انصاف، وحی اور عقل

   
۶ نومبر ۱۹۹۹ء

جامعہ اسلامیہ امدادیہ، ستیانہ روڈ، فیصل آباد ملک کے معروف دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے جو شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد کی سربراہی میں علمی و دینی خدمات میں مصروف ہے۔ مولانا موصوف تدریس و تربیت کا اعلیٰ ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ انتظام اور تعلقات عامہ کی بھرپور صلاحیتوں سے بھی بہرہ ور ہیں اور نیکی اور خلوص نے ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کے حسن کو دوبالا کر رکھا ہے۔ وہ ہر سال بخاری شریف کے اختتام کے موقع پر ایک بھرپور تقریب کا اہتمام کرتے ہیں جو بلاشبہ ضلع فیصل آباد میں دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، طلبہ اور دینی کارکنوں کا منتخب سالانہ اجتماع ہوتا ہے۔ اس سال یہ تقریب ۲۹ اکتوبر کو مغرب کے بعد ہوئی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلٹ بینچ کے رکن جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی مہمان خصوصی تھے، انہوں نے بخاری شریف کے آخری باب کا درس دے کر دورۂ حدیث کے طلبہ کو درس نظامی کے نصاب کی یہ آخری کتاب مکمل کرائی۔ جبکہ بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی، مولانا منظور احمد چنیوٹی اور دیگر سرکردہ علماء کرام نے فضلاء کی دستار بندی کی۔ مولانا نذیر احمد نے اس سال راقم الحروف کو بھی اس تقریب میں شرکت اور گفتگو کا حکم دیا تھا اس لیے کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع مل گیا۔

جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی نے بخاری شریف کے آخری باب اور آخری حدیث کے حوالہ سے بہت سے علمی امور پر گفتگو کی جن میں سے ایک بات کا تذکرہ قارئین کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ امام بخاریؒ نے آخری باب میں قیامت کے دن انسانوں کے اعمال تولے جانے کے بارے میں معتزلہ کے ایک اعتراض کا رد کیا ہے جو کہتے تھے کہ قرآن کریم میں وزن اعمال کے بارے میں جن آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے ان سے مراد حقیقتاً اعمال کو تولنا اور ان کا وزن کرنا نہیں بلکہ اعمال کے وزن کی اصطلاح محاورہ کے طور پر عدل وا نصاف کے معنٰی میں استعمال کی گئی ہے۔ اور ان کا اشکال یہ تھا کہ اعمال کا کوئی ٹھوس وجود نہیں ہوتا بلکہ وہ اعراض اور کیفیات میں سے ہیں جن کو تولا نہیں جا سکتا۔ اس کا جواب مولانا عثمانی نے دیا کہ یہ پرانے دور کی بات ہے کہ اعراض اور کیفیات کا وزن نہیں ہو سکتا تھا، اب ایسے سائنسی آلات ایجاد ہو چکے ہیں جن کے ذریعہ گرمی، سردی، آواز اور ہوا وغیرہ کا وزن کیا جاتا ہے اس لیے اب اس اشکال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

معتزلہ کا دوسرا اشکال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں کے اعمال تولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ اس کے پاس تو ہر چیز کا علم موجود ہے اور وہ ہر شخص کے ہر عمل کی حقیقت، وزن او ر کیفیت کو جانتا ہے۔ لہٰذا اعمال کا وزن کرنا ایک بے مقصد اور بلاضرورت کام ہے۔ اس کے جواب میں مولانا صاحب نے کہا کہ انسانوں کے اعمال کا وزن اللہ تعالیٰ اپنے علم کے لیے نہیں کریں گے بلکہ لوگوں کو یہ بتانے کے لیے کریں گے کہ جس شخص کو اس کے اعمال کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے وہ فی الواقع قصور وار ہے اور اس کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ضابطہ اور قانون سے انصاف کا یہ بنیادی اصول اور تقاضہ سمجھ میں آتا ہے کہ کسی ملزم کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت صرف جج کا ذاتی علم کافی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ فقہاء نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ اگر کوئی قاضی کسی مقدمہ کا فیصلہ کرتے وقت ذاتی طور پر ملزم کے بارے میں علم رکھتا ہو اور اسے معلوم ہو کہ ملزم نے یہ حرکت فی الواقع کی ہے تو بھی وہ محض اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں ہے بلکہ اسے عدالت میں شہادت کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے اور عدالتی پراسیس سے گزر کر ہی وہ کوئی فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انصاف کے لیے یہ ضروری ہے کہ انصاف ہوتا ہوا عام لوگوں کو بھی نظر آئے اور انصاف کے عمل کا مشاہدہ کرنے والے اس بات کی گواہی دیں کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوئے ہیں اور جس شخص کو سزا دی گئی ہے وہ واقعتاً اس کا مستحق تھا۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی ملزم کے بارے میں اپنے علم کو، جو قطعی اور یقینی ہے، فیصلہ کی بنیاد نہیں بنائیں گے تو کسی اور جج کا بھی یہ استحقاق نہیں ہے کہ وہ محض اپنے علم اور اطمینان کی بنا پر کسی ملزم کو سزا دے۔ بلکہ یہ ضروری ہے کہ وہ انصاف کے تقاضوں اور عدالت کے قواعد و ضوابط کا اس درجہ اہتمام کرے کہ انصاف ہوتا ہوا لوگوں کو نظر آئے اور خود ملزم پر بھی اتمام حجت ہو کہ اسے سزا اس کے اپنے اعمال کی وجہ سے مل رہی ہے۔

راقم الحروف نے اپنی گفتگو میں زیادہ زور اس بات پر دیا کہ امام بخاریؒ نے بخاری شریف کا آغاز وحی کے نزول اور اس کی کیفیات کے بیان سے کیا ہے اور اختتام معتزلہ کے ایک اعتراض کے رد پر کیا ہے۔ معتزلہ صرف اس لیے اعمال کے وزن کا انکار کر رہے تھے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی یعنی انہوں نے قرآن کریم کے احکام اور ارشادات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے اپنی عقل کو مدار ٹھہرا لیا تھا کہ جو بات عقل اور سمجھ میں آئے گی وہ مانیں گے اور جو سمجھ میں نہیں آئے گی اس میں تاویل کریں گے یا اس کا انکار کریں گے۔ امام بخاریؒ نے اس طرز عمل کو غلط ٹھہرایا ہے اور یہ بتلایا ہے کہ وحی اور عقل میں اگر کہیں ٹکراؤ آجائے تو وحی کو فوقیت حاصل ہوگی اور صرف اس وجہ سے وحی کی کسی بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سمجھ میں نہیں آرہی۔

وحی اور عقل دونوں علم کے ذرائع ہیں اور اپنی اپنی جگہ دونوں میں کسی کی اہمیت سے انکار نہیں ہے ۔البتہ یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ وحی علمِ یقینی کا ذریعہ ہے جبکہ عقل کے ذریعہ جو علم حاصل ہوتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ غلبہ ظن تک پہنچاتا ہے، اور محض عقل کے واسطہ سے کسی کو یقینی علم حاصل نہیں ہو پاتا۔ اس لیے عقل اگر اپنے درجہ میں رہے تو وہ بہت بڑی نعمت ہے اور مفید و کارآمد چیز ہے مگر جب عقل وحی کے مقابل پر آئے تو سوائے گمراہی کے اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

راقم الحروف نے یہ ذکر کیا کہ عقل اور وحی کی کشمکش نسل انسانی کے آغاز سے ہی جاری ہے جب فرشتوں اور ابلیس کو حکم ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں تو فرشتوں نے کسی تردد میں پڑے بغیر سجدہ کر دیا جو وحی کے حکم کی تعمیل تھی۔ لیکن ابلیس اس شش و پنج میں پڑ گیا کہ وہ آدم کو آخر سجدہ کیوں کرے؟ اس طرح اس نے اپنے فیصلے کی بنیاد محض عقل کو بنایا تو راندہ درگاہ قرار پایا۔

آج بھی وحی اور عقل کی یہ کشمکش جاری ہے اور پورے عروج پر ہے۔ آج کے عالمی فلسفے کی بنیاد اس پر ہے کہ انسانی سوسائٹی اپنے فیصلے کرنے میں پوری طرح آزاد ہے اور اسے باہر سے ڈکٹیشن لینے یعنی آسمانی تعلیمات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور انسانی سوسائٹی کی اجتماعی عقل اکثریت کی بنیاد پر جو فیصلہ بھی کرے وہ درست ہے اور وہی حق ہے۔ مغرب کے سارے فلسفے اور سولائزیشن کی بنیاد اسی فلسفہ پر ہے اور اس فلسفہ نے دنیا پر اس حد تک غلبہ پا لیا ہے کہ اب مغرب میں مذہبی فیصلے بھی اسی بنیاد پر ہونے لگے ہیں، جیسا کہ برطانیہ کے سب سے بڑے مسیحی مذہبی ادارے چرچ آف انگلینڈ نے چند سال قبل اپنی شاخوں کو ہدایت جاری کی تھی کہ شادی کے بغیر میاں بیوی کے طور پر اکٹھے رہنے والے جوڑوں کا تناسب چونکہ پچاس فیصد سے بڑھ گیا ہے اور سوسائٹی کی اکثریت نے اس عمل کو قبول کر لیا ہے اس لیے آئندہ اس عمل کو ’’گناہ‘‘ نہ کہا جائے۔

مگر اسلام اس فلسفہ کو قبول نہیں کرتا اور ہمارا واضح عقیدہ ہے کہ وحی الٰہی یعنی قرآن و سنت کے صریح احکام کے مقابلہ میں سوسائٹی کی اکثریت نہیں بلکہ چھ ارب آبادی پر مشتمل پوری نسل انسانی کسی بات پر خدانخواستہ متفق ہو جائے تو بھی حق اور باطل کا معیار نہیں تبدیل ہوگا۔ حق وہی رہے گا جو وحی الٰہی کے ذریعہ معلوم ہوا ہے اور اس کے مقابلہ میں پوری نسل انسانی کا اجماع بھی باطل قرار پائے گا۔

آج مغربی اقوام اور عالم اسلام کے درمیان فکر و فلسفہ کی جو کشمکش ’’سولائزیشن وار‘‘ کے عنوان سے جاری ہے اس کی بنیاد اسی اختلاف پر ہے۔ اور امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ نے صحیح بخاری کے آغاز اور اختتام میں وحی اور عقل کے حوالہ سے شرعی نقطۂ نظر کی وضاحت کر کے اس سلسلہ میں اسلامی موقف کی ترجمانی کی ہے۔ اس لیے علماء کرام اور اساتذہ و طلبہ کو چاہیے کہ وہ اس کشمکش کا مکمل ادراک حاصل کریں اور مسلمانوں کو اس کے پس منظر اور نتائج سے آگاہ کر کے اس تہذیبی جنگ میں ملت اسلامیہ کی رہنمائی کو صحیح طور پر سرانجام دینے کی کوشش کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter