سودی نظام کی دو حمایتی دلیلوں کا جائزہ

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۷ جون ۲۰۰۲ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

پاکستان میں پچاس سال سے ایک کشمکش چل رہی ہے کہ یہاں سے سود کا نظام ختم ہو۔ اس کے لیے عدالتِ عظمیٰ تک گئے اور سپریم کورٹ کے فل بنچ نے فیصلہ کر دیا کہ سود قرآن کریم کے منافی ہے، ملک کے دستور کے منافی ہے، اس لیے اس کو ختم ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے اب ۳۰ جون ۲۰۰۲ء کو آخری تاریخ قرار دیا ہے اور حکومت کو الٹی میٹم دے رکھا ہے کہ اس تاریخ تک سودی قوانین ختم کرو، ورنہ ۳۰ جون کو یہ خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ اب جناب حکومت کو مصیبت پڑی ہوئی ہے کہ اب کیا ہوگا۔ اس پر دو دلیلیں بڑی دی جاتی ہیں، ان دلیلوں کا اس وقت میں تھوڑا سا جائزہ لینا چاہتا ہوں۔

(۱) ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ مولوی صاحب اگر سودی قوانین ختم کر دیے تو پورا نظام ہی بدل جائے گا، یہ تو سارا ڈھانچہ ہی بدل جائے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بھائی صاحب! ہم نے ڈھانچہ ہی تو بدلنا ہے۔ کیا انگریزوں کے زمانے سے چلا آنے والا یہ ڈھانچہ قائم رہنا چاہیے جس نے ہمارے ملک کو پہلے دن سے ہی غیر ملکی اثر و رسوخ میں جکڑ رکھا ہے؟ اگر نظام وہی رہنا ہے تو اس نظام کو چلانے کے لیے انگریز تم سے کہیں بہتر تھے، تمہاری کیا ضرورت ہے، اس نظام کو چلانے کے لیے تم نا اہل ہو۔ ہم نے پاکستان کے نام سے الگ ملک کیوں بنا یا تھا؟ کیا انگریزوں کے نظام کو باقی رکھنے کے لیے؟ ہمارا پاکستان بنانے کا مقصد کیا تھا؟ ہزاروں عزتیں کیوں لٹوائی تھیں؟ لاکھوں بچے کیوں شہید کروائے تھے؟ یہ بٹوارہ کیوں کیا تھا؟ آبادی کا انتقال کیوں کیا تھا؟ پھر یہ ساری تباہی کیوں گوارا کی تھی اگر تم نے نظام اور ڈھانچہ وہی باقی رکھنا تھا۔ یہ پاکستان کے نام پر سارا ڈرامہ تم نے کس لیا رچایا تھا اگر نظام وہی رہنا تھا۔

ارے بھئی نظام ہی تو بدلنا ہے۔ اور جب تک ڈھانچہ نہیں بدلے گا پاکستان کی حالت ٹھیک نہیں ہوگی۔ یہ بات میں صرف اپنی طرف سے ہی نہیں کہہ رہا بلکہ اس کے لیے میں حوالہ دوں گا کہ خود بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے یہ کہا تھا۔ جب پاکستان کا پہلا بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ۱۹۴۸ء میں قائم ہوا، کراچی میں اس کی افتتاحی تقریب میں قائد اعظم نے تقریر کی جو کہ ریکارڈ پر ہے۔ قائد اعظم نے دو باتیں واضح طور پر کہیں: ایک بات یہ کہی کہ آپ پاکستان کے لیے نیا معاشی ڈھانچہ تشکیل دیں، میں اپنے معاشی ماہرین سے کہتا ہوں کہ ایک نئے معاشی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے کام کریں۔ دوسری بات بالکل صراحت کے ساتھ کہی کہ نیا ڈھانچہ ہم نے مغرب کے معاشی فلسفے پر نہیں بنانا بلکہ اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر بنانا ہے۔

اس لیے پاکستان بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ ملک کا ڈھانچہ تبدیل ہو۔ چنانچہ یہ جو کہہ رہے ہیں کہ مولوی صاحب سارا نظام ہی تبدیل ہو جائے گا، اگر یہ بات پاکستان کے مقصد سے بے خبری میں کہہ رہے ہیں تو ان کی اس سے بڑی نا اہلی کیا ہوگی؟ اور اگر جانتے بوجھتے ہوئے کہہ رہے ہیں تو قوم کے ساتھ دھوکہ اور فراڈ کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ ڈھانچہ تبدیل کرنا ہوگا، اس کے بغیر نہ پاکستان کا مقصد پورا ہوگا اور نہ ہمارا مسلمان ہونے کا مقصد پورا ہوگا اور نہ ملکی معاملات کی اصلاح ہوگی۔

(۲) دوسری بات یہ کہ کل اپیل کرنے والے وکیل نے سپریم کورٹ میں یہ دلیل دی ہے جی کہ قرآن کریم نے جو سود منع کیا ہے، وہ والا سود ہے جو غریبوں سے لیا جاتا تھا۔ غریب اپنی ضرورت کے لیے رقم لیتے تھے کہ وہ مجبور ہوتے تھے، لیکن امیروں سے سود لینے سے منع نہیں کیا گیا، صرف غریبوں سے سود لینے سے منع کیا گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس پر جسٹس قاضی محمد فاروق نے بجا سوال کیا کہ کیا امیروں کی شریعت الگ ہے اور غریبوں کی شریعت الگ ہے؟

آج سود کے جواز کے لیے جو بحث کی جاتی ہے اس کی ساری عمارت اس نکتہ پر کھڑی ہے کہ جناب شخصی سود کو حرام قرار دیا گیا ہے تجارتی سود کو نہیں۔ یعنی ایک ضرورت مند آدمی اپنی ضرورت کے لیے قرضہ لیتا ہے تو اس سے سود وصول نہ کرو، اس سے سود وصول کرنا اس کی ضرورت کا ناجائز فائدہ اٹھانا ہے، لیکن جناب نبی کریمؐ نے تجارت کے سود کا ذکر نہیں فرمایا۔ میں اس پر دو باتیں کہنا چاہوں گا:

پہلی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد ’’الا ان کل ربا من ربا الجاہلیۃ موضوع‘‘ کہ جاہلیت میں سود کی جتنی قسمیں بھی تھیں، سب حرام ہیں۔ کیا ساری صورتوں میں تجارتی بھی آتی ہے یا نہیں؟

دوسرا میں اس سلسلہ میں دو واقعات عرض کرنا چاہتا ہوں:

  • بخاری شریف کی روایت ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے حضرت بلالؓ، اور یہ حضورؐ کی مہمانداری کے انچارج بھی تھے۔ حضرت بلالؓ حضورؐ کے گھر کے اخراجات کے نگران ہوتے تھے، گھر کے سامان کی خریداری، قرض کا لین دین، مہمانوں کا اکرام وغیرہ، یہ حضرت بلالؓ کرتے تھے۔ ایک دن حضرت بلالؓ برنی کھجوریں لے آئے جو کہ سب سے عمدہ کھجوریں ہوتی تھیں۔ پوچھا، بلالؓ یہ کھجوریں کہاں سے آئی ہیں؟ بتایا، یا رسول اللہ! میرے پاس دو صاع عام قسم کی کھجوریں تھیں، ان کے عوض میں ایک صاع اعلیٰ قسم کی کھجوریں لے کر آیا ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا ’’عین الربا، عین الربا‘‘ یہی تو سود ہے، یہی تو سود ہے۔ حضرت بلالؓ نے پوچھا، یا رسول اللہ! ہم نے اگر عمدہ کھجوریں لینی ہوں تو کیا کریں؟ فرمایا، عام کھجوریں پیسوں کے عوض بیچو، اور پھر ان پیسوں سے یہ اچھی کھجوریں خریدو۔ اب اس معاملے میں سود کی کونسی قسم ہے؟ یہ تجارتی سود ہی ہے جس کے متعلق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ یہی تو سود ہے۔
  • دوسرا واقعہ یہ ہے کہ خیبر کی فتح کے بعد اس سے اگلے سال جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نمائندہ بھیجا۔ حضورؐ نے یہودیوں کو حصے پر زمین دے دی تھی کہ تم اس پر کاشت کرو جس میں سے ہمارا حصہ اتنا ہوگا۔ تو بیت المال کا حصہ وصول کرنے کے لیے حضورؐ کا نمائندہ وہاں گیا، جب وصول کر کے لائے تو ساری کی ساری کھجوریں عمدہ اور اعلیٰ قسم کی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ کر حیران ہوئے اور پوچھا، کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟ یعنی اگر ایک علاقے کی پیداوار ہے تو کوئی کھجور اچھی ہوگی، کوئی درمیانی ہوگی، کوئی ردی قسم کی ہوگی۔ پوچھا کہ ’’اکل تمر خیبر ھکذا؟‘‘ کیا خیبر کی ساری کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ نمائندے نے کہا، نہیں یا رسول اللہ! ہر قسم کی کھجوریں مجھے موصول ہوئی تھیں لیکن میں نے ردی اور درمیانی قسم کی کھجوریں زیادہ دے کر عمدہ کھجوریں تھوڑی لے لی ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا، تم نے یہ سود کا معاملہ کیا ہے۔ انہیں بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ جب تم نے اس قسم کا معاملہ کرنا ہو تو ردی قسم کی کھجوریں نقد پیسوں پر بیچو اور پھر ان نقد پیسوں سے اچھی قسم کی کھجوریں خرید لو۔ جنس کا تبادلہ دوسری جنس کے ساتھ کرو گے تو کمی بیشی سود ہوگی، حرام ہوگی۔ درمیان میں کوئی تیسری جنس یعنی پیسہ لے آؤ گے تو پھر یہ تجارت شمار ہوگی۔

میں نے جو دو واقعات عرض کیے ہیں، کیا یہ شخصی سود کے معاملات ہیں؟ یہ قوم کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ اصل بات وہی ہے کہ ہمارے آقا ہمیں نظام تبدیل نہیں کرنے دینا چاہتے، اور ہم اس سودی ڈھانچے سے چھٹکارا نہیں حاصل کرنا چاہتے۔ جن کے مفادات، جن کی عیاشیاں، جن کے اللّے تللّے، جن کی بد معاشیاں اس سسٹم کے ساتھ وابستہ ہیں وہ اس سسٹم کو تبدیل نہیں ہونے دے رہے۔ لیکن یہ نظام بہرحال تبدیل ہوگا ان شاء اللہ العزیز۔ اور پاکستان اس وقت ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان بنے گا جب یہ سسٹم تبدیل ہوگا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام نافذ ہوں گے۔ اللہ رب العزت نے سود کے کاروبار پر اصرار کو کس انداز سے فرمایا:

یا ایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربٰوا ان کنتم مؤمنین۔ فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ (البقرۃ ۲۷۸، ۲۷۹)
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ باقی سود رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔ اگر تم نے نہ چھوڑا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔‘‘

اس لیے ہم اس صورتحال میں اپنے حکمرانوں سے بھی اور جج صاحبان سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ بھئی خدا اور رسول سے نہ لڑو، آج ہم جس ذلت اور جس بے بسی اور لاچارگی کے مقام پر پہنچ چکے ہیں، یہ خدا اور رسول سے لڑائی کے نتیجے میں ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے سامنے سرنڈر ہوگے تو مشکلات حل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہمارے حکمرانوں کو ہدایت نصیب فرمائے۔

2016ء سے
Flag Counter