قادیانیوں کا دیرینہ خواب اور وارثانِ ختمِ نبوت کی جدوجہد

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۶ اپریل ۲۰۰۲ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

قادیانیوں کا فتنہ بدستور چلا آرہا ہے، یہ لوگ دنیا کے مختلف علاقوں میں ہیں، اور اتفاق کی بات دیکھیں کہ جہاں جہاں انگریز کی حکومت ہے وہاں وہاں مرزائی بڑی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ یہ لوگ اپنے دجل اور فریب کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کو قابو کرتے ہیں۔ آپ ایک بات سے اندازہ کریں کہ آج سے چند سال قبل جب وسطی ایشیا کی ریاستیں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آزاد ہوئیں، ازبکستان اور تاجکستان وغیرہ، انہوں نے وسطی ایشیا کی ریاستوں کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنا کر لٹریچر کی بھرمار کر دی، قادیانیوں نے ان کی زبانوں میں قرآن کریم کا اپنی مرضی کا ترجمہ کر کے تقسیم کروایا۔ انہیں کام کرنے کا ڈھنگ بھی سکھایا گیا ہے، ان کو وسائل بھی مہیا کیے گئے ہیں اور انہیں کام کے مواقع بھی خوب فراہم ہو رہے ہیں۔

یہ لوگ ازبکستان چلے گئے اور بخارا کے گورنر کو قابو کر کے لندن لے گئے۔ بخارا جس کے ساتھ ہماری تاریخ وابستہ ہے، جس کے ساتھ ہماری علمی یادیں وابستہ ہیں، امام بخاریؒ کا ہم روزانہ آٹھ دس مرتبہ تو نام لیتے ہیں، یا کم از کم مولوی تو ضرور لیتے ہیں۔ بخارا کے گورنر کو یہ لندن لے گئے اور اپنے جلسے کا اسے مہمان خصوصی بنایا کہ جناب ہم بھی مسلمانوں کا ایک گروہ ہیں، بہت کام کر رہے ہیں، اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔ بخارا کے گورنر نے اس پر لندن میں یہ اعلان کیا کہ جب بخارا کی مسجدیں کھلیں گی تو میں مرکزی جامع مسجد کی چابی مرزا طاہر احمد کے حوالے کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔

یاد رہے کہ روس کے زمانے میں ساٹھ ستر سال تک وہاں کی مساجد بند رہیں، جس کی الگ تفصیل ہے کہ وہاں مساجد کو سینما گھروں اور قہوہ خانوں وغیرہ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ یہ تو اللہ بھلا کرے مجلس تحفظِ ختم نبوت کے حضرات کو پتہ چلا تو پاکستان سے ایک وفد گیا، حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب، حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ اور دیگر حضرات، وہاں جا کر سمجھایا بجھایا، لیکن یہ لوگ تو قابو کر چکے تھے۔

قادیانیوں کا یہ دیرینہ خواب ہے کہ پاکستان میں کسی نہ کسی طرح اپنا اثر و رسوخ قائم کر کے اقتدار پر قبضہ کیا جائے۔ ۱۹۵۲ء میں بھی مرزا بشیر الدین محمود کا اعلان تھا کہ بلوچستان ہمارا ہے اور بلوچستان پر ہم قبضہ کریں گے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا، نہیں بھئی! باون تمہارا ہے، ترپن ہمارا ہے۔ شاہ جی بڑھاپے اور ضعف کے باوجود لنگوٹ کس کے میدان میں آگئے اور پھر قربانیاں تو ہوئیں اور قربانیوں کے بغیر اس طرح کے مسئلے حل نہیں ہوتے، لیکن الحمد للہ قادیانیوں کا پاکستان کے کسی حصے میں بھی اقتدار پر قبضہ کرنے کا خواب پورا نہیں ہو سکا۔ آپ حضرات نے پڑھا ہوگا کہ پچھلے سال مرزا طاہر احمد قادیانی نے پھر اعلان کیا کہ پاکستان میں ہمارے مطلب کی حکومت آگئی ہے اور اب پاکستان میں ہم ہوں گے۔ پورے ملک میں قادیانی پھر متحرک ہوگئے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی ہمارے حق میں ہے۔ لیکن ان شاء اللہ العزیز پاکستان کی سرزمین قادیانیوں کے لیے کبھی بھی سازگار نہیں ہوگی۔

ہمارے مولانا محمد علی جالندھریؒ قادیانیوں کے حوالے سے ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمدؒ کہتا ہے کہ حضرت عیسٰیٰؑ وفات پا گئے ہیں اس لیے اب مجھے عیسٰیٰؑ مان لو۔ حضرت جالندھریؒ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت عیسٰیٰؑ زندہ ہیں یا فوت ہو گئے ہیں، یہ الگ مسئلہ ہے، لیکن تمہیں نبوت کیسے مل گئی، تمہارا اس معاملے کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ کہتے ہیں کسی گاؤں میں ایک میراثی تھا، اس کے بیٹا ایک دن باپ سے پوچھتا ہے، ابا! اگر گاؤں کا نمبردار مر گیا تو نمبردار کون بنے گا؟ اس نے کہا کہ اس کا بیٹا بنے گا۔ بیٹے نے پوچھا، اگر وہ بھی مر گیا تو؟ باپ نے کہا، پھر نمبردار کا بھائی بنے گا۔ پھر پوچھا، اگر اس کا بھائی بھی مر گیا تو؟ میراثی نے کہا، پھر اس کا دوسرا بھائی بن جائے گا۔ بیٹے نے پوچھا، ابا! اگر دوسرا بھائی بھی مر گیا تو؟ میراثی نے کہا، بیٹا میں سمجھ گیا ہوں، لیکن بات یہ ہے کہ سارا گاؤں بھی مر جائے، تم نمبر دار نہیں بنو گے۔

مرزا طاہر احمد قادیانی نے آج کل ایک نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پچھلے سال اس نے ایک لمبی فہرست چھاپی کہ بھٹو میری بددعا سے مرا، ضیاء الحق میری بددعا سے مرا، فلاں مولوی میری بددعا سے مرا، فلاں مولوی میری بددعا سے مرا، حتیٰ کہ آپ اندازہ کریں کہ ہمارے ایک دوست تھے حافظ رمضان صاحب مرحوم، خانیوال کی ایک مسجد کے خطیب تھے، کسی نے مرزا طاہر احمد کو بتا دیا کہ وہ مولوی صاحب ٹریفک حادثے میں شہید ہوگئے ہیں، ان کا نام بھی مرزا طاہر احمد کی فہرست میں ہے کہ خانیوال کا مولوی رمضان میرے خلاف بہت تقریریں کیا کرتا تھا، میری بددعا کی وجہ سے بس کے حادثے میں مر گیا۔

اس پر لندن میں ایک جلسے پر تقریر کرتے ہوئے میں نے مولانا جالندھریؒ کا یہ لطیفہ سنایا تھا کہ مرزا طاہر احمد! پاکستان کے سارے مولوی بھی مر جائیں، تمہیں مسلمان کوئی نہیں مانے گا۔ اللہ ان مولویوں کو سلامت رکھے، یہ مرتے نہیں ہیں ان شاء اللہ العزیز۔ مولوی بڑی ڈھیٹ شے ہے، یہ بڑی پکی ہڈی ہے، ۱۸۵۷ء سے لے کر اب تک جو مولوی کے ساتھ بیتی ہے، اگر کسی اور طبقے کے ساتھ بیتتی تو اس طبقے کا بیج بھی ختم ہو چکا ہوتا۔ صدر ایوب خان نے تو لکھا کہ عجیب بات ہے میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ مولوی کتنی ڈھیٹ مٹی ہے کہ ۱۹۴۷ء میں اس کو سیاسی میدان میں خوفناک شکست ہوئی، لیکن ۱۹۵۳ء میں یہ پھر ہمارے سامنے سینہ تانے کھڑا تھا۔

آج بھی ان شاء اللہ گبھرانے کی بات نہیں ہے، یہ درمیان میں مراحل آتے ہیں، لیکن مولوی کسی سے مرتا نہیں ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اور یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حق کی بات کرنے والے قیامت تک رہیں گے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں مٹا نہیں سکے گی۔ مولوی جب تک حق کی بات کہتا رہے گا، لاکھوں کی تعداد میں بھی قتل ہو جائے، ان شاء اللہ العزیز قائم رہے گا۔

2016ء سے
Flag Counter