بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کا ذوق و معمول تھا کہ اپنے مضامین و تصانیف میں کسی بھی حوالہ سے اکابر اہلِ علم اور بزرگانِ دین میں سے کسی شخصیت کا ذکر کرتے تو ان کے سنِ وفات کا اہتمام کے ساتھ تذکرہ کرتے جس سے اس شخصیت کے دور اور اس ماحول میں ان کی خدمات کا صحیح پس منظر میں اندازہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بلکہ ان کا یہ بھی ذوق و معمول تھا کہ ان سے ملاقات کے لیے کوئی صاحب تشریف لاتے تو ان کا سنِ ولادت، خاندان اور علاقہ دریافت کر لیتے تھے۔ ہر شخص کی محنت و خدمات کو اس کے زمانہ، علاقائی صورت حال اور خاندانی پس منظر میں ہی بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور اس کا حضرت والد گرامیؒ کے ہاں اکثر اہتمام پایا جاتا تھا۔
ہمارے فاضل عزیز مولانا عبد اللہ انیس حفظہ اللہ تعالیٰ کا حضرت والد گرامیؒ کی تصانیف کے ساتھ مطالعہ و تحقیق کا خصوصی ذوق و شغل چلا آ رہا ہے جو اُن کی عقیدت و محبت اور حسنِ ذوق کی علامت ہے اور مختلف مجموعوں میں وہ اس کا اظہار کر چکے ہیں۔ ’’تذکرۃ الابرار‘‘ کے نام سے انہوں نے اس مجموعہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر اب تک کے ایک ہزار سے زائد بزرگوں کے اسماء گرامی، سنِ وفات اور امتیازی تعارف کے بارے میں حضرت والد گرامیؒ کی کتابوں اور مضامین میں سے ایک خوبصورت اور جامع تذکرہ مرتب کیا ہے جو مطالعہ و تحقیق کا ذوق رکھنے والوں کے لیے گراں قدر تحفہ ہے اور اس پر ہم ان کا شکرگزار ہونے کے ساتھ ساتھ دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ان کے لیے ذخیرۂ آخرت اور زیادہ سے زیادہ علماء و طلبہ کے لیے استفادہ کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

