ڈاکٹر مہاتیر محمد کی فکر انگیز باتیں

   
۱۹ اکتوبر ۲۰۰۳ء

ملائیشیا میں اسلامی سربراہ کانفرنس جاری ہے جو ان سطور کی اشاعت تک اختتام پذیر ہو چکی ہوگی۔ اس کانفرنس کا دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک مدت سے انتظار تھا اور ملت اسلامیہ منتظر تھی کہ مسلم ممالک کے حکمران عالم اسلام کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مشترکہ طور پر کیا رائے قائم کرتے ہیں اور کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ کانفرنس کے فیصلوں اور اعلانات کے حوالہ سے تو ہم اگلے کالم میں کچھ عرض کر سکیں گے البتہ کانفرنس کے میزبان اور ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے اس کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔

دورِ حاضر میں عالم اسلام کے حکمرانوں میں ڈاکٹر مہاتیر محمد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ گزشتہ ربع صدی سے مسلسل ایک مسلم ملک کے حکمران چلے آرہے ہیں۔ ان کا یہ امتیاز بھی نمایاں ہے کہ انہوں نے ملائیشیا کو آج کی دنیا میں معاشی طور پر ایک مضبوط ملک بنانے کی سنجیدگی کے ساتھ کوشش کی اور اسے ترقی یافتہ ملکوں کی صف کے قریب لے گئے مگر عالمی معاشی استعمار کے قائم کردہ سرخ دائرہ کو کراس نہ کر سکے اور سامراجی سازشوں کے حصار کو توڑنا ان کے لیے ممکن نہ رہا جس کی وجہ سے معاشی اور اقتصادی لحاظ سے ایشیا کو مغربی ممالک کے برابر لانے یا دوسرے لفظوں میں مسلم ممالک کو معاشی خودمختاری سے بہرہ ور کرنے کے لیے ان کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔ لیکن مغرب کے معاشی نظام کو چیلنج کرنے اور اس کی اقتصادی بالادستی کا سامنا کرنے میں پہل کرنے کا اعزاز مسلم دنیا کی تاریخ میں ان کے نام کے ساتھ مخصوص ہوگیا۔

پھر ڈاکٹر مہاتیر محمد کا یہ اختصاص بھی تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بیسیوں صدی کے آخری دو عشروں کے دوران انہوں نے ایک مسلم ملک کے حکمران کی حیثیت سے مغرب کے فلسفہ و نظام اور اس کی سیاسی، معاشی اور عسکری پالیسیوں پر کھلم کھلا تنقید کی، اس کی بالادستی سے ذہنی طور پر مرعوب ہونے کی بجائے اس کے طرز عمل کو غلط ٹھہرایا اور مسلم دنیا کو سنجیدگی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے اور اس کے جال سے نکلنے کی تلقین کرتے رہے۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد اس ماہ کے آخر تک ملائیشیا کے وزیراعظم کے منصب سے ریٹائر ہو رہے ہیں، ان کی یہ ریٹائرمنٹ رضاکارانہ ہے اور وہ اپنے ملک کا اقتدار اپنی ہی تیار کردہ ٹیم کے سپرد کر کے عملی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے والے ہیں۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر مہاتیر محمد کا یہ خطاب اس حیثیت سے عالم اسلام کے سب سے بڑے فورم پر ان کا آخری خطاب ہے اور اس میں انہوں نے جو فکر انگیز باتیں کی ہیں وہ دنیائے اسلام کے ہر طبقہ کے لیے یکساں طور پر قابل توجہ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ:

  • مٹھی بھر یہودی پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔
  • مسلمان یہودیوں کے مقابلہ کے لیے عقل بھی استعمال کریں۔
  • مسلمانوں کے پاس بے پناہ دولت اور تیل کے ذخائر ہیں۔
  • آج کوئی بھی مسلم ملک حقیقی طور پر آزاد نہیں ہے، سب دباؤ اور جابروں کی خواہشات کے مطابق چل رہے ہیں۔یہ سب دین سے دوری اور آپس کے اختلافات کی وجہ سے ہوا ہے۔
  • ہم خود ہتھیار بنانے کی بجائے ان لوگوں سے خریدتے ہیں جو ہماری تحقیر کا باعث ہیں۔
  • جب تک مسلمان سائنس کے میدان میں ترقی نہیں کرتے، حالات تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔
  • ہم سب مسلمان ہیں، ہم سب جبر کے دور سے گزر رہے ہیں اور ہم سب کی تحقیر کی جا رہی ہے۔ اگر ہم اپنا اور اسلام کا وقار بحال کرنا چاہتے ہیں تو اس کا فیصلہ ہمیں خود کرنا ہوگا اور خود اس کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔
  • دنیا کے کل ۱۸۰ ملکوں میں سے ۵۷ ملکوں کی باگ ڈور ہمارے ہاتھ میں ہے، ہمارے ووٹ بین الاقوامی تنظیموں کو بنا اور بگاڑ سکتے ہیں، اس کے باوجود ہم ان مٹھی بھر مسلمانوں سے بھی کمزور ہیں جنہوں نے جاہلیت چھوڑ کر اسلام قبول کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہنما تسلیم کیا تھا۔
  • اہل یورپ نے ۱۲ ملین یہودیوں میں سے ۶ ملین کو قتل کیا لیکن آج یہودی درپردہ ساری دنیا پر حکومت کر رہے ہیں، وہ دوسروں کو لڑاتے اور اپنی خاطر ہلاک کراتے ہیں۔
  • ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے؟ ہمیں اپنے ملکوں پر کس طرح حکومت چلانی چاہیے؟ حتیٰ کہ ہمارا طرز فکر کیا ہونا چاہیے؟ یہ سب امور جابر قوتیں اپنی مرضی کے تابع لانا چاہتی ہیں۔
  • آج وہ اگر ہمارے کسی ملک پر حملہ کرنا چاہیں، ہمارے عوام کو قتل کرنے اور ہمارے دیہات اور شہروں کو تباہ کرنے لگیں تو ان کا ہاتھ روکنے کے لیے ہمارے پاس کوئی ٹھوس قوت موجود نہیں۔اس صورتحال میں ہمارا ردعمل زیادہ سے زیادہ غیظ و غضب کا ہے۔ مشتعل لوگ کبھی صحیح رخ پر نہیں سوچ سکتے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے بعض لوگ غیر معقول انداز میں سوچ رہے ہیں، وہ اپنا غصہ اتارنے کے لیے حملہ کرتے ہیں جن سے مسلمانوں سمیت کوئی بھی شخص ہلاک ہو سکتا ہے۔ ان کی حکومتیں انہیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتیں۔ دشمن جوابی حملہ کرتا ہے اور حکومتوں پر دباؤ بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ مسلم حکومتوں کے پاس پسپائی اور دشمن کی ہدایات تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا اور وہ فی الواقع آزادی عمل سے محروم ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں ان ملکوں کے عوام اور امت مزید غضبناک ہوتی ہے اور اپنی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ یوں پر امن حل کی ہر کوشش سبوتاژ ہو جاتی ہے لیکن حملوں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا غیظ و غضب میں آنکھیں بند کر کے ردعمل ظاہر کرنے کے سوا کوئی اور چارۂ کار نہیں ہے؟
  • سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ سب نعوذ باللہ اسلام کی وجہ سے ہوا ہے یا ہم اپنے دین کے فرائض پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں؟

یہ اس خطاب کے چند اہم نکات ہیں جو اسلامی سربراہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کیا۔ اور سچی بات ہے کہ ان کے خطاب کے ہر ہر جملہ پر ہمارے دل سے یہ آواز اٹھی کہ:

میں نے یوں جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

ہمیں ان کے تجزیہ کے بیشتر نکات سے اتفاق ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے اس خطاب میں نہ صرف یہ کہ مسلم حکمرانوں کے سامنے اپنا دل چیر کر رکھ دیا ہے بلکہ دنیا بھر کے باشعور مسلمانوں کی نمائندگی اور ترجمانی کا بھی حق ادا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی امت مسلمہ کی فکری و علمی رہنمائی کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کے اس خطاب کے ہر نکتہ پر گفتگو اور بحث و مباحثہ کی ضرورت ہے اور اگر دنیا بھر میں مسلمانوں کے علمی و فکری حلقے ہماری اس گزارش کو قبول کریں تو اس خطاب کو ایجنڈے کی حیثیت دے کر دنیائے اسلام کے علمی و فکری حلقوں میں اس پر تفصیلی بحث و مباحثہ ہونا چاہیے اور مسلمانوں کے آئندہ لائحہ عمل کے تعین کے لیے ہمہ گیر اور ہر سطح کی مشاورت میں اسے تجاویز کے بنیادی خاکے کا درجہ ملنا چاہیے۔ البتہ اس مرحلہ پر ہم ان میں سے تین نکات پر ہلکا پھلکا سا تبصرہ مناسب خیال کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب موصوف نے فرمایا ہے کہ مٹھی بھر یہودی اس وقت دنیا بھر پر حکومت کر رہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے اور اسے دنیا کا ہر باشعور شخص محسوس کر رہا ہے لیکن ہمارے نزدیک اس سلسلہ میں سب سے زیادہ غور طلب پہلو یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ مقام کس طرح حاصل کیا ہے؟ آج سے ڈیڑھ صدی قبل دنیا میں انہیں یہ مقام حاصل نہیں تھا اور وہ دنیا کے کسی خطے پر حکومت کرنے کی بجائے یورپ کی مسیحی اقوام کے ہاتھوں ذبح ہو رہے تھے۔ مگر انہوں نے اچانک ایک فیصلہ کیا، اس کے مطابق مسلسل اور صبر آزما جدوجہد کی، اس کے لیے قربانیاں دیں اور آج وہ پوری دنیا کا کنٹرول ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ اگر مٹھی بھر یہودی دنیا کے نظام میں یہ تبدیلی لا سکتے ہیں تو سوا ارب سے زیادہ مسلمانوں کے لیے اس میں کیا رکاوٹ ہے؟

ڈاکٹر مہاتیر محمد کا ارشاد ہے کہ مٹھی بھر مسلمانوں نے جاہلیت ترک کر کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رہنما بنا لیا تھا اور وہ دنیا پر غالب ہوگئے تھے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ نہ ہم جاہلیت کو ترک کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی عملی اور اجتماعی زندگی میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہنما بنانے میں سنجیدہ ہیں۔ ہم نے جاہلیت جدیدہ کے مغربی نظام، فلسفہ اور تہذیب کو زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا رہنما بنا لیا ہے بلکہ آنحضرتؐ کی سنت و تعلیمات کو بھی اسی کے سانچے میں ڈھالنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے کہ دشمن کے حملوں کے جواب میں مسلمانوں کے جذباتی حلقے غیظ و غضب کا شکار ہو کر جوابی کارروائیاں کر رہے ہیں جو فائدے کی بجائے نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا یہ ارشاد سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے لیکن سردست ہم صرف اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ’’جذباتی مسلمانوں کی غیظ و غضب کے تحت کارروائیاں‘‘ مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں یا باعث نقصان بن رہی ہیں، اس کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی، مگر ان کے ارشاد کے ساتھ اتنا اضافہ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ جذباتی مسلمانوں کے غیظ و غضب اور ان کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے پس منظر اور اسباب و عوامل میں صرف دشمن کے حملے نہیں بلکہ مسلمان حکومتوں کا طرز عمل بھی پوری طرح کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے کہ اگر دشمن کے حملوں سے بچاؤ اور ملت اسلامیہ کی آزادی و خودمختاری کے لیے گزشتہ نصف صدی کے دوران مسلمان حکومتیں کچھ کرتی نظر آتیں تو جذباتی مسلمانوں کا غیظ و غضب اس انتہا تک نہ پہنچتا۔ مگر مسلم حکومتوں نے مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کے شوق میں ایسا طرز عمل اختیار کیا کہ وہ مسلمانوں کی بجائے مغرب کی نمائندگی کرتی نظر آرہی ہیں اور اہل اسلام کو ان سے مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے جذباتی حلقے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اس رخ پر چل پڑے ہیں جسے ڈاکٹر مہاتیر محمد بجا طور پر امت مسلمہ کے لیے نقصان دہ بتا رہے ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter