قومی وملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۱)

   
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۱۱ء

گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجھے کراچی، بہاولپور، لاہور، راولپنڈی، خانیوال، کبیر والا، سرگودھا، نوشہرہ، پشاور اور دیگر شہروں میں مختلف دینی اجتماعات میں شرکت اور احباب سے ملاقاتوں کا موقع ملا اور اکثر اوقات میں دوستوں کے اس سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ تحریکِ تحفظِ ناموسِ رسالت کی مرکزی قیادت میں اہلِ تشیع کی شمولیت کے بارے میں آپ کا موقف اور رائے کیا ہے؟ میں نے گزارش کی کہ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت میں بھی تحریکِ تحفظِ ناموسِ رسالت کی مرکزی کونسل کا حصہ ہوں اور اس حوالے سے میرا موقف وہی ہے جو ملک کے اکابر علماء کرام کا قیامِ پاکستان کے بعد سے مسلسل چلا آرہا ہے۔

  • قیامِ پاکستان کے بعد جب یہ سوال اٹھا کہ پاکستان میں نفاذِ اسلام کس فرقے کے مسلک اور فقہ کے مطابق ہوگا اور اس سلسلہ میں فکری، کلامی اور فقہی اختلافات کو کیسے کنٹرول کیا جائے گا؟ اس سوال کے جواب کے لیے علامہ سید سلیمان ندویؒ کی سربراہی میں تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام نے متفقہ ۲۲ نکات پیش کر کے اس سوال اور اعتراض کا منہ بند کر دیا اور بتایا کہ تمام تر اعتقادی اور فقہی اختلافات کے باوجود پاکستان میں آباد تمام مذہبی مکاتبِ فکر دستوری بنیاد اور قانونی نظام پر متفق ہیں، اور ایک متفقہ دستوری ڈھانچہ انہوں نے پیش کر دیا جس میں دیگر مکاتب فکر کے ساتھ اہلِ تشیع کے ذمہ دار علماء کرام بھی شریک تھے۔
  • ۱۹۵۲ء میں تحریکِ ختمِ نبوت کے لیے تمام مکاتبِ فکر کو پھر سے جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور آل پارٹیز ایکشن کمیٹی قائم کی گئی تو اس میں بھی اہل تشیع کی نمائندگی موجود تھی جبکہ مولانا ابوالحسنات قادریؒ اور امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔
  • ۱۹۷۴ء میں محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں کل جماعتی مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوت تشکیل پائی اور اس کی جدوجہد سے قادیانیت کو پارلیمنٹ کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دلوایا تو اس کی قیادت میں بھی اہلِ تشیع موجود تھے۔
  • ۱۹۷۷ء میں ملک میں نفاذِ اسلام کے لیے تحریکِ نظامِ مصطفٰی کی جدوجہد حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی سربراہی میں میدان میں آئی اس کی قیادت میں بھی شیعہ راہنما موجود تھے۔
  • ۱۹۹۸ء میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد نور اللہ مرقدہ کی سربراہی میں ایک بار پھر کل جماعتی مجلس عمل کا احیا عمل میں لایا گیا تو اہلِ تشیع اس کی قیادت میں موجود تھی، بلکہ نائب صدر کے منصب پر ایک شیعہ راہنما فائز تھے۔
  • اب جبکہ عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کی میزبانی اور امیر مجلس حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی رہنمائی میں تحریکِ تحفظِ ناموسِ رسالت وجود میں آئی ہے تو ماضی کے اسی تسلسل میں شیعہ رہنماؤں کو اس کی ہائی کمان میں شامل کیا گیا ہے۔
  • اس سے قبل متحدہ مجلسِ عمل میں بھی اہلِ تشیع کے دیگر مکاتبِ فکر کے ساتھ قیادت کا حصہ رہ چکے ہیں۔

اس طرح دینی تحریکات کے حوالے سے قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک جو روایت اور تسلسل چلا آرہا ہے وہ بدستور قائم ہے، اور یہ دراصل سیکولر حلقوں کے اس اعتراض یا الزام کا عملی جواب ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، ملک میں اسلام اور شریعت کی حکمرانی کے بارے میں ملک کے مذہبی مکاتبِ فکر پوری طرح متفق اور پاکستان میں نفاذِ اسلام فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں بلکہ متفقہ قومی مسئلہ ہے۔

ایک موقع پر بعض دوستوں نے یہ سوال کیا ہے کہ ہمارے والد محترم امام اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا موقف اور طرزِ عمل کیا تھا؟ خصوصاً اس پس منظر میں کہ انہوں نے اثناء عشری اہلِ تشیع کی تکفیر پر ’’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی ہے۔ میں نے گزارش کی کہ انہوں نے ’’ارشاد الشیعہ‘‘ تصنیف فرمائی اور اس میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ صرف ان کا موقف نہیں بلکہ یہ تو اہلِ سنت کا موقف ہے اور خود ہمارا موقف بھی اثنا عشری اہلِ تشیع کی حد تک یہی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ان تمام تحریکات کا حصہ رہے ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ اور دیگر بزرگ ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں شریک ہوئے ہیں، جلوسوں کی قیادت کی، مشترکہ اجتماعات میں شرکت کرتے رہے ہیں اور دونوں گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ حضرت والد صاحبؒ کم و بیش دس ماہ، حضرت صوفی صاحبؒ نے تقریباً چھ ماہ اس تحریک میں جیل کاٹی ہے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں دونوں حضرات سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے رہے، مشترکہ اجتماعات میں خطاب کرتے رہے ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی صدارت میں منعقد ہونے والا وہ تاریخی جلسہ تحریکی تاریخ کا حصہ ہے جس میں دوسرے مکاتبِ فکر کے اکابر علماء کرام کے علاوہ شیعہ راہنماؤں نے بھی خطاب کیا تھا۔ بلکہ یہ واقعہ بھی تاریخی اہمیت کا حاصل ہے کہ جلسہ کے بعد جب پولیس نے علامہ علی غضنفر کراروی کو جلسہ گاہ سے نکلتے ہی گرفتار کر لیا تو آغا شورش کاشمیری مرحوم نے نہ صرف اپنے خطاب کے دوران شدید احتجاج کیا بلکہ پولیس چوکی کا لوگوں کے ہجوم کے ساتھ محاصرہ کر لیا اور کراروی صاحب کو رہا کر کے وہاں سے واپس ہوئے۔

۱۹۷۷ء کی تحریکِ نظامِ مصطفٰی میں گوجرانوالہ میں حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے مشترکہ عوامی جلوس کی قیادت کی اور گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ جلوسوں کی قیادت کرتے رہے۔ اور ان کا یہ تاریخی واقعہ بھی اسی تحریک کا ہے کہ فیڈرل فورس کے کمانڈر نے اس کو روکنے کے لیے اس کے راستے میں لکیر کھینچ کر اعلان کیا کہ جو شخص اس لائن کو عبور کرے گا اسے گولی مار دی جائے گی۔ یہ سن کر حضرت والد محترمؒ نے اپنے رفقاء استاذ محترم حضرت مولانا محمد انور صاحب مدظلہ اور حاجی سید ڈار صاحب مرحوم کے ہمراہ یہ کہہ کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے لائن کراس کی کہ ’’مسنون عمر پوری کر چکا ہوں اور اب شہادت کی تمنا رکھتا ہوں‘‘۔ ان کا یہ جذبہ دیکھ کر فیڈرل سکیورٹی فورس کی رائفلیں سرنگوں ہوگئیں اور جلوس پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔ اپنی زندگی کے آخری دس سال وہ بستر علالت پر رہے لیکن اس دوران متحدہ مجلسِ عمل تشکیل پائی تو انہوں نے دونوں الیکشنوں میں متحدہ مجلسِ عمل کے امیدواروں کی حمایت کی اور لوگوں کو ان کا ساتھ دینے کی تلقین فرمائی۔ بعض حضرات نے اس سلسلہ میں تحفظات کا بھی ان کے سامنے اظہار کیا مگر ان کا موقف وہی رہا۔

میں نے دوستوں سے عرض کیا کہ کسی کو مسلمان، منافق، یا کافر قرار دینے کا مسئلہ اپنی جگہ پر ایک دینی ضرورت ہوتی ہے لیکن قومی ضروریات اور معاشرتی روابط و معاملات کا ایک مستقل دائرہ ہوتا ہے اور ہمارے بزرگوں نے اپنی اپنی جگہ ان دونوں کا لحاظ رکھا ہے۔ حضرت والد محترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کا زندگی بھر یہ معمول رہا ہے کہ وہ بہت سے معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے تھے اور رائے بھی دیتے تھے، لیکن جب کوئی اجتماعی فیصلہ ہو جاتا تھا تو اسے نہ صرف قبول کر لیتے تھے بلکہ اس کا بھرپور ساتھ دیتے تھے۔ خود میرا معمول بھی بحمد اللہ تعالیٰ یہی ہے کہ بعض معاملات پر اپنی مستقل رائے رکھتا ہوں، اس کا اظہار بھی کرتا ہوں اور کوئی مناسب موقع ہو تو اس پر بحث و مباحثہ سے بھی گریز نہیں کرتا، لیکن عملاً وہی کرتا ہوں جو اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے اور جمہور اہلِ علم کا موقف ہوتا ہے۔ رائے کے حق سے میں کبھی دستبردار نہیں ہوا لیکن اپنی رائے کو حتمی قرار دے کر جمہور اہلِ علم کے موقف کے سامنے اڑنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے اور اسے کبھی حق اور صواب کا راستہ نہیں سمجھا۔

میری طالب علمانہ رائے میں اسلام، کفر اور نفاق کی بحث کے باوجود معاشرتی معاملات اور اجتماعی روایات کو الگ دائرے میں رکھنا چاہیے اور اس سلسلہ میں دورِ نبویؐ میں ہمارے لیے مثال موجود ہے۔ عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھیوں کو جن کی تعداد غزوۂ احد کے موقع پر تین سو کے لگ بھگ بیان کی جاتی تھی، قرآن کریم کی نصِ قطعی میں ’’کافر‘‘ قرار دیا گیا ہے اور یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ’’وماھم بمؤمنین‘‘ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عبادات میں شریک ہوتے رہے ہیں، غزوات میں اپنی تمام تر غلط حرکات کے باوجود شامل ہوتے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ انہیں قتل نہ کر دیا جائے؟ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ’’نہیں! اس سے یہ تاثر پھیلے گا کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں‘‘۔ اس لیے کہ دنیا کو وہ مسلمانوں کا حصہ ہی نظر آتے ہیں۔ حتٰی کہ منافقین نے ایک موقع پر الگ مسجد بنا کر خود کو عمومی معاشرے سے الگ کرنا چاہا تو قرآن کریم نے اسے ’’مسجد ضرار‘‘ قرار دیا اور نبی اکرمؐ کو وہاں جانے سے منع کر دیا۔ وہ مسجد گرا دی گئی اور مصلحت اسی میں سمجھی گئی کہ منافقین کو ان کے کفر کے باوجود معاشرتی طور پر الگ ہونے سے روکا جائے کہ اس کے نقصانات زیادہ ہیں۔ اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اکابر کے فیصلوں پر حسبِ سابق اعتماد کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راقم الحروف نے مختلف دوستوں کے سوالات پر تحریکِ تحفظِ ناموسِ رسالت کی قیادت میں اہلِ تشیع کی شمولیت کے مسئلے پر اپنے موقف کی وضاحت کی تھی جو روزنامہ اسلام میں ۱۱ فروری ۲۰۱۱ء کو ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے میرے مستقل کالم کی صورت میں شائع ہوئی۔ اس پر محترم جناب مولانا محمد یونس قاسمی نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے جو مذکورہ کالم کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ مولانا قاسمی کی شکایت یہ ہے کہ اکابر کے فیصلے بدلتے رہتے ہیں جبکہ میں نے اس کالم میں ہی اس کے بارے میں عرض کر دیا تھا کہ کسی کو کافر قرار دینے یا مسلمان تسلیم کرنے کا دائرہ الگ ہے اور معاشرتی روابط اور مشترکہ تحریکات میں اشتراکِ عمل کا دائرہ اس سے مختلف ہے جس کی واضح مثال موجود ہے کہ دورِ نبویؐ میں عبد اللہ بن ابی اور اس کے ٹولے کو قرآن کریم کی نصِ قطعی میں کافر قرار دیے جانے کے باوجود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی طور پر انہیں الگ نہیں کیا بلکہ ان کی تمام تر خرابیوں اور غلط کاریوں کے ہوتے ہوئے بھی انہیں اجتماعی معاملات میں اپنے ساتھ شریک رکھا۔ اس لیے کہ انہیں معاشرتی طور پر الگ کرنے اور ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرنے میں اس دور کے حالات میں مصلحت نہیں تھی۔

ہمارے اکابر کا طریقہ بھی یہی چلا آ رہا ہے کہ کفر کے فتوؤں کے باوجود مشترکہ قومی معاملات اور اجتماعی تحریکات میں اہلِ تشیع کو اپنے ساتھ شریک رکھا ہے اور اس میں کوئی تعارض اور الجھن کی بات نہیں ہے۔ اس سلسلے میں علماء کرام کے متفقہ ۲۲ نکات، ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوت، ۱۹۷۳ء کے دستور، ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت، ۱۹۷۷ء کی تحریکِ نظامِ مصطفٰی اور ۱۹۸۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کا حوالہ مذکورہ کالم میں دیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس تسلسل میں چند اور تحریکات کا اضافہ بھی کرنا چاہتا ہوں۔

  • بھارت میں مسلمانوں کے شرعی خاندانی قوانین کے تحفظ کے لیے ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ کا مشترکہ پلیٹ فارم موجود ہے جس کے پہلے سربراہ حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ، دوسرے سربراہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ، تیسرے سربراہ حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ تھے، جبکہ اب اس کے سربراہ حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی مدظلہ ہیں اور اہلِ تشیع اس بورڈ کا نہ صرف مسلسل حصہ ہیں بلکہ ممتاز شیعہ علماء اس کے مرکزی عہدہ دار بھی چلے آرہے ہیں۔
  • ایران میں اہلِ سنت کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبد العزیزؒ جو حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے تلامذہ میں سے تھے، ایرانی انقلاب کے بعد اس کی مرکزی کونسل اور دستور ساز اسمبلی کے ممبر رہے ہیں اور ایرانی دستور کی تشکیل میں ان کا اہم کردار ہے۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اور دوسرے علماء کرام کے ساتھ مجھے ۱۹۸۷ء میں ایران جانے کا موقع ملا تو ہم نے ایران میں حضرت مولانا عبد العزیزؒ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے ایرانی انقلاب اور دستور میں اپنے کردار کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ فرمایا، البتہ یہ شکایت کی کہ اب ایرانی راہنماؤں کا رویہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے اور وہ ان کی باتوں پر پہلے کی طرح توجہ نہیں دیتے۔
  • افغانستان میں روسی استعمار کے خلاف جہاد میں اہلِ سنت کی نصف درجن کے لگ بھگ جہادی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اہلِ تشیع کی ’’حزبِ وحدت‘‘ بھی جہادِ افغانستان کا حصہ رہی ہے اور ان تنظیموں کے درمیان اس دور میں اشتراک و تعاون بھی رہا ہے۔
  • دینی مدارس کے تحفظ کے لیے تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کے وفاقوں کے اتحاد ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ میں وفاق المدارس الشیعہ شامل ہے جس کا ذکر محترم مولانا محمد یونس قاسمی نے بھی اپنے مضمون میں کیا ہے۔

اس لیے مولانا محمد یونس قاسمی صاحب کی خدمت میں گزارش ہے کہ اصل الجھن انہیں صرف اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ وہ دونوں الگ الگ دائروں میں فرق نہیں کر پا رہے۔ اگر اس فرق کو وہ سنجیدگی سے محسوس کر لیں تو انہیں اکابر کے طرزِ عمل میں نہ کوئی تضاد نظر آئے گا اور نہ ہی یہ شکایت ہوگی کہ بزرگوں نے پہلے فیصلوں کے بعد نیا فیصلہ کرنے میں متعلقہ دوستوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اکابر کے فیصلے فتوؤں کے دائرے میں مسلسل وہی چلے آ رہے ہیں جو پہلے سے موجود ہیں اور معاشرتی روابط اور دینی تحریکات کے دائرے میں بھی ان کے فیصلوں کے تسلسل میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ صرف دائروں کے فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد کسی دوست کے ذہن میں کوئی الجھن باقی نہیں رہے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   
2016ء سے
Flag Counter