میٹرک کے نصاب سے سورہ توبہ کا ترجمہ نکالنے کی مہم

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۸ جنوری ۲٠٠٠ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

چند دن ہوئے مجھے ایک دوست نے اسلام آباد سے فون کیا اور پوچھا کہ مولانا کیا آپ کے علم میں ہے کہ ہماری وزارتِ تعلیم میں ایک مسئلے پر غور ہو رہا ہے کہ سرکاری سکول کے نصاب میں سے سورہ توبہ کو نکال دیا جائے۔ سورہ توبہ وہ سورت ہے جو ساری کی ساری جہاد کے احکامات پر، جہاد کی تحریض پر، مسلمانوں کو جہاد کے لیے ابھارنے پر اور منافقین کی منافقت کے بیان پر ہے۔ میں نے پوچھا کیوں؟ دوست نے کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ سورہ توبہ طلباء کے لیے بہت مشکل ہے، اس پر اسلام آباد میں ایک میٹنگ ہو رہی ہے کہ سورہ توبہ کو میٹرک کے نصاب سے نکال دیا جائے، اور اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ملک سے طلباء کے خطوط آئے ہیں کہ یہ ہمارے لیے مشکل ہے۔ میں نے دوست سے کہا کہ بھئی طلباء کے لیے تو یہ مشکل نہیں ہے، ہاں البتہ ہمارے آقاؤں کے لیے ضرور مشکل ہے۔

پھر ہمارے ایک بزرگ مولانا قاضی رویس خان ایوبی کا بھی ایک مضمون اخبارات میں چھپا جس میں انہوں نے اس کی تفصیل بتائی ہے کہ یہ باقاعدہ طور پر ملک میں ایک مہم ہے کہ میٹرک کے نصاب میں جو سورہ توبہ کا ترجمہ دیا گیا ہے، یہ مشکل ہے اس لیے اس کو نکال دیا جائے۔

میں نے اس پر کہا کہ نہیں بھئی، اگر یہ ہمارے طلباء کے لیے مشکل ہوتا تو اس کا لحاظ کون کرتا ہے؟ بلکہ میں آپ حاضرین سے پوچھتا ہوں کہ میٹرک کے امتحان میں سب سے مشکل مضمون کونسا ہوتا ہے؟ (حاضرین: انگلش) اس کے بعد کونسا مضمون مشکل ہوتا ہے؟ (حاضرین: ریاضی) تو ہم یہ کیوں نہیں کرتے کہ میٹرک کے نصاب سے انگلش اور ریاضی کے مضامین کو نکال دیں۔ اگر ان طلباء کی مشکل کا خیال ہوتا تو یہ مضامین میٹرک کے نصاب میں نہ ہوتے۔ 

اصل میں تو یہ ان وڈیروں اور ان عالمی اداروں کے لیے مشکل ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کی سورہ توبہ کا ترجمہ پڑھنے والے طلباء میں جہاد کا جذبہ پیدا ہوگا، یہ بنیاد پرست بنیں گے، یہ مغرب کی زبان میں دہشت گرد بنیں گے، ان کے ذہنوں میں غزوۂ تبوک کی بات ہو گی، ان کو منافقین کے ہتھکنڈوں کا پتہ چل جائے گا، جہاد کے مسائل ان کے علم میں آئیں گے، تو یہ ان مغرب زدہ لوگوں کے لیے مشکل ہے نہ کہ ہمارے طلباء کے لیے۔ جو طلباء انگریزی کا امتحان دے لیتے ہیں، جو سائنس کا امتحان دے لیتے ہیں، جو ریاضی کا امتحان دے لیتے ہیں، سورہ توبہ کا امتحان ان کے لیے مشکل نہیں ہے۔ مشکل تو ان لوگوں کے لیے ہے جو ایک عرصے سے لگے ہوئے ہیں کہ پاکستان کے نصابِ تعلیم میں جو تھوڑا بہت مذہب ہے، اسے بھی نکال دیا جائے۔ ان بچوں کو قرآن کریم کا علم نہ ہو اور یہ بچے جہاد کے جذبے سے واقف نہ ہوں، اصل مسئلہ یہ ہے۔

اس لیے ہم اس پر احتجاج کرتے ہیں اور اسے بیرونی سازش سمجھتے ہیں، اور یہ عالمی اداروں کی نفرت کا اظہار ہے: جہاد کے خلاف، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف، اور مسلمان غیرت مند نوجوانوں کے جذبۂ جہاد کے خلاف۔

2016ء سے
Flag Counter