khutba-hajjatul-wadaislam-a-nizam-e-khilafatkhilafat-e-usmaniaunokashmirallama-iqbal-ka-pakistansoodi-nizamkhawateendeeni-madaristauheen-e-risalat ruyat-e-hilal-eid-ka-chandjaved-ahmad-ghamidiraja-muhammad-anwarafghan-pakistani-talibanjihad9-11

جداگانہ طریقِ انتخاب اور الیکشن کمیشن آف پاکستان

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ دنوں حکومت سے سفارش کی ہے کہ ملک میں جداگانہ طرز انتخاب ختم کر کے مخلوط طریق انتخاب رائج کیا جائے اور اس کے لیے قانون میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ الیکشن کمیشن نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ جداگانہ طرز انتخاب کے تحت غیر مسلموں کے ووٹوں کا الگ اندراج کرنا پڑتا ہے، ان کے ووٹوں کی الگ گنتی کرنا پڑتی ہے اور ان کے امیدواروں کے الگ نتائج مرتب کرنا پڑتے ہیں جو بہت مشکل کام ہے اس لیے الیکشن کمیشن کو کام کی اس مشکل اور الجھن سے نکالنے کے لیے جداگانہ طرز انتخاب کو ہی سرے سے ختم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جداگانہ طریقِ انتخاب اور الیکشن کمیشن آف پاکستان

۱۷ مارچ ۲۰۰۰ء

دستور کی اسلامی دفعات اور ڈاکٹر محمود احمد غازی کی وضاحت

وزارت قانون کے ترجمان کی مذکورہ وضاحت کے اس جملہ کو دوبارہ دیکھ لیں کہ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعات معطل ہونے کے باوجود پاکستان کو ہر ممکن طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہی چلایا جائے گا۔‘‘ اس جملہ میں ہمیں دو باتیں کھٹک رہی ہیں: ایک بات دستور معطل ہونے یا دستور کی دفعات معطل ہونے میں اٹکی ہوئی ہے۔ اگر دستور معطل ہوا ہے تو اس کی اسلامی دفعات کیسے باقی ہیں اور اگر دستور کی دفعات معطل ہوئی ہیں تو معطل ہونے والی اور بحال رہنے والی دستوری دفعات کی تفصیل کہاں ہے؟ دوسری بات ’’ہر ممکن طور پر’’ کا جملہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور کی اسلامی دفعات اور ڈاکٹر محمود احمد غازی کی وضاحت

۱۲ مارچ ۲۰۰۰ء

محراب و منبر کے وارث محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے؟

محترم راجہ انور صاحب کو شکایت ہے کہ محراب و منبر کے وارث محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے؟ ان کی بڑی تعداد محنت مزدوری یا نوکری اور تجارت سے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتی؟ ان میں سے اکثر چندے اور قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی بجائے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر یا وزن اٹھا کر اپنی روزی کیوں نہیں کماتے؟ یہ شکایت نئی نہیں بہت پرانی ہے اور جب سے مسجد اور مدرسہ نے ایک ریاستی ادارے کی حیثیت سے محروم ہو کر پرائیویٹ ادارے کی حیثیت اختیار کی ہے اور اسے اپنا وجود برقرار رکھنے اور نظام چلانے کے لیے صدقہ، زکوٰۃ، قربانی کی کھالوں اور عوامی چندے کا سہارا لینا پڑا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محراب و منبر کے وارث محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے؟

۱۰ مارچ ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا سید علی میاںؒ کی یاد میں ایک نشست

۲۵ فروری کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں الشریعہ اکادمی کی طرف سے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں شہر کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش نے شرکت کی۔ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ کے ریٹائرڈ پرنسپل پروفیسر محمد عبد اللہ جمال نے نشست کی صدارت کی جبکہ گوجرانوالہ تعلیمی بورڈ کے شعبہ امتحانات کے نگران پروفیسر غلام رسول عدیم مہمان خصوصی تھے، انہوں نے تفصیل کے ساتھ ندوۃ العلماء لکھنو کی ملی خدمات اور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سید علی میاںؒ کی یاد میں ایک نشست

۶ مارچ ۲۰۰۰ء

سقوط ڈھاکہ، جہادِ افغانستان اور معاشی خودمختاری

محترم راجہ انور صاحب کا کہنا ہے کہ ’’سامراج سے آزادی حاصل کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ ہم پانچ سال کے لیے اپنی ساری ترجیحات معطل کر دیں، صرف پانچ سال کے لیے اپنے سارے اہم مسائل طلاق نسیاں کی نذر کر دیں اور معاشی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔ جس دن ہم معاشی طور پر مضبوط اور آزاد ہوگئے اس دن دنیا کی کوئی قوت، کوئی سامراج اور کوئی سازش ہمیں غلام نہیں رکھ سکے گی۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سقوط ڈھاکہ، جہادِ افغانستان اور معاشی خودمختاری

۳ مارچ ۲۰۰۰ء

قرارداد مقاصد اور اس کے تقاضے

قیام پاکستان کے بعد ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہوگا یا سیکولر؟ جن لوگوں نے پاکستان کی تحریک میں مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کے قیام، جداگانہ مسلم تہذیب، دو قومی نظریہ، اسلامی احکام و قوانین پر مبنی اسلامی سوسائٹی کی تشکیل، اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ الا اللہ کے وعدوں و نعروں کی فضا میں ایک نئے اور الگ ملک کے شہری کی حیثیت سے نئی زندگی کا آغاز کیا تھا، ان کا تقاضہ و مطالبہ تھا کہ ملک کا دستور اسلامی ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرارداد مقاصد اور اس کے تقاضے

۲۴ فروری ۲۰۰۰ء

صدارت کا منصب اور جونیئر افسر کی ماتحتی

اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان سے پی سی او کے تحت حلف لیے جانے کے بعد صدر مملکت جناب محمد رفیق تارڑ کے بارے میں بھی مختلف خبریں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں۔ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ ان سے بھی پی سی او کے تحت حلف لینا ضروری ہوگیا ہے، بعض دوست اس خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ شاید یہ حلف اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوں اس لیے کہ ان کے ایوان صدر سے رخصت ہونے کا وقت قریب آرہا ہے۔ ایک معروف قانون دان کا کہنا ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی وہی آخری علامت رہ گئے ہیں اس لیے ان کی رخصتی عملاً دستور پاکستان کی رخصتی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدارت کا منصب اور جونیئر افسر کی ماتحتی

۲۰ فروری ۲۰۰۰ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان یا صرف پاکستان؟

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ملک کا نظم و نسق سنبھالنے اور ۱۹۷۳ء کا دستور معطل کرنے کے اعلان کے بعد ملک کے دینی حلقے مسلسل ایک تشویش سے دوچار ہیں اور مختلف حوالوں سے اس کا اظہار ہو رہا ہے کہ دستور کی معطلی کے بعد دستور کی اسلامی دفعات بالخصوص قرارداد مقاصد اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ سے متعلقہ شقوں کی کیا حیثیت باقی رہ گئی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی جمہوریہ پاکستان یا صرف پاکستان؟

۱۷ فروری ۲۰۰۰ء

میٹرک کا نصاب اور سورہ توبہ

جہاں تک سورۃ توبہ کا تعلق ہے، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی کے اس خیال سے ہمیں اتفاق ہے کہ یہ طلبہ اور طالبات کے لیے مشکل ہو یا نہ ہو البتہ سورۃ کے مضامین کو ہضم کرنا ان عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے بہت مشکل ہو رہا ہے جو ملت اسلامیہ میں تیزی سے ابھرتے ہوئے جذبۂ جہاد کو موجودہ عالمی نظام کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ اور ان کے نزدیک مسلمان بچوں کا قرآنی تعلیمات سے واقف ہونا ان کے بنیاد پرست ہونے اور جہاد کے احکام و فضائل سے آگاہی ان کے دہشت گرد ہونے کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میٹرک کا نصاب اور سورہ توبہ

۴ فروری ۲۰۰۰ء

کیا نکاح کے لیے مرد و عورت کا باہمی ایجاب و قبول کافی ہے؟

وفاقی شرعی عدالت کے ایک حالیہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے گزشتہ روز اپنے کالم میں ہم نے گزارش کی تھی کہ نکاح میں صرف میاں بیوی کے اقرار کو کافی سمجھتے ہوئے گواہوں کی موجودگی کو ضروری قرار نہ دینا قرآن و سنت کے احکام کے صریح منافی ہے۔ اس سلسلہ میں وفاقی شرعی عدالت کی وضاحت ہمارے کالم کی اشاعت سے پہلے ہی سامنے آچکی ہے جو لاہور کے ایک قومی روزنامہ نے ۲۲ جنوری ۲۰۰۰ء کو یوں شائع کی ہے کہ مکمل تحریر کیا نکاح کے لیے مرد و عورت کا باہمی ایجاب و قبول کافی ہے؟

۳ فروری ۲۰۰۰ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔