نہ یہ اُن کو سمجھا رہے ہیں، نہ وہ سمجھ رہے ہیں۔ 

ان میں سے ایک نے سوال کیا، یا رسول اللہ! ’’انعاقب فی تقصیر غیرنا؟‘‘ پڑھتے وہ نہیں ہیں، سزا ہمیں ملے گی؟ ہم نے تو پڑھ لیا، ہم پڑھے لکھے لوگ ہیں سارے۔ وہ نہیں پڑھتے تو ہم کیا کریں؟ کوتاہی ان کی ہے اور سزا ہمیں ملے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں، تمہیں ملے گی۔ اس لیے کہ جس طرح اَن پڑھوں کی ذمہ داری ہے کہ پڑھے لکھوں کو تلاش کر کے ان سے سیکھیں، پڑھے لکھوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اردگرد جو لوگ نہیں جانتے، ان سے رابطہ کریں اور ان کو سکھائیں۔ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جن کے پاس علم نہیں ہے، ان کی ذمہ داری کیا ہے کہ اپنے ماحول میں علم والوں کو تلاش کریں اور ان سے سیکھیں۔ اور جن کے پاس علم ہے، اللہ نے دیا ہے، بہت بڑی نعمت ہے، ان کی ذمہ داری کیا ہے کہ اپنے ماحول میں دیکھیں کہ کن کو ضرورت ہے، ان کو سکھائیں۔  

اشعریوں نے کہا، یا رسول اللہ! ہم تو مغالطے میں رہے۔ ہم نے پڑھ لکھ لیا، بس ٹھیک ہے، کوئی پڑھتا ہے تو اس کی مرضی، نہیں پڑھتا تو اس کی مرضی۔ فرمایا، نہیں، یہ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مہلت مانگی، ’’امھلنا سنۃ‘‘ یا رسول اللہ، ہمیں سال کی مہلت دیں، ہم اپنی پچھلی کوتاہیوں کی تلافی کریں گے۔ فرمایا، ٹھیک ہے، ’’امھلھم سنۃ‘‘، ایک سال محنت کرو پھر دیکھوں گا۔ 

کہتے ہیں کہ اشعریوں نے پورا سال لگایا پھر۔ اردگرد کی آبادی میں لوگوں کو تلاش کر کے، کسی کو نماز سکھا رہے ہیں، کسی کو قرآن پڑھا رہے ہیں، کسی کو مسائل بتا رہے ہیں، کسی کو حلال حرام بتا رہے ہیں۔ اشعریوں نے پورا ایک سال صَرف کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رپورٹ ملی۔ جا کر پوچھا، یا رسول اللہ؟ فرمایا، اب میں تم سے خوش ہوں۔ 

تو یہ روایت ابزیٰ خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے، امام محمدؒ نے بھی نقل کی ہے، اور حضرات نے بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف اَن پڑھوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ پڑھے لکھوں سے رابطہ کریں، پڑھے لکھوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اردگرد اپنے ماحول کو محسوس کریں اور جہاں ضرورت محسوس کریں وہاں لوگوں تک دین، علم، مسائل، عقیدہ، عمل، فرائض، واجبات، حلال، حرام پہنچانے کی کوشش کریں۔ یہ مشترکہ ذمہ داری ہے، اللہ ہم سب کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

https://www.facebook.com/share/v/1BPn23aGSG

2016ء سے
Flag Counter