پاک بھارت تعلقات : ایک جائزہ ۔ ڈاکٹر یوگندر سکند کا سوالنامہ

   
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۱ء

(ہمدرد یونیورسٹی دہلی کے شعبہ اسلامیات کے رکن ڈاکٹر یوگندر سکند کی طرف سے ارسال کردہ سوالنامہ کے جوابات)

سوال نمبر ۱: بھارت اور پاکستان دونوں اپنے قومی تشخص کی بنیاد ایک دوسرے کی مخالفت کو قرار دیتے ہیں۔ آپ کے خیال میں ایسی صورتحال میں دونوں ملکوں کے مابین پُراَمن تعلقات حقیقتاً ممکن ہیں؟

جواب: قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کے قومی تشخص کی بنیاد یہ تھی کہ جنوبی ایشیا کے مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور اپنے دین کے حوالے سے الگ تشخص رکھتے ہیں، اس لیے جس خطے میں ان کی اکثریت ہے وہاں ان کی الگ ریاست قائم ہونی چاہیے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایسٹ تیمور میں مسیحی اکثریت وہاں الگ ریاست کا باعث بنی اور اب جنوبی سوڈان اسی مسیحی اکثریت کے حوالے سے الگ ملک بننے جا رہا ہے۔ مگر قیامِ پاکستان کے بعد ہماری رولنگ کلاس، جس کی تربیت نو آبادیاتی ماحول میں ہوئی تھی اور وہ وہی نفسیات و مزاج رکھتی تھی، دین کی بنیاد پر تشخص اور قومی بنیاد اسے ہضم ہونے والی نہیں تھی۔ پھر اس کے ساتھ ہی برصغیر کی تقسیم کے ایجنڈے کو مسئلہ کشمیر کھڑا کر کے الجھا دیا گیا، اس لیے باہمی دشمنی کی بنیاد پر قومی تشخص کی روایت آگے بڑھتی گئی۔ میرے نزدیک یہ مصنوعی بنیاد ہے۔ اگر ہم اپنی اصل بنیاد کی طرف واپس لوٹ جائیں اور بھارت بھی اس کا عملی احترام کرے تو اس دشمنی کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ اگر سعودی عرب اور ایران کے ساتھ بھارت کے دوستانہ تعلقات و معاملات ہو سکتے ہیں تو ایک اسلامی پاکستان کے ساتھ کیوں نہیں ہو سکتے؟

سوال نمبر ۲: بھارت اور پاکستان دونوں میں انتہاپسند عناصر موجود ہیں (پاکستان میں اسلامی اور بھارت میں ہندو) جو دونوں ممالک کے مابین پُراَمن اور بہتر تعلقات کے شدت سے مخالف ہیں۔ اس مشکل پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟ اسلامی زاویہ نگاہ سے آپ اس صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: میرے خیال میں یہ بات شاید قرینِ قیاس نہیں ہے کہ پاکستان میں جن طبقات کو انتہاپسند اور شدت پسند سمجھا جاتا ہے، وہ بھارت کے ساتھ دشمنی کا اظہار اس لیے کرتے ہیں کہ وہ کافر اکثریت کا ملک ہے۔ اگر ایسا ہو تو ان کے جذبات چین کے بارے میں اسی طرح کے ہونے چاہئیں۔ اس لیے پاکستان کے انتہا پسند طبقوں کی شدت پسندی کے اسباب کچھ اور تلاش کرنے چاہئیں۔ غالباً مسئلہ کشمیر کے حل میں مسلسل تاخیر اور مشرقی پاکستان کی بنگلہ دیش کی صورت میں پاکستان سے علیحدگی میں بھارت کا کردار ان شدت پسندانہ جذبات کی اصل وجہ ہے اور اس مبینہ شدت پسندی کو کم کرنے کی کوئی بھی کوشش اس کے پسِ منظر کا لحاظ رکھے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔

سوال نمبر ۳: پاکستان کے انتہاپسند گروپ مثلاً لشکرِ طیبہ کا اصرار ہے کہ بھارت کے ساتھ پُراَمن تعلقات ممکن نہیں اور یہ کہ مسلمانوں کو ہر حال میں بھارت کے خلاف جہاد کرنا ہوگا تا آنکہ وہ ایک عظیم تر پاکستان میں ضم ہو جائے۔ اس موقف کے بارے میں آپ کے احساسات کیا ہیں؟ کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے؟

جواب: یہ جذبات دونوں طرف یکساں طور پر پائے جاتے ہیں۔ بھارت کے انتہاپسند ہندوؤں کا نعرہ اکھنڈ بھارت کا ہے اور پاکستان کے انتہاپسند مسلمان دہلی کے لال قلعے پر پاکستان کا پرچم لہرانے کا دعوٰی کرتے ہیں۔ یہ دونوں جذباتی باتیں ہیں۔ جب تک باہمی تنازعات کے حل کی کوئی صورت نہیں نکلتی یہ نعرے اسی طرح لگتے رہیں گے۔ اس کا راستہ تلاش کرنا دونوں طرف کے سنجیدہ راہنماؤں کی ذمہ داری ہے۔

سوال نمبر ۴: پاکستان کے انتہاپسند اسلامی گروپ مثلاً لشکرِ طیبہ کتبِ حدیث میں موجود ایک روایت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں غزوۃ الہند کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ اس غزوے میں شریک ہوں گے، وہ دوزخ میں نہیں جائیں گے۔ آپ کی رائے میں اس حدیث کا کیا درجہ ہے؟ کیا یہ صحیح اور متواتر ہے؟ کیا آپ کے خیال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ لشکرِ طیبہ جیسے گروہ اس سے مراد موجودہ حالات میں انڈیا کے خلاف جہاد کرنا لیتے ہیں اور کیا اس حدیث کی یہ تعبیر درست ہے؟

جواب: غزوہ ہند کی روایات موجود ہیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی پیش گوئیاں عالمی صورتحال میں پوری ہو چکی ہیں اور باقی بھی اپنے وقت پر پوری ہوں گی۔ لیکن ان کا وقت متعین نہیں ہے اور ان کی کسی بھی موقع پر تطبیق کرنا ایسا کرنے والوں کے اپنے ذوق، استنباط اور استدلال کے درجہ کی باتیں ہیں۔ ماضی میں بھی اس خطے میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی بہت سی جنگوں پر ان کا اطلاق کیا گیا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہوتا رہے گا۔ لیکن کیا قوموں اور ملکوں کی پالیسیوں اور تعلقات کی بنیاد ان پیش گوئیوں پر رکھی جا سکتی ہے؟ یہ بات محل نظر ہے۔ میرا خیال ہے کہ چونکہ ان پیش گوئیوں میں کوئی وقت طے نہیں کیا گیا اس لیے قوموں اور ملکوں کی پالیسیوں میں ان کو بنیاد بنانا درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ پیش گوئیاں پوری ہونا الگ بات ہے اور کسی پیش گوئی کو ازخود پورا کرنے کا عمل اس سے مختلف امر ہے۔ آج کے دور میں کسی مسلمان ملک کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد معروضی حالات، دو طرفہ مفادات اور مسلّمہ بین الاقوامی عرف و تعامل ہی ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے۔

سوال نمبر ۵: آپ کی سیاسی جماعت، جمعیت علماء اسلام کا پاک بھارت تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے علانیہ موقف کیا ہے؟

جواب: میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کا ایک غیر متحرک رکن ہوں اور اس کی پالیسی سازی اور قیادت میں میرا ایک عرصہ سے کوئی کردار نہیں ہے۔ جب کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن ہیں جو پاکستانی پارلیمنٹ کی قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے بہتر تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے، وہ اگر بین الاقوامی معاہدات و اعلانات اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہو جائے تو باقی تنازعات و معاملات میں مثبت پیشرفت ہو سکتی ہے۔

سوال نمبر ۶: آپ کے خیال میں مسلم اور ہندو مذہبی قائدین دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے میں اگر کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں تو وہ کیا ہے؟ کیا اب تک فروغِ امن کی کوششوں کے حوالے سے ان قائدین کی غیر فعالیت یا خاموشی کے ان تعلقات پر کوئی منفی یا مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں؟

جواب: مسلم اور ہندو مذہبی قائدین کے درمیان ملاقاتوں اور مکالمہ کی کوئی صورت نکل سکے تو اس سے فائدہ ہوگا، لیکن یہ مکالمہ باہمی مشترکات کے فروغ، شدت پسندی کو کنٹرول کرنے اور خطے کے امن اور ترقی کے حوالے سے ہو۔ میرا خیال ہے کہ مذہبی راہنما اگر خلوص کے ساتھ مل بیٹھیں تو وہ زیادہ بہتر تجاویز دے سکتے ہیں۔

سوال نمبر ۷: جمعیت علماء ہند نے حال ہی میں دارالعلوم دیوبند میں ایک بڑا کنونشن منعقد کیا ہے جس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ جموں اور کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق یا خود مختاری کے خلاف ہیں (جب کہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت بھی کی ہے)۔ ایک پاکستانی، ایک عالم اور ایک دیوبندی جماعت کے رکن کی حیثیت سے آپ اس موقف کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اس مسئلہ کو قومی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ کسی بھی ملک کی کسی کمیونٹی کے لیے قومی مسائل میں قومی موقف سے انحراف مناسب نہیں ہوتا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے پاکستان میں رہنے والی ہندو اقلیت کشمیر سمیت تمام قومی مسائل میں قومی موقف کی تائید کرتی ہے اور کم و بیش ہر ملک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

سوال نمبر۸ : آپ کے خیال میں مسئلہ کشمیر کے حل کا بہترین، معقول ترین اور عملی حل کیا ہو سکتا ہے؟ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات کیا کہتی ہیں؟

جواب: مسئلہ کشمیر کے حل کی دو ہی اصولی بنیادیں ہیں: مسلّمہ بین الاقوامی معاہدات اور کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی۔ اس سے ہٹ کر کوئی حل شاید ہی کامیاب ہو سکے۔ اگر اقوام متحدہ ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان میں استصواب رائے کرا سکتی ہے تو کشمیر میں استصوابِ رائے کروانے میں اسے ٹال مٹول سے کام نہیں لینا چاہیے اور میرے خیال میں یہی اسی مسئلے کا صحیح حل ہے۔

سوال نمبر ۹: پاکستان کے انتہاپسند اسلامی گروہ بھارت اور ہندوؤں کی شدید مخالفت پر مبنی آئیڈیالوجی کا پرچار کرتے اور اسلام کی تعبیر بھی اس کے مطابق کرتے ہیں۔ (اسی طرح ہندو انتہا پسند گروپ بھی بھارت میں پاکستان اور اسلام کی شدید مخالفت پر مبنی آئیڈیالوجی کا پرچار کرتے ہیں۔) آپ کی رائے میں اس انتہاپسندانہ اسلامی موقف کے منفی اثرات ہندوؤں کو دعوتِ اسلام دینے کی ذمہ داری پر کیا پڑتے ہیں جن میں بھارت کے ہندو بھی شامل ہیں اور پاکستان کی ہندو اقلیت بھی؟

جواب: میرے خیال میں دونوں طرف صورتحال ایک جیسی ہے۔ مسلمانوں کے ایک بڑے حصے میں بھارت اور ہندوؤں کے خلاف شدید مخالفت پائی جاتی ہے اور ہندوؤں کے ایک بڑے حلقے میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اسی درجہ کی شدید مخالفت کا رویہ بھی موجود و متحرک ہے۔ اسی طرح دعوت کے میدان میں ہندوؤں کو مسلمان کرنے کا جذبہ بھی پایا جاتا ہے اور ہندوستان کے بہت سے مسلمانوں کو ہندو مذہب سے منحرف قرار دے کر واپس ہندو مذہب میں شامل کرنے کی تحریک بھی کام کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں طرف کے اعتدال پسند راہنماؤں کو کردار ادا کرنا چاہیے جس کا دائرہ باہمی گفتگو اور مشترکہ جذبہ کے ساتھ ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ منافرت، دشمنی اور ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کا ماحول دونوں طرف سے دعوت کے عمل میں رکاوٹ ہے۔ اس کا دونوں طرف کے سنجیدہ راہنماؤں کو جائزہ لینا چاہیے۔

سوال نمبر۱۰ : بھارت اور ہندو مخالف جذبات کے، جنہیں دوسرے عوامل کے علاوہ نام نہاد اسلامی عناصر بھی بھڑکاتے ہیں، پاکستان کی ترقی پر مثبت یا منفی اثرات کیا مرتب ہوئے ہیں؟ کیا اس کو فرقہ وارانہ، طبقاتی اور علاقائی تقسیم کے تناظر میں پاکستانی قوم میں اتحاد پیدا کرنے کا ذریعہ بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، جیسا کہ اس رویے کے حامیوں نے کوشش کی ہے؟ کیا یہ پاکستانی قوم یا مسلمانوں میں وحدت پیدا کرنے کا ایک فی الواقع اسلامی منہج ہے؟

جواب: میرے خیال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان قومی سطح پر دشمنی کے جذبات کا ماحول برقرار رکھنا عالمی استعمار کی طے شدہ پالیسی اور ایجنڈے کا حصہ ہے جو دونوں ملکوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے اور شاید عالمی ایجنڈے کا بنیادی ہدف بھی یہی ہے۔ سوال نمبر ۱ کے جواب میں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ ماحول مصنوعی ہے۔ پاکستان میں قوم کی وحدت کی اصل بنیاد بھارت دشمنی نہیں، بلکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ محبت و عقیدت ہماری قومی وحدت کی اصل اساس ہے جس کا اظہار ابھی حال میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کے حوالے سے قوم کے کم و بیش تمام طبقات نے متحد ہو کر ایک بار پھر کر دیا ہے۔

سوال نمبر ۱۱: پاکستان کے اسلامی گروپوں کی طرف سے بھارت اور ہندو مخالف جذبات کو ہوا دینے کی پالیسی کے مضمرات بھارت کی مشکلات کا شکار مسلم اقلیت کے حوالے سے کیا ہیں؟ کیا پاکستانی گروہوں نے اس بات پر کبھی غور کیا ہے کہ ان کے بھارت مخالف رویے کے یقینی طور پر منفی اثرات بھارتی مسلمانوں کی زندگیوں، تحفظ اور بھلائی پر پڑیں گے اور اس سے بھارت کے انتہا پسند ہندو گروپوں کو تقویت ملے گی؟

جواب: یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کی طرف سے ہندوؤں اور بھارت کے خلاف شدت پسندانہ جذبات کے اظہار کے اثرات بھارت کی مسلمان اقلیت پر پڑتے ہیں، لیکن یہ بات سوچنے کی ہے کہ بھارت میں اسلام اور پاکستان کے خلاف شدت پسندانہ جذبات کے اظہار کے اثرات پاکستان میں بسنے والی ہندو اقلیت پر کیوں نہیں پڑتے؟ اگر اس پہلو سے تقابل کیا جائے تو دونوں طرف کی صورتحال ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔ میرے خیال میں بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کا بھارتی قومیت کے ساتھ مضبوط تعلق اور بھارت کے امن و ترقی کے لیے ان کا بھرپور کردار اس قدر مستحکم ہے کہ اس طرح کے اثرات سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا، البتہ یہ بات اصولی طور پر درست ہے کہ کسی بھی معاملے میں شدت پسندانہ رویہ بہرحال ٹھیک نہیں ہوتا۔ اعتدال اور توازن کا راستہ ہی ہر دور میں بہتر اور مفید رہا ہے اور دونوں طرف سے اس کا لحاظ رکھا جانا چاہیے۔

   
2016ء سے
Flag Counter