اسلامی تعلیمات اور ملّی روایات کے بقا کی جدوجہد

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۴ اگست ۲۰۰۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

پچھلے دنوں آپ نے دو اہم اعلانات پڑھے ہوں گے۔ ان میں سے ایک اعلان سرکاری دینی مدرسوں کا قیام ہے۔ ہمارے معاشرے میں جو دینی مدرسے آپ حضرات کے تعاون سے چلتے ہیں وہ کوئی سرکاری بجٹ قبول نہیں کرتے، یہ آپ حضرات کے صدقہ و خیرات سے، مالی معاونت ہو یا سامان کی شکل میں امداد ہو، یہ عوام الناس کی توجہ سے چلتے ہیں۔ یہ مدارس ڈیڑھ سو سال سے اس معاشرے میں اسی نظم کے تحت چل رہے ہیں، اور ان ڈیڑھ سو سالوں میں ان معاشروں میں دین اگر باقی ہے تو اسباب کی دنیا میں ان مدارس کی وجہ سے ہے۔ عالمِ اسباب میں اگر کلمہ باقی ہے، دین باقی ہے، قرآن و حدیث کی تعلیم باقی ہے، ظلم کے خلاف جہاد کا جذبہ باقی ہے، کفر کو قبول نہ کرنے کی دینی غیرت و حمیت باقی ہے تو ان دینی مدارس کی وجہ سے ہے۔ اسی وجہ سے یہ عالمی طاقتوں کو چبھتے ہیں۔ کافی عرصے سے یہ کوشش جاری ہے کہ مدارس کو امداد دی جائے، ان کو پیسے دے کر اپنے زیر اثر لایا جائے تاکہ انہیں کنٹرول کرنا آسان ہو۔ الحمد للہ یہ مدارس اس جال میں نہیں پھنسے اور انہوں نے لوگوں کے گھروں سے روٹیاں مانگ کر، اللہ کے دین کی خاطر عام مسلمانوں کے آگے ہاتھ پھیلا کر ان دینی مدارس کی خود مختاری کی حفاظت کی ہے۔

اب یہ نیا جال سامنے آیا ہے کہ عوام کی امداد سے چلنے والے ان دینی مدارس کے مقابلے میں سرکاری خرچ سے بڑے بڑے مدرسے قائم کیے جائیں جس میں اساتذہ کے لیے بڑی بڑی تنخواہیں ہوں گی، طلباء کے لیے بڑی بڑی سہولتیں ہوں گی تاکہ اعلیٰ مہارت کے حامل اساتذہ اور دینی تعلیم کے خواہشمند طلباء اچھی سہولتوں سے راغب ہو کر ان سرکاری مدرسوں میں جائیں، اور یوں دینی تعلیم کے نظام کو کنٹرول کرنا ان قوتوں کے اختیار میں آجائے گا اور جس رخ کی طرف چاہیں گے اسے موڑ لیں گے۔ لیکن میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ العزیز ان کا یہ جال بھی خالی رہ جائے گا۔ اس لیے کہ ہمارے ان مدرسوں کی بنیاد رکھنے والے بڑے اللہ والے لوگ تھے، ان کی دعائیں ان دینی مدارس کے پیچھے ہیں، انہوں نے بڑے خلوص سے اس نظام کی بنیاد رکھی تھی۔

حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے، پیچھے ہندوستان میں دیوبند کا مدرسہ بنا، جب آٹھ دس سال بعد انہیں مکہ مکرمہ میں کسی نے بتایا کہ ہم نے دیوبند میں مدرسہ بنایا ہے تو حاجی صاحب مسکرا دیے۔ کہنے لگے کہ بھئی یہاں بیت اللہ میں ساری ساری رات رگڑ رگڑ کر ہماری پیشانی گھس گئی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ وہاں مدرسہ ہم نے بنایا ہے۔ ہم ساری ساری رات یہاں مصلے پر دعائیں کرتے رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے وہاں مدرسہ بنایا ہے۔ تو ان مدارس کے پیچھے بڑے بڑے لوگوں کی دعائیں ہیں اور بڑے بڑے اللہ والوں کی رات کی عبادتیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان مدارس کو ایسے ہی نہیں بنا دیا، ان شاء اللہ العزیز پہلے بھی یہ مدارس ہر قسم کے جال سے محفوظ رہے ہیں، اب بھی ان شاء اللہ محفوظ رہیں گے۔ آپ حضرات ان مدارس کے لیے دعا بھی کریں اور ان کے ساتھ حسبِ معمول اپنا تعاون بھی جاری رکھیں۔

ہمارے ہاں جہادی تحریکات بھی بہت مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ ہم ایک بات سمجھنا چاہ رہے ہیں کہ یہی جہادی تحریکات، یہی اسلحہ، یہی تربیتی کیمپ، جب امریکہ کے مفاد میں روس کے خلاف لڑیں تو جہادی تحریکیں ہیں، لیکن یہی دفتر ہو، یہی کیمپ ہوں، یہی اسلحہ ہو، جب انڈیا کے خلاف لڑیں تو دہشت گرد ہیں۔ یہی لوگ جب روس کے خلاف لڑے تھے تو بی بی سی بھی، وائس آف جرمنی بھی، وائس آف امریکہ بھی، ایمنسٹی انٹرنیشنل سب کے سب ایک ہی آواز بول رہے تھے کہ بہت بڑا جہاد ہو رہا ہے، یہ لڑنے والے مجاہدین ہیں، فریڈم فائٹرز ہیں۔ اب وہی لوگ ہیں جن کا رخ کشمیر پر انڈیا کے ظالمانہ تسلط کے خلاف ہوگیا ہے تو اسی میڈیا نے انہیں دہشت گرد کہنا شروع کر دیا ہے کہ یہ غنڈے ہیں، بدمعاش ہیں، ان سے عالمی امن کو خطرہ ہے۔

ہمارے حکمران بھی اسی پروپیگنڈہ میں آگئے ہیں، ارے بھئی، کہیں تو لائن لگاؤ کہ امریکہ کی بات یہاں تک ماننی ہے، وہ حد مقرر کرو جس حد تک تم امریکہ کی فرمانبرداری کرو گے۔ آج یہ جہادی تحریکات اس لیے دہشت گرد قرار پا رہی ہیں کہ اب یہ امریکہ کے مفاد میں نہیں رہیں اور امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ میں حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ اپنا رویہ تبدیل کرو، انسانیت کا راستہ اختیار کرو، ان فقیروں سے نہ الجھو۔ ان سے انگریز الجھا تھا، ان سے روس الجھا تھا، نہ وہ کامیاب ہوئے تھے نہ تم کامیاب ہوگے۔

2016ء سے
Flag Counter