امریکہ کا سفر

   
۲۴ جون ۲۰۰۴ء

میں ایک بار پھر واشنگٹن (ڈی سی) میں ہوں اور یہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران میرا امریکہ کا تیسرا سفر ہے۔ اس دفعہ میرا امریکہ آنے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ دو ہفتے کی یہ تعطیلات برطانیہ میں گزارنے کا پروگرام تھا مگر تقدیر کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے اس لیے پروگرام اچانک تبدیل ہوا اور میں لندن کی بجائے واشنگٹن میں بیٹھا یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔ بہت سے دوستوں کو حیرت ہوتی ہے اور بعض دوست یہ دریافت بھی کر لیتے ہیں کہ یہ بار بار امریکہ کا آنا جانا آخر کیا ہے، تمہیں ویزہ کیسے مل گیا ہے، امریکہ میں داخل کیسے ہو جاتے ہو اور تمہارا خرچہ کو ن برداشت کرتا ہے؟ میں جواب میں عرض کرتا ہوں کہ ویزہ تو میرے پاس ۱۱ ستمبر کے سانحہ سے پہلے کا ہے جو پانچ سال کے لیے ہے اور اگلے سال ستمبر کے آخر تک کارآمد ہے۔ اور امیگریشن کے مراحل میں خود میرا ذہن وسوسوں اور خدشات کا شکار رہتا ہے مگر بحمد اﷲ تعالیٰ اب تک کے تین اسفار میں کوئی الجھن اور پریشانی نہیں ہوئی بلکہ میں نے محسوس کیا ہے کہ مجھے ہمیشہ احترام ملا ہے، سوائے ایک آدھ موقع کے کہ اس میں میرے اپنے ہی کسی قصور کا دخل تھا۔ اس احترام کی وجہ شاید سفید ڈاڑھی ہے، یا پاسپورٹ میں پیشہ کے خانہ میں’’تدریس‘‘ کا اندراج ہے، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں ملک کے اندر اور باہر ہر جگہ قانون کی پابندی کا بطور خاص اہتمام کرتا ہوں۔ میں اپنے مشن کے حوالہ سے جو کچھ بھی کر سکتا ہوں اس سے گریز نہیں کرتا لیکن میری حتی الوسع کوشش یہ ہوتی ہے کہ کوئی کام بھی قانون کے دائرہ سے باہر نہ ہو۔ باقی رہی بات خرچ اخراجات کی تو اﷲ تعالیٰ میرے ان دوستوں کو سلامت رکھیں اور دونوں جہانوں کی سعادتوں سے نوازیں جن کی وجہ سے گزشتہ بیس سال کے مسلسل اسفار میں کسی سفر کا پروگرام طے کرتے ہوئے بحمد اﷲ تعالیٰ یہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑی کہ خرچہ کہاں سے ہو گا؟ یہ سب دین کی برکات ہیں۔

ہفتہ کو دو بجے دن پی آئی اے کے ذریعہ نیو یارک پہنچا تو دارالعلوم نیویارک کے مہتمم مولانا مفتی روح الامین اپنے رفقاء کے ہمرا ہ استقبال کے لیے ایئر پور ٹ پر موجود تھے، وہ مجھے دارالعلوم لے گئے جہاں نماز پڑھی، کھانا کھایا اور تھوڑی دیر آرام کے بعد ہم کوئینز کے علاقہ میں ’’فلاشنگ مسلم سنٹر‘‘ پہنچے جہاں ایک بچے کا حفظ قرآن کریم ختم ہونے پر تقریب کا اہتمام تھا۔ وہاں سے لانگ آئی لینڈ کے علاقہ سلیڈن میں واقع مسجد نور میں حاضری ہوئی جہاں ہمارے پرانے دوست مولانا قاری اعجاز احمد خطیب و امام ہیں، وہ کافی عرصہ گوجرانوالہ رہے ہیں اور اب چند برسوں سے امریکہ میں ہیں۔ فجر کی نماز کے بعد مختصر درس دیا اور پھر ناشتہ پر احباب سے ملاقات ہوئی۔

اس کے بعد بذریعہ بس واشنگٹن جانے کا پروگرام تھا، انہیں میں سے دو ساتھی مجھے مین ہیٹن کے جنرل بس سٹینڈ تک چھوڑنے کے لیے آئے، راستہ میں خوب گپ شپ رہی، ایک صاحب جو گاڑی چلا رہے تھے خاصے باذوق نکلے، انہوں نے علامات قیامت اور دجال پر بات چھیڑ دی، معلوم ہوا کہ قیامت کی علامات کے حوالہ سے انہوں نے احادیث نبویؐ کا مطالعہ کر رکھا ہے اور ان میں سے ہر حدیث کا کوئی نہ کوئی مفہوم اور مصداق بھی اپنے ذہن کے مطابق طے کیے ہوئے ہیں۔ دجال کے بارے میں ان کا خیال ہے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے دوست کہتے ہیں کہ احادیث نبویہؐ میں جس دجال کا ذکر ہے اس سے مراد امریکہ اور اس کی دجالی تہذیب ہے۔ وہ ایک ڈالر کی ایک جانب بنی ہوئی ایک آنکھ پر دجال کی کانی آنکھ کا اطلاق کرتے ہیں اور اسی طرح احادیث میں بیان کردہ مختلف علامتوں کا مختلف امور پر اطلاق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے بھی ڈالر کا نوٹ سامنے رکھ کر انہوں نے یہ فلسفہ سمجھانا چاہا، میں نے عرض کیا کہ یہ فلسفہ میں نے پہلے سے سن اور سمجھ رکھا ہے اور اس سلسلہ میں مختلف دوستوں کی تاویلات و تعبیرات میرے علم میں ہیں۔ وہ یہ بات جان کر بہت خوش ہوئے کہ جو بات وہ مجھے بتانا اور سمجھانا چاہتے ہیں وہ پہلے سے میں جانتا ہوں، اس پر انہوں نے میری رائے پوچھی۔

میں نے عرض کیا کہ اس حوالہ سے ایک اصولی بات عرض کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے قبل جن امور کے واقع ہونے کی پیش گوئی فرمائی ہے کیا وہ بعینہ اسی صورت میں وا قع ہوں گے جیسے بیان کیے گئے ہیں یا اس سے مختلف بھی ان کے وقوع کی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں کیا ان پیش گوئیوں کو ظاہری معنوں پر محمول کرنا ضروری ہے یا ان کی کوئی اور تعبیر اور تاویل بھی ہوسکتی ہے؟ اس سلسلہ میں قرآن کریم کی ایک پیش گوئی کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ سورۃ الدخان میں ’’البطشۃ الکبریٰ‘‘ اور ’’دخان‘‘ کی پیشگوئی کا تذکرہ ہے جس کے بارے میں بہت سے مفسرین کرامؒ کا ارشاد ہے کہ دخان سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت سے قبل آسمانِ دنیا پر نمودار ہوگا اور قیامت کی نشانیوں میں سے ہوگا۔ مگر بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت عبد اﷲ بن مسعودؓ یہ فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں جناب رسول اللہؐ کی دعا سے قریش پر قحط سالی کا عذاب آیا تھا اور بھوک کی شدت سے یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ انہیں آسمان پر دھواں ہی دھواں دکھائی دیتا تھا، حقیقت میں فضا میں کوئی دھواں نہیں تھا بلکہ بھوک کی شدت کی وجہ سے محسوس ایسے ہوتا تھا جیسے ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعودؓ کا ارشاد ہے کہ قرآن کریم میں جس ’’دخان‘‘ کا تذکرہ ہے وہ یہی مکہ مکرمہ کے لوگوں کو بھوک کی وجہ سے محسوس ہونے والا دھواں ہے اور یہ بات وقوع پذیر ہو چکی ہے۔

اس اختلاف کے دیگر پہلوؤں سے قطع نظر حضرت عبد اﷲ بن مسعودؓ کے اس ارشاد گرامی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن کریم یا حدیث نبویؐ کی کسی پیش گوئی کے ظاہری معنی سے ہٹ کر الگ تعبیر اور تاویل کی گنجائش موجود ہے اس لیے جو علماء کرام یا اہل دانش ان پیش گوئیوں کی وقتی حالات یا واقعات کے پیش نظر مختلف تاویلات کرتے ہیں انہیں قطعی طور پر غلط نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ ایک بات اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ تاویل اور تعبیر کو اندازہ اور ظن کے درجہ میں ہی رکھا جائے اسے یقین اور اعتماد کے ساتھ حتمی صورت میں بیان نہ کیا جائے کیونکہ حتمی بات کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کے پاس ہے۔ نیز کسی پیش گوئی کے ظاہری معنوں کے ساتھ واقع ہونے کے امکان کی نفی نہ کی جائے کیونکہ مستقبل کے امکانات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ بہت سی باتیں جو آج سے نصف صدی قبل ناممکن نظر آتی تھیں اب وقوع پذیر ہو چکی ہیں اور بہت سے امور جو آج ناقابل عمل دکھائی دیتے ہیں اب سے بیس تیس برس بعد ان کے قابل عمل اور وقوع پذیر ہونے کے امکا ن کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ خیر یہ بات تو درمیان میں اس دوست کی گفتگو کے حوالے سے آگئی جو مجھے مین ہیٹن کے جنرل بس سٹینڈ تک پہنچانے گئے تھے۔

نیویارک سے واشنگٹن ڈی سی جانا تھا۔ گزشتہ سال بھی میں نے یہ سفر بس میں کیا تھا مگر اس بار یہ فرق نظر آیا کہ گذشتہ سال ٹکٹ خریدتے وقت کاؤنٹر پر مجھ سے شناخت کا ثبوت پیش کرنے کے لیے کہا گیا اور میرا پاسپورٹ اور ویزہ دیکھ کر ٹکٹ دیا گیا اب کے ایسا نہیں ہوا اور صرف نام لکھوانے پر ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔ نان سٹاپ بس کے ذریعے چار گھنٹے کے سفر کے بعد واشنگٹن ڈی سی کے بس سٹیشن پر سوا ایک بجے دن پہنچا تو دارالھدیٰ سپرنگ فیلڈ کے ڈائریکٹر مولانا عبد الحمید اصغر انتظار میں تھے، انہوں نے میرے دارالھدیٰ میں نو روزہ قیام کے دوران روزانہ مغرب کے بعد درس کا اعلان کر رکھا ہے اور ان کا اصرار تو یہ ہے کہ میں ۶ جولائی کو اپنی واپسی تک یہیں قیام کروں مگر نیویارک کے دوستوں کے تقاضے پر یہاں سے ۲۹ جون کو نیویارک چلا جاؤں گا جہاں دو تین روز قیام کر کے ۶ جولائی کو شام پاکستان واپسی کے لیے روانہ ہو جاؤں گا، ان شاء اﷲ تعالیٰ۔

امریکہ میں ان دنوں نومبر میں ہونے والا صدارتی انتخاب عام طور پر موضوع بحث ہے، صدر جارج ڈبلیو بش کو ڈیمو کریٹک حریف جان کیری کا سامنا ہے جو اگرچہ اس قدر مضبوط حریف نہیں سمجھے جا رہے لیکن آج کے امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر بش کو ہرانے کے عوامی جذبے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کا فائدہ ظاہر ہے جان کیری کو ہی ہو گا۔ گزشتہ روز ایک پاکستانی دوست جو طویل عرصہ سے امریکہ میں رہتے ہیں اور اب امریکی شہری ہیں کہہ رہے تھے کہ عام امریکیوں کا تاثر یہ ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی جب برسر اقتدار آتی ہے تو اس کی زیادہ تر توجہ داخلی مسائل پر ہوتی ہے جبکہ ا س کے برعکس ری پبلکن پارٹی کی ترجیحات میں خارجہ پالیسی اور دنیا پر امریکہ کی چودھراہٹ قائم کرنے کو اولیت حاصل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے داخلی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اب بھی صدر بش کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ کے اندر مسائل بڑھ رہے ہیں اور مہنگائی میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عام امریکی شہری پریشانی میں ہیں، ان کا خیال ہے کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی امریکی عوام کی اس پریشانی کو صحیح طریقہ سے کیش کرانے میں کامیاب رہی تو صدر بش کے لیے دوسری بار صدارت کے منصب پر فائز ہونا شاید ممکن نہ رہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter