(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
یہ بات کہنے کی نہیں ہے، منبرِ رسول پر بیٹھا ہوں، لیکن بات سمجھنے کی غرض سے بات کرنی پڑتی ہے۔ مغرب نے اخلاقیات اور جنسی آزادی میں جو انارکی پھیلائی ہے، اکثر مغربی ممالک میں یہ قانون ہے کہ مرد اور مرد آپس میں اگر جنسی تعلقات قائم کرنا چاہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ جس لواطت پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو زمین سے اکھاڑ کر آسمان سے واپس اُلٹا پٹکا دیا تھا اور اُن پر پتھر برسائے تھے، یہ جرم ان ممالک میں قانوناً جائز ہے۔
ابھی ڈیڑھ ہفتہ قبل برطانیہ کی ایک عدالت کا فیصلہ آیا ہے کہ ایک مرد نے عدالت میں دعویٰ کر دیا کہ میرے ایک دوسرے مرد کے ساتھ تعلقات تھے، ہم آپس میں میاں بیوی کے طور پر رہتے تھے، وہ فوت ہوگیا ہے، اس لیے مجھے قانوناً بیوی کے حقوق دیے جائیں۔ یہ یورپ کی اخلاقیات کا معیار ہے۔ اس نے کہا کہ ہم دونوں میاں بیوی کے طور پر اکٹھے رہتے تھے، میرا شریکِ حیات فوت ہوگیا ہے، مجھے بیوی کے حقوق کے طور پر وراثت میں، مکان میں حصہ دیا جائے۔ اس پر ہائیکورٹ نے باقاعدہ فیصلہ دیا کہ یہ شخص واقعی فوت ہونے والے کی بیوی تھی اس لیے اسے مرنے والے کی وراثت میں سے حصہ ملے گا۔ لندن ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ جب یہ میاں بیوی کے طور پر رہتے تھے تو اس کا وراثت میں بھی حق ہے، مکان میں بھی حق ہے، اور اس شخص کو بیوی کہلانے کا بھی حق حاصل ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
کفر اور باطل ہمیشہ اپنی بات منوانے کے لیے بڑا خوبصورت عنوان اختیار کرتے ہیں۔ اب ’’انسانی حقوق‘‘ کا، ’’ہیومن رائٹس‘‘ کا عنوان اتنا اچھا ہے، لیکن اس عنوان کے پیچھے ہم سے تقاضا کیا ہے؟ اس عنوان کے پیچھے ہم سے کیا مطالبہ ہے؟ یہ میں نے صرف ایک شعبے کی بات کی ہے کہ انسانی حقوق کے نام پر ہم سے مطالبہ یہ ہے کہ
- نکاح میں مذہب کی پابندی ختم کرو، مسلمان عورت غیر مسلم مرد سے شادی کرتی ہے تو تمہیں اس پر کیا اعتراض ہے، تم کیوں اس میں رکاوٹ بنتے ہو۔
- ایک مطالبہ یہ ہے کہ طلاق کا حق میاں بیوی دونوں کو برابر دو تاکہ ان کے خاندانی نظام کا بھی وہی حشر ہو جو مغربی ممالک میں ہوا ہے، ان کا فیملی سسٹم کامیابی کے ساتھ چل کیوں رہا ہے۔
- پھر یہ مطالبہ کہ وراثت کے حصے برابر کرو، لڑکوں کے حصے بھی برابر کرو، لڑکیوں کے حصے بھی برابر کرو۔ قرآن کریم نے جو آٹھواں، چھٹا، چوتھا حصہ بیان کیا ہے، یہ انصاف کے خلاف ہے۔
باطل اپنی بات منوانے کے لیے ہمیشہ خوبصورت عنوان اختیار کرتا ہے لیکن اس کے پیچھے کفر ہوتا ہے، گمراہی ہوتی ہے، بے ایمانی ہوتی ہے، اور سادہ لوگ بڑی سادگی کے ساتھ اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

