صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا نفاذ شریعت آرڈیننس

ہم ان سطور میں اس سے قبل بھی عرض کر چکے ہیں کہ ہمارے لیے اس سے زیادہ مسرت کی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ پاکستان میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ اور بالادستی کے لیے ایسی مؤثر پیش رفت ہو جس سے ملک کے قانونی، عدالتی اور معاشی نظام میں کوئی عملی تبدیلی بھی نظر آئے۔ بدقسمتی سے گزشتہ گیارہ سال سے اس ضمن میں ہونے والے اسلامی اقدامات اس معیار پر پورے نہیں اترتے اور انہی تجربات کے باعث ملک کے سنجیدہ حلقے اس نئے او ربظاہر بہت اہم اقدام کے ساتھ بھی اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں پا رہے ۔ ۔ ۔

جون ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۵

ایم آر ڈی کے بیس نکات اور مولانا فضل الرحمان

روزنامہ جنگ لاہور ۹ جون ۱۹۸۸ء میں صفحۂ اول پر شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ایم آر ڈی (موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی) کے راہنما مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم آر ڈی کے کنوینر مسٹر معراج محمد خان نے ایم آر ڈی کے پروگرام پر مشتمل جن ۲۰ نکات کا اعلان کیا ہے ان کے ساتھ ایک ۲۱ واں نکتہ بھی طے پایا تھا جو ان نکات سے حذف کر دیا گیا ہے اور وہ نکتہ اسلامی نظام کے بارے میں تھا ۔ ۔ ۔

جون ۱۹۸۸ء

اقبالؒ کے نام پر فتنہ خیزی

ماہِ رواں کی اکیس تاریخ کو علامہ محمد اقبال مرحوم کی پچاسویں برسی منائی گئی اور حسب معمول مختلف مقامات پر اجتماعات منعقد ہوئے۔ اس موقع پر لاہور کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد اقبالؒ کے فرزند اور سپریم کورٹ کے جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے حسب سابق اپنے اس موقف کو علامہ اقبالؒ کے حوالہ سے دہرایا کہ نئے دور کے تقاضوں کے مطابق پورے دین کی نئی تعبیر و تشریح ضروری ہے اور یہ کام اجتہاد کے نام پر پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے ۔ ۔ ۔

۶ مئی ۱۹۸۸ء

کمیونزم نہیں اسلام

کمیونزم ایک انتہا پسندانہ اور منتقمانہ نظام کا نام ہے جو سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مظالم کے ردعمل کے طور پر ظاہر ہوا ہے۔ محنت کشوں اور چھوٹے طبقوں کی مظلومیت اور بے بسی کو ابھارتے ہوئے اس نظام نے منتقمانہ جذبات اور افکار کو منظم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہ کھیل اسلامی ممالک اور پاکستان میں بھی کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام اپنی تمام تر خرابیوں اور مظالم کے ساتھ آج بھی نافذ ہے اور اس ظالمانہ نظام نے انسانی معاشرت کو طبقات میں تقسیم کر کے انسان پر انسان کی خدائی اور بالادستی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔

مئی ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۱۹ و ۲۰

جنیوا معاہدہ / کویت پر ایران کا حملہ

وزیراعظم جناب محمد خان جونیجو نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنیوا معاہدہ پر اپنی حکومت کے موقف کی وضاحت کی ہے اور کہا ہے کہ ’’جنیوا معاہدہ نہ تو بہترین ہے اور نہ ہی جامع۔ تاہم موجودہ حالات کے تحت اس سے بہتر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تھا۔‘‘ اسی موقع پر وزیر مملکت برائے امور خارجہ مسٹر زین نورانی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا کی کوئی طاقت نئی افغان حکومت میں مجاہدین اور ان کے رفقاء کی بھرپور شرکت کو نہیں روک سکے گی۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۲۱ اپریل ۱۹۸۸ء) ۔ ۔ ۔

۲۹ اپریل ۱۹۸۸ء

اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا سانحہ

۱۰ اپریل کو راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کے اسلحہ کے ڈپو میں آگ لگنے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس سے پورا ملک نہ صرف سوگوار ہے بلکہ رنج و الم اور اضطراب کی ٹیسیں رہ رہ کر اسلامیانِ پاکستان کے دلوں میں اٹھ رہی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔

۲۲ اپریل ۱۹۸۸ء

خوست کے محاذ پر روسی افواج کی مزاحمت ۔ دورۂ افغانستان کی روداد

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ایک وفد کے ہمراہ راقم الحروف کو مارچ ۱۹۸۸ء کے تیسرے ہفتہ کے دوران افغانستان کے محاذ جنگ پر جانے کا موقع ملا۔ وفد میں جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے سیکرٹری جنرل مولانا حمید اللہ جان، صوبائی سالار قاری حضرت گل شاکر، گوجرانوالہ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام محمد، ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا عبد الرؤف فاروقی، ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے مدیر سید احمد حسین زید، جامعہ حنفیہ قاسمیہ نارووال کے خطیب مولانا محمد یحییٰ محسن، مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما چوہدری غلام نبی اور ضلع گجرات سے میرے ایک عزیز عبد الرشید شامل تھے ۔ ۔ ۔

۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء

مسلم ممالک اور سودی نظام

صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے کراچی میں مؤتمر عالم اسلامی کی نویں بین الاقوامی جنرل اسمبلی کا افتتاح کرتے ہوئے عالم اسلام کے مسائل اور مشکلات کا ذکر کیا ہے اور اپنے خطاب کے دوران اس تلخ حقیقت کا بھی اظہار کیا ہے کہ ’’یہ حقیقت ہے کہ جہاں اسلامی ممالک بھی قرضوں پر سود لیتے ہیں وہاں چین پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں پر کوئی سود نہیں لیتا۔‘‘ (روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۳۱ مارچ ۱۹۸۸ء) ۔ ۔ ۔

۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء

جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان علماء کرام، دینی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ان مسلمانوں کی ملک گیر تنظیم ہے جو وطن عزیز میں قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی روشنی و راہنمائی میں مکمل اسلامی نظام نافذ کرنے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ جمعیۃ کا تعلق علماء حق کے اس عظیم گروہ سے ہے جس نے برصغیر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش پر برٹش استعمار کے تسلط کے بعد آزادی کی دو سو سالہ جنگ کی قیادت کی اور قربانی و ایثار کی تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کرتے ہوئے بالآخر برطانوی سامراج کو اس خطہ سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا ۔ ۔ ۔

۴ مارچ ۱۹۸۸ء

اسلام کی تشریح اور پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں جو آئینی پٹیشن دائر کر رکھی ہے اس پر سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی فل بینچ نے گیارہ روز بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ رٹ پٹیشن کے دوران بے نظیر بھٹو کے وکیل اور پیپلز پارٹی کے راہنما جناب یحییٰ بختیار نے دیگر متعلقہ امور کے علاوہ نظریۂ پاکستان کے حوالہ سے اسلام کی تعبیر و تشریح کے بارے میں اپنی پارٹی کا نقطۂ نظر بھی عدالت کے سامنے پیش کیا ہے جو بلاشبہ اس اہم اور نازک مسئلہ پر پیپلز پارٹی کے باضابطہ اور ذمہ دارانہ موقف کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ فروری ۱۹۸۸ء

Pages

نوٹ:   درجہ بندی کی غرض سے بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی/پروف ریڈنگ مولانا راشدی نے کی ہے۔