خوارج اور ان کا طرز استدلال

امت مسلمہ میں جس گروہ نے سب سے پہلے سنت نبویؐ اور تعامل صحابہؓ کو نظر انداز کر کے قرآن کریم کو براہ راست سمجھنے اور اپنے فہم و استدلال کی بنیاد پر قرآن کریم کے احکام و قوانین کے تعین کا راستہ اختیار کیا وہ ’’خوارج‘‘ کا گروہ ہے۔ خوارج کے بارے میں خود جناب نبی اکرمؐ کی پیشگوئی موجود ہے کہ میری امت میں ایک گروہ ایسا آئے گا جو قرآن کریم کی بہت زیادہ تلاوت کرے گا، اس کی نمازیں اور روزے بھی عام مسلمانوں کو تعجب میں ڈالنے والی ہوں گی، لیکن قرآن کریم ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ قرآن کریم کے نام پر لوگوں کو گمراہ کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خوارج اور ان کا طرز استدلال

۱۷ تا ۲۱ اپریل ۲۰۰۱ء

خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس کے اہم پہلو

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیراہتمام تین روزہ ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ پشاور میں ’’مجلس تنسیق الاسلامی‘‘ کے قیام کے اعلان اور امارت اسلامی افغانستان کے خلاف عائد پابندیاں ختم کرنے کے مطالبہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ اس کانفرنس میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمان کی قیادت میں اساتذہ دارالعلوم کا ایک بھرپور وفد شریک ہوا، جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا اسعد مدنی نے شرکت کی اور ان کے علاوہ مختلف ممالک کے سینکڑوں مندوبین کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس کے اہم پہلو

۱۶ اپریل ۲۰۰۱ء

امام ولی اللہ دہلویؒ کے خواب کی عملی تعبیر!

خواب کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو قرار دیا ہے۔ اور بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ نبوت کے اجزاء یعنی وحی کی اقسام میں سے صرف ایک قسم باقی رہ گئی ہے جو اچھے خواب کی صورت میں ہے، اور جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ بسا اوقات اپنے نیک بندوں کو آنے والے حالات و واقعات کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ مگر شرعی مسئلہ یہ ہے کہ حجت اور دلیل صرف پیغمبر کا خواب ہے، یا وہ خواب جو کسی مومن نے دیکھا اور رسول اللہؐ نے سن کر اس کی توثیق فرما دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امام ولی اللہ دہلویؒ کے خواب کی عملی تعبیر!

۱۱ اپریل ۲۰۰۱ء

علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ سے مولانا مفتی محمودؒ تک

جمعیۃ علماء اسلام کا قیام سب سے پہلے 1945ء میں اس وقت عمل میں آیا جب متحدہ ہندوستان میں علماء کی سب سے بڑی تنظیم جمعیۃ العلماء ہند نے تحریک آزادی میں تقسیم وطن اور قیام پاکستان کے سوال پر مسلم لیگ کی بجائے انڈین نیشنل کانگریس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، اور قیام پاکستان کو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے غیر مفید قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کا اعلان کیا۔ اس فیصلہ سے اختلاف رکھنے والے علماء نے، جن میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ سر فہرست تھے، جمعیۃ علماء ہند سے علیحدگی اختیار کر لی اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ سے مولانا مفتی محمودؒ تک

۱۰ اپریل ۲۰۰۱ء

دارالعلوم دیوبند اور جنوبی ایشیا کا مسلم معاشرہ

دارالعلوم دیوبند کے قیام کی بنیادی غرض اس تعلیمی خلاء کو پر کرنا تھا جو درس نظامی کے ہزاروں مدارس کی یکلخت بندش سے پیدا ہوگیا تھا۔ اور یہ شدید خطرہ نظر آنے لگا تھا کہ عوام کی ضرورت کے مطابق حافظ، قاری، امام، خطیب، مفتی اور مدرس فراہم نہ ہونے کی صورت میں جنوبی ایشیا کی لاکھوں مساجد ویران ہو جائیں گی۔ اور اس کے نتیجے میں نئی نسل تک قرآن و سنت کی تعلیم پہنچانے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہے گا اور اسلامی تہذب و ثقافت کے آثار اس خطہ سے کچھ عرصہ میں ہی ختم ہو کر رہ جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دارالعلوم دیوبند اور جنوبی ایشیا کا مسلم معاشرہ

۹ اپریل ۲۰۰۱ء

خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس: مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق کا اظہارِ یکجہتی

مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق نے قومی مسائل پر یکجہتی کا اظہار کر کے ملک بھر کے دینی کارکنوں کے لیے مزید اطمینان کا سامان فراہم کر دیا ہے اور اس سے ۹، ۱۰، ۱۱ اپریل کو پشاور میں منعقد ہونے والی ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ کے لیے دیوبندی جماعتوں اور کارکنوں کے جوش و خروش میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ عرصہ قبل جمعیۃ علماء پاکستان کے نورانی اور نیازی گروپوں میں اتحاد کا اعلان ہوا اور مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبد الستار خان نیازی متحدہ جمعیۃ کے پلیٹ فارم پر پھر سے یکجا ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس: مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق کا اظہارِ یکجہتی

۷ اپریل ۲۰۰۱ء

غامدی صاحب سے مباحثہ ۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ

ایک صاحب علم دوست نے سوال کیا کہ علمی تفردات میں مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کے تفردات علماء کے حلقہ میں اس شدت کے ساتھ موضوع بحث نہیں بنے جس شدت کے ساتھ مولانا مودودیؒ کے افکار کو نشانہ بنایا گیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا سندھیؒ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کے علمی تفردات پر ان کے شاگردوں اور معتقدین نے دفاع اور ہر حال میں انہیں صحیح ثابت کرنے کی وہ روش اختیار نہیں کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غامدی صاحب سے مباحثہ ۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ

۵ اپریل ۲۰۰۱ء

مولانا عبد الغنیؒ

مولانا عبد الغنیؒ دار العلوم دیوبند کے فضلاءمیں سے تھے، آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں بیس بگلہ کے ساتھ ’’جھڑ‘‘ نامی جگہ کے رہنے والے تھے جسے اب غنی آباد کا نام دے دیا گیا ہے۔ وہ تحریک آزادی کشمیر کے سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے، ۱۹۴۷ء میں انہوں نے ڈوگرہ شاہی سے آزادی کے لیے نہ صرف خود عملاً جہاد میں حصہ لیا بلکہ علاقہ کے سینکڑوں لوگوں کو اس کے لیے تیار کیا، ان کی عسکری ٹریننگ کا اہتمام کیا اور میدان جہاد میں ان کے شانہ بشانہ شریک جنگ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الغنیؒ

۴ اپریل ۲۰۰۱ء

علماء کشمیر اور دارالعلوم دیوبند: پروفیسر محمد یعقوب شاہق کی ’’فیض الغنی‘‘

گزشتہ اتوار کو جماعت اسلامی کے دفتر واقع لٹن روڈ لاہور کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ تقریب آزاد کشمیر کے مجاہد عالم دین حضرت مولانا عبد الغنی مرحوم کے سوانحی حالات اور علماء کشمیر کی جدوجہد پر پروفیسر محمد یعقوب شاہق صاحب کی ضخیم تصنیف ’’فیض الغنی‘‘ کی رونمائی کے لیے ادارہ ’’بازگشت‘‘ نے منعقد کی تھی۔ پروفیسر نصیر الدین ہمایوں اس تقریب کے صدر تھے جبکہ مجھے بطور مہمان مقرر اظہار خیال کی دعوت دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کشمیر اور دارالعلوم دیوبند: پروفیسر محمد یعقوب شاہق کی ’’فیض الغنی‘‘

۴ اپریل ۲۰۰۱ء

دینی مدارس کا نصاب تعلیم

دینی مدارس میں مروج نصاب تعلیم کو درس نظامی کا نصاب کہا جاتا ہے جو ملا نظام الدین سہالویؒ سے منسوب ہے۔ ملا نظام الدین سہالویؒ المتوفی (۱۱۶۱ھ)حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاصرین میں تھے۔ ان کا قدیمی تعلق ہرات (افغانستان)کے معروف بزرگ حضرت شیخ عبد اللہ انصاریؒ سے تھا۔ اس خاندان کے شیخ نظام الدینؒ نامی بزرگ نے یوپی کے قصبہ سہالی میں کسی دور میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا تھا اور پھر ان کے خاندان میں یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا نصاب تعلیم

اپریل ۲۰۰۱ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔