(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آپ نے اخبارات میں پڑھا ہے کہ ایرانی سفارتکار آقائے صادق گنجی کے قتل کے جرم میں جھنگ کے نوجوان حق نواز کو پھانسی دے دی گئی ہے جس پر ہنگامے جاری ہیں، اس پر میں زیادہ تبصرہ نہیں کرتا۔ ایک تو آپ حضرات اس نوجوان کے لیے دعائے مغفرت کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرمائیں، اللہ تعالیٰ اسے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔
ہمارے عدالتی نظام میں ایک مقدمے کا تکمیل تک پہنچ کر اس کا فیصلہ ہو جانا ٹھیک بات ہے، اس پر میں کوئی تنقید نہیں کرتا، لیکن میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس دس سال کے عرصے میں صرف ایک ہی قاتل کو پھانسی لگنا تھا، کیا یہاں اور کوئی قتل نہیں ہوا؟ قاتل کو پھانسی ضرور لگاؤ، لیکن میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ علامہ احسان الہٰی ظہیرؒ کا قاتل کہاں ہے؟ مولانا حق نواز جھنگویؒ کا قاتل کہاں ہے؟ مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کا قاتل کہاں ہے؟ حکیم محمد سعیدؒ کا قاتل کہاں ہے؟ محمد صلاح الدینؒ کا قاتل کہاں ہے؟ مولانا یوسف لدھیانویؒ کا قاتل کہاں ہے؟ ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ کا قاتل کہاں ہے؟
اگر تو قانون پر عمل یکساں ہے تو ہمیں اس سے کوئی انکار نہیں ہے، لیکن اگر قانون سمٹ کر صرف ایک واقعہ پر لاگو ہوتا ہے، اس لیے کہ بیرونی دباؤ تھا، تو اس کو انصاف نہیں کہتے۔ انصاف وہ ہے جو سب کے ساتھ ہو اور یکساں ہو۔ اور جو انصاف سمٹ کر صرف ایک نکتے پر آ کر رہ جائے، باقی سب نظر انداز ہو جائے، اس کو کوئی انصاف پسند آدمی انصاف نہیں کہہ سکتا۔

