دینی شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘

   
۱۷ نومبر ۱۹۹۹ء

رائے ونڈ کے سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع میں کچھ دیر کے لیے شرکت کا موقع ملا۔ ایک عرصہ سے یہ معمول سا بن گیا ہے کہ اجتماع کے موقع پر درمیان کے روز تھوڑی دیر کے لیے رائے ونڈ جاتا ہوں، ایک آدھ بیان سنتا ہوں، دو تین نمازیں ادا کرتا ہوں اور کچھ دوستوں سے ملاقات کے بعد واپس آجاتا ہوں۔ ذریعہ سفر چونکہ پبلک ٹرانسپورٹ ہوتی ہے اس لیے آخری روز دعا کے بعد بے پناہ رش میں پھنسنے کا حوصلہ نہیں ہوتا اسی وجہ سے درمیان کے دن حاضری دے کر شرکاء میں نام لکھوا لیتا ہوں۔

تبلیغی جماعت اسلام کی عمومی دعوت اور مسلمانوں کو اسلامی اعمال پر واپس لانے کی جدوجہد کی علمبردار ہے۔ اس کا آغاز پون صدی قبل حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ نے کیا تھا اور ان کے خلوص کے ساتھ ساتھ سادہ طریق کار اور بے تکلف انداز کی برکت ہے کہ اس وقت یہ دنیا بھر میں اسلام کے بنیادی اعمال مثلاً نماز و روزہ وغیرہ اور مسجد کی زندگی کی طرف مسلمانوں کو واپس لانے کی سب سے منظم اور وسیع عوامی تحریک ہے جو اقتدار کی کشمکش اور سیاست کے جھمیلوں سے الگ تھلگ رہتے ہوئے خاموشی اور تسلسل کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں تبلیغی جماعت کے بڑے بڑے اجتماعات اور کم و بیش دنیا کے ہر حصہ میں تبلیغی جماعت کی عمومی نقل و حرکت دیکھ کر بہت سے حضرات کو یہ شکایت بھی ہوتی ہے کہ اس قدر وسیع عوامی رابطہ رکھنے کے باوجود تبلیغی جماعت مسلمانوں کے اجتماعی معاملات اور ملی مسائل میں دلچسپی نہیں لیتی اور قومی مشکلات و مصائب کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کرتی۔

چند برس پہلے کی بات ہے برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں اس حوالہ سے ایک مذاکرہ ہوا اور ایک عالم دین نے تبلیغی جماعت کے طریق کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغی جماعت کے مبلغین نہ جہاد کی بات کرتے ہیں اور نہ ہی اسلام دشمن قوتوں اور لابیوں کے خلاف زبان کھولتے ہیں بلکہ اپنے دائرہ کار میں شامل ہونے والوں کو ابتدائی چھ نکات ہی کے دائرہ میں محصور رکھتے ہیں۔ اس پر راقم الحروف نے عرض کیا کہ ہم اگر تبلیغی جماعت کے کام کی نوعیت کو سمجھ لیں تو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا کیونکہ میرے نزدیک تبلیغی جماعت اس وقت دو بنیادی کام کر رہی ہے۔

  1. ایک یہ کہ وہ عام مسلمان جس کا مسجد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسے ترغیب دے کر اور سمجھا بجھا کر تبلیغی بھائی کسی نہ کسی طرح مسجد میں لے آتے ہیں۔
  2. دوسرا کام وہ یہ کرتے ہیں کہ جس مسلمان کا مولوی کے ساتھ سرے سے کوئی جوڑ نہیں ہے اور وہ کسی عالم دین کے قریب ہونے سے گبھراتا ہے، اسے علماء کے احترام کا سبق دے کر اور یہ کہہ کر علماء کے سامنے لا بٹھاتے ہیں کہ دین کی بات تو علماء سے ہی پوچھنی چاہیے۔ اب اس سے اگلا کام علماء کا ہے کہ جس مسلمان کو تبلیغی بھائیوں نے مسجد کا راستہ دکھا دیا ہے اور مسجد کے اندر لا کر نماز کی صف میں علماء کے پیچھے کھڑا کر دیا ہے وہ اسے سنبھالیں اور اس کی دینی تعلیم و تربیت اور دین کے کسی شعبہ میں اسے فٹ کرنے کا اہتمام کریں۔ یہ ذمہ داری علماء کرام اور مسجد کے نظام کے ذمہ دار حضرات کی ہے، اور اگر ہم یہ کام بھی تبلیغی جماعت ہی کے ذمہ لگانا چاہیں تو یہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار اور تبلیغی جماعت اور عام مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

میں تبلیغی جماعت کو مسجد و مدرسہ اور دین کے دیگر شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘ کہا کرتا ہوں جو عام مسلمانوں کے گھروں میں جا کر اور ایک ایک دروازے پر دستک دے کر انہیں دین کے کام کے لیے بھرتی کرتی ہے اور گھیر گھار کر مسجد میں لے آتی ہے۔ اس کے بعد دین کے مختلف شعبوں کے ذمہ دار حضرات کا کام ہے کہ وہ انہیں سنبھالیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کر کے انہیں دینی محنت کے کسی نہ کسی کام میں کھپائیں۔ میرے خیال میں عملاً یہی ہو رہا ہے اور نمازیوں، دینی مدرسہ کے طلبہ اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں میں ایک بڑی تعداد آپ کو ایسے لوگوں کی نظر آئے گی جو تبلیغی جماعت ہی کی محنت سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ چنانچہ میرے نزدیک تبلیغی جماعت کو کام کی ’’محدودیت‘‘ کا الزام دینا اور ان پر ان کے دائرہ کار سے باہر کے کاموں کی ذمہ داری ڈالنا درست بات نہیں ہے اور تقسیم کار کے فطری اصول کے بھی منافی ہے۔

خیر بات رائے ونڈ کے سالانہ تبلیغی اجتماع کی ہو رہی تھی۔ راقم الحروف جب پنڈال میں داخل ہوا تو گوجرانوالہ کے اپنے محلہ ہی کے کچھ نوجوان مل گئے جو اپنے ٹھکانے پر لے گئے، وہاں لے جا کر بیٹھا تو حضرت مولانا جمشید صاحب اپنے مخصوص انداز میں دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمانوں سے مخاطب تھے اور یہ نکتہ سمجھا رہے تھے کہ انسانی زندگی کی گاڑی اپنے صحیح رخ پر اسی وقت چلے گی جب اسے کائنات کے خالق و مالک او رخود انسان کو تخلیق کرنے والی ذات ’’اللہ تعالیٰ‘‘ کی مرضی اور احکام کے مطابق چلایا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں مثال دی کہ ریل کا انجن بہت طاقتور ہے اور بہت سے ڈبوں کو کھینچ کر دوڑتا ہے لیکن وہ اتنا وزن لے کر اسی وقت دوڑے گا جب وہ اس پٹڑی پر چلے گا جو اس کے لیے بچھائی گئی ہے۔ اور اگر اسے اس پٹڑی سے ہٹ کر چلانے کی کوشش کی جائے گی تو وہ اپنا کام سرانجام نہیں دے سکے گا۔ اسی طرح انسانی زندگی بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ خطوط پر اسی کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق چلے گی تو کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچے گی اور اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہدایات کی پٹڑی سے اتار کر اسے چلایا جائے گا تو فساد اور خرابی کے سوا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

مولانا جمشید صاحب کا بیان عصر تک جاری رہا، عصر کے بعد نکاح کی محفل تھی۔ رائے ونڈ کے اجتماع میں دنیا بھر سے نیک لوگوں اور مبلغین کی آمد کو غنیمت اور باعث برکت سمجھتے ہوئے بہت سے لوگ نکاح اس موقع پر رکھ لیتے ہیں اور دعا سے ایک روز پہلے عصر کے بعد اجتماعی خطبہ نکاح پڑھ کر ان جوڑوں میں ایجاب و قبول کرا دیا جاتا ہے۔ اس سال نکاح کا خطبہ حضرت مولانا زبیر الحسن نے پڑھا اور اس سے قبل مختصر خطاب بھی کیا جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دنیا خواہشات پوری کرنے کی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی کی ہر خواہش یہاں کبھی پوری ہوئی ہے۔ یہ دنیا ضروریات پوری کرنے کی حد تک ہے اور خواہشات کی تکمیل اگلے جہان میں ہوگی۔ اگر ہم دنیا کی زندگی میں اپنی ضروریات پر قناعت کریں اور اگلے جہان میں جنت کے حصول کے لیے اپنی زندگی کی ترتیب بنا لیں تو یہ دنیا بھی پرسکون رہے گی اور آنے والی زندگی میں خواہشات پوری کرنے کے لیے جنت بھی مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شادی سنت ہے اور اسے جس قدر آسان اور سادہ رکھا جائے گا اتنی ہی بابرکت ہوگی۔ مگر ہم نے تکلفات اور بلاضرورت اخراجات کے ساتھ اسے اپنے اوپر بوجھ بنا لیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی کو سادہ بنائیں اور آخرت کی تیاری کریں۔

مولانا زبیر الحسن کے خطبہ کے بعد مختلف حلقوں میں پہلے سے طے شدہ ترتیب کے مطابق سینکڑوں جوڑوں میں ایجاب و قبول ہوا، اس کے بعد مولانا موصوف کی پرسوز دعا پر یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

   
2016ء سے
Flag Counter